عمران اور ان کی جماعت سنگین ترین بحران کا شکار

عمران خان کی زیر قیادت تحریک انصاف اپنے وجود میں آنے کے بعد سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے باعث پہلی مرتبہ ایک ایسے سنگین بحران سے دوچار ہوئی ہے جس سے نکلنا اسکے لئے کافی مشکل نظر آتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف پر غیر ملکی ممنوعہ فنڈنگ کا الزام ثابت ہونے کے بعد عمران اور انکی جماعت دونوں کو لاتعداد قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی بہت سے صارفین یہ سوال پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ کیا ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہونے کے بعد تحریک انصاف پر پابندی لگ جائے گی اور کیا عمران خان کو اس کیس کے نتیجے میں الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جو خود تحریک انصاف کی حکومت کے دوران سٹیٹ بینک آف پاکستان نے الیکشن کمیشن کو فراہم کیے تھے لہذا ان کی بنیاد پر تحریک انصاف اور عمران خان کا بچنا مشکل ہے۔

عمران خان کا ‘بندہ ایماندار ہے’ کا بت کیسے پاش پاش ہوا؟

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں نے تحریک انصاف اور اس کی قیادت کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کی روشنی میں ایک ڈکلریشن جاری کرے گی جس کے جاری ہونے کے پندرہ روز کے اندر اس بارے میں ایک ریفرنس سپریم کورٹ بھیجا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے چیف جسٹس سے اس معاملے کی سماعت کے لیے فل کورٹ بنانے کی استدعا کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ اس ڈکلریشن اور ریفرنس میں دیے گئے حقائق سے متفق ہوتی ہے تو پھر نہ صرف تحریک انصاف کو کالعدم جماعت قرار دیا جائے گا بلکہ اس کی قیادت کے خلاف بھی ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت غیر ملکی ایجنڈے پر کام کر رہی تھی۔

واضح رہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو عمران خان نے اپنے دور حکومت میں اس عہدے پر فائز کیا تھا اور ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ اس سے بہتر چوائس اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر اور پی ٹی آئی حکومت کے درمیان اختلافات اس وقت کُھل کر سامنے آئے جب سینیٹ کے انتخابات میں ووٹنگ خفیہ رائے شماری کی بجائے ہاتھ کھڑے کرنے سے متعلق صدارتی ریفرنس میں الیکشن کمیشن نے اس کی مخالفت کی تھی۔

ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف اور عمران خان کو اس وقت ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ قانونی ماہرین اپنے اپنے طور پر اس فیصلے کی تشریح کر رہے ہیں بعض کے نزدیک اس فیصلے کا کوئی اثر نہیں ہوگا اوریہ صرف شو کاز نوٹس تک ہے اور زیادہ سے زیادہ فنڈز ضبط ہو سکتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب ایسے ماہرین بھی ہیں جو اس فیصلے کو ایک بڑا فیصلہ سمجھتے ہیں جس کی بنیاد پر سخت فیصلے ہو سکتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان کے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 اور الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 204 کو دیکھیں تو اس میں فارن فنڈنگ یا بیرونی ممنوعہ فنڈنگ کا ذکر ہے جس کی بنیاد پر عمران خان اور ان کی جماعت کافی مشکل میں گھر چکے ہیں۔

اس قانون میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شراکت داری یا چندہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر کسی بھی غیر ملکی ذریعے سے ہو چاہے وہ کسی بیرونی ملک سے ہو، کسی ملٹی نیشنل پبلک یا پرائیویٹ کمپنی، کوئی پروفیشنل ادراہ یا انفرادی طور ممنوعہ فنڈنگ ہو گی۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ممنوعہ فنڈنگ ہو تو اس کو بحق سرکار ضبط کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں پارلیمانی ترقی کے لیے کام کرنے والے ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے بتایا کہ جس قانون کے تحت یہ ممنوعہ فنڈنگ کی کارروائی ہو رہی تھی اس کے تحت کمیشن نے اس کی صرف تحقیق کرنی تھی کہ آیا ممنوعہ فنڈنگ ہوئی ہے یا نہیں اور کمیشن نے فیصلہ دے دیا ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہو گئی ہے۔ اس بارے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے مطابق جرم ثابت ہوا ہے سٹیٹ بینک اور دیگر اداروں میں فنڈنگ کے شواہد الیکشن کمیشن کو پیش کیے گئے ہیں اور اس کا فیصلہ تین سے چار ماہ میں ہو سکتا تھا لیکن اس کو آٹھ سال تک طول دیا گیا ہے اور اس کی وجہ پی ٹی ائی کی جانب سے تاخیری حربے تھے۔

انھوں نے کہا کہ اس بارے میں الیکشن کمیشن نے قانون کے مطابق کارروائی کی ہے حالانکہ پی ٹی آئی کی جانب سے کمیشن پر بھر پور دباؤ بھی ڈالا گیا تھا۔ دباؤ ڈالنے کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ عمران خان جانتے تھے کہ انہوں نے کیا گھپلے کئے ہیں اور اس جرم کی کیا سزا ہے؟

لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے مسلسل پانچ برس الیکشن کمیشن میں پارٹی اکاؤنٹس کے حوالے سے جو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے ان میں جھوٹ واضح ہوا ہے اور اس کے علاوہ بھی الیکشن کمیشن کے پاس ایسے شواہد ہیں جس سے ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب پارٹی سربراہ جھوٹے سرٹیفکیٹ پیش کریں تو وہ صادق اور امین کیسے ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں نہ صرف عمران عوامی عہدے کے لیے تاحیات نااہل ہو سکتے ہیں بلکہ ان کی پارٹی کو بھی کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔

Related Articles

Back to top button