پاکستانیوں کی اسرائیلی صدر سے ملاقات پر ہلچل

اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کی جانب سے امریکا میں مقیم پاکستانیوں کے وفد سے اپنی ملاقات کی تصدیق نے پاکستان میں ہلچل مچا دی ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا یہ سب پاکستانی فیصلہ سازوں کی منظوری سے ہوا؟

یاد رہے کہ اسرائیلی صدر نے پاکستانیوں کے وفد سے اپنی ملاقات کو حیرت انگیز تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اسرائیل اور مسلم دنیا کے درمیان تعلقات میں بڑی تبدیلی کی ایک مثال ہے۔ صدر آئزک ہرزوگ نے یہ بات سوئٹرز لینڈ میں عالمی اقتصادی فورم کے ڈیووس میں جاری اجلاس کے دوران خصوصی خطاب کے دوران کی۔ آئزک ہرزوگ کا کہنا تھا کہ انہوں نے حال ہی میں کچھ ایسے وفود سے ملاقات کی جو ’ بڑی تبدیلی‘ کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اگلے روز بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی جو امریکا میں رہائش پذیر ہیں، ان کے ہمراہ ملک اور خطے کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’اور میرے لیے یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ ایک حیرت انگیز تجربہ تھا، ہمارے پاس اسرائیل میں پاکستانی رہنماؤں کا کوئی گروپ نہیں ہے اور یہ سب ابراہم معاہدے سے ممکن ہوا ہے یعنی یہودی اور مسلمان خطے میں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں‘۔

یاد رہے کی پچھلے کچھ عرصے سے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے قریب سمجھے جانے والے کامران خان اور مبشر لقمان ٹائپ کے صحافی پاکستان اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات قائم کرنے کے حق میں مہم چلا رہے ہیں۔ عمران خان کے دور حکومت میں اس مہم میں تب تیزی آئی جب میڈیا میں یہ خبریں آئیں گے عمران خان کے قریب ترین ساتھی زلفی بخاری نے اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا ہے۔ اپنے حالیہ انکشاف میں اسرائیلی صدر آئزک نے ان پاکستانیوں کی تفصیلات تو نہیں بتائیں جن سے انہوں نے ملاقات کی تھی تاہم اسرائیل تنظیم ’شراکہ‘ نے بتایا ہے کہ اس نے امریکی پاکستانیوں کے وفد کی ملاقات کے انتظامات کیے تا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں امن کو فروغ‘ دیا جا سکے۔ سول گروپ شراکہ 2020ء میں ابراہیم معاہدے پر دستخط اور متحدہ عرب امارات اور بحرین کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد قائم کیا گیا تھا۔ یہ گروپ اسرائیل کو خلیجی ممالک سے ملانے کے لیے کام کرتا ہے۔

پاکستانیوں کے وفد کی اسرائیلی صدر سے ملاقات کے انکشاف نے پاکستان میں کھلبلی مچا دی ہے اور تنقید کا طوفان برپا کر دیا یے۔ یاد رہے کہ پاکستان، اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا لہٰذا اس کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، پاکستان فلسطینی ریاست کے مطالبات کا سخت حامی رہا ہے۔ پاکستان کا موقف یے کہ وہ اسرائیل کو تب تک تسلیم نہیں کر سکتا جب تک ’مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل‘ نہیں مل جاتا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل ہو، جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدیں ہوں اور القدس الشریف کو ایک قابل عمل، خود مختار اور دارالحکومت کے طور پر رکھا جائے۔

تاہم دونوں ممالک نے طویل عرصے سے نچلی سطح پر غیر اعلانیہ رابطے برقرار رکھے ہیں اور واحد معلوم بات چیت یکم ستمبر 2005 کو اس وقت کے وزیر خارجہ خورشید قصوری اور ان کے اسرائیلی ہم منصب سلوان شالوم کے درمیان ہوئی تھی۔ تاہم مشرف کے اقتدار سے برطرف ہونے کے بعد یہ معاملات آگے نہیں بڑھ پائے تھے۔

بتایا جائے ای سی ایل رولزتبدیلی سے کن اراکین کو فائدہ ہوا

اسرائیلی صدر سے ملاقات کرنے والے لوگوں میں امریکا میں مقیم لابسٹ پاکستانی نژاد انیلا علی بھی شامل تھیں جنہوں نے وفد کی سربراہی کی۔ انیلا اس ملاقات سے پہلے عمران کے دور حکومت میں پاکستان بھی آئی تھیں اور ان کی کئی اہم حکومتی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئی تھیں جن میں وفاقی وزیر علی زیدی بھی شامل تھے۔ انکے علی زیدی اور ان کی فیملی سے قریبی تعلقات ہیں۔

اسرائیلی صدر سے ملنے والوں میں پاکستانی میڈیا کے کچھ چہرے بھی شامل تھے۔ پاکستانی امریکیوں کے وفد میں سرکاری ٹی وی سے منسلک صحافی احمد قریشی بھی شامل تھے۔ لہذا جب سابقہ حکومت کی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے اس دورے پر تنقید کی تو احمد قریشی نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس دورے کے تمام تر انتظامات عمران خان کے دور حکومت میں ہوئے تھے اور وہ اسرائیل اور پاکستان کے مابین سفارتی تعلقات بحال کرنے کے حامی تھے۔ شیریں مزاری کو جواب دیتے ہوئے احمد قریشی نے کہا آج کی خودساختہ پی ٹی آئی اسرائیلی مخالف 2005 میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجیک اسٹڈیز کی ڈائریکٹر جنرل تھیں جب ان کے باس اس وقت کی مشرف حکومت کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے ترکی میں پہلی پاکستان اسرائیل میٹنگ کی تھی۔ تب موصوفہ نے اعتراض نہ کر کے اپنی نوکری بچائی۔ احمد قریشی نے اپنے ٹویٹ میں خورشئد قصوری کی اسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کی تصاویر بھی شیئر کی۔

یاد رہے کہ شیریں مزاری نے اسرائیل کے دورے کو ’امپورٹڈ حکومت اور اسکے سہولت کاروں کی طرف سے حکومت کی تبدیلی کی سازش کے تحت امریکا سے کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔ انہوں نے ٹوئٹ میں اسے ’شرمناک تابعداری‘ قرار دیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما عمران اسمٰعیل نے کہا کہ وہ تمام لوگ جنہوں نے عمران خان کو ساری زندگی ’یہودی ایجنٹ‘ کہا تھا اب وہ ’سرٹیفائیڈ یہودی ایجنٹ اور غلام‘ ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس شرمناک غلامی کی وجہ سے قوم کا غیرت نیلام ہو رہا ہے۔ تاہم وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان کے کسی سرکاری یا نیم سرکاری وفد نے اسرائیلی صدر سے ملاقات نہیں کی- ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اس وفد کے شرکا پاکستانی نژاد امریکی شہری تھے جو اپنی وضاحت کر چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی پالیسی واضح ہے اور وہ ریاست اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی، ہماری تمام تر ہمدردیاں اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے صحافی احمد قریشی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کے اس دورے کے متعلق تمام تر فیصلے عمران خان کے دور حکومت میں ہوئے تھے اور موجودہ حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ ویسے بھی عمران کی طرح اسرائیل کے یہودیوں سے ہماری کوئی رشتے داری نہیں ہے۔

Related Articles

Back to top button