کسان کاشتکاری چھوڑنے پر مجبور کیوں ہونے لگے؟

بجلی اور ڈیزل کی قیمتوں میں آئے روز ہوشربا اضافے نے محدود وسائل رکھنے والے کسانوں کو کاشتکاری چھوڑنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا ہے۔ حافظ آباد کے کاشتکار محمد اشرف کا خاندان پہلے 10 ایکڑ زمین پر چاول کاشت کرتا تھا اور سالانہ خرچ نکال کر اتنے پیسے بچ جاتے تھے کہ گزر بسر آرام سے ہو سکے لیکن اب مہنگی بجلی اور مہنگے ڈیزل کی وجہ ایسا ممکن نہیں رہا، تین برسوں سے وقت پر بارشیں نہیں ہو رہیں، یہ بھی اتنا بڑا مسئلہ نہیں کیونکہ پانی کی کمی وہ ٹیوب ویل چلا کر پوری کر لیتے ہیں۔
انہوں نے بارشوں کے بدلتے رجحان کو دیکھتے ہوئے کچھ برس قبل 30 ہزار روپے میں ایک استعمال شدہ ڈیزل انجن خرید لیا تھا، اس میں لگ بھگ دو ڈرم ڈیزل استعمال ہوتا ہے اور ایک دو ماہ میں محمد اشرف کی 10 ایکڑ پر پھیلی چاول کی فصل تیار ہو جاتی، لیکن یہ ان دنوں کی بات ہے جب ڈیزل کی قیمت کم ہوا کرتی تھی لیکن اب گزارا مشکل ہے، کیونکہ ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، ایسے میں محمد اشرف کے خاندان نے کاشتکاری چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
پنجاب کا ضلع حافظ آباد اور اس کے گرد و نواح کے اضلاع چاول کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں اور مشہور ہیں، یہاں اُگنے والا چاول نہ صرف پاکستان میں خوراک کی مقامی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ ملک کے لیے زرِ مبادلہ کمانے کا بھی بڑا ذریعہ ہے، اس میں چھوٹے اور درمیانے درجے یعنی 10 سے 25 ایکڑ کے مالک کاشتکاروں کا حصہ بہت بڑا ہے، چاول کو پانی کی فصل کہتے ہیں، بوائی سے پودے کے کئی انچ اونچا ہونے تک اسے مسلسل پانی کی ضرورت رہتی ہے۔
محمد اشرف نے بتایا کہ گذشتہ برس چاول کاشت کرنے کے موسم میں بھی بارشیں کم ہوئی تھیں لیکن تب انھوں نے ٹیوب ویل چلا کر گزارا کر لیا تھا۔ تب ڈیزل کا ایک ڈرم 19 ہزار روپے میں بھر جاتا تھا۔ اس بار وہی ڈرم انہوں نے 47 ہزار میں بھرا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ابھی میں دو ڈرم 95 ہزار روپے میں بھروا کر لایا ہوں، اشرف کہتے ہیں کہ ڈیزل کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ہی کھاد کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا۔ اس طرح چاول کی فصل کی کاشت کے لیے جن اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے وہ دو سے تین گنا بڑھ گئے ہیں، یوں فصل اٹھانے پر محمد اشرف کو جو منافع بچتا تھا اس کا ایک بڑا حصہ کم ہو گیا ہے۔
یہی حال سیالکوٹ کے ایک چھوٹے زمیندار خان محمد کا بھی ہے۔ انھوں نے اس برس صرف پانچ ایکڑ پر چاول کاشت کیا۔ وہ اس سے زیادہ کاشت کرنا چاہتے تھے لیکن ڈیزل مہنگا ہونے کی وجہ سے ان کے پاس زیادہ اخراجات کے پیسے نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’بارشیں اچھی نہیں ہوئیں اور اس کے دو ڈرم ڈیزل کے ابھی تک خرچ ہو چکے ہیں لیکن آگے اور ضرورت پڑے گی، ان حالات میں مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں کوئی بچت ہوگی۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے صرف چھوٹے کاشتکاروں ہی کو نقصان نہیں ہوا بلکہ درمیانے اور بڑے درجے کے کاشتکار بھی اس کا اثر محسوس کر رہے ہیں، ضلع لیہ کے رہائشی رشید شاہ لگ بھگ 150 ایکڑ پر چاول کاشت کرتے ہیں، ان کے زیادہ تر ٹیوب ویل بجلی پر چلتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ’انجن پر لگے جنریٹر کی مدد سے ہم 10 واٹ کی موٹر آرام سے چلا لیتے ہیں جو ٹیوب ویل کو چلاتی رہتی ہے، ٹریکٹر کی مدد سے ہم تین ایسی موٹریں چلا لیتے ہیں لیکن ٹریکٹر میں ڈیزل زیادہ استعمال ہو جاتا ہے۔
حال ہی میں رشید شاہ نے اس مسئلے کا زیادہ پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے شمسی توانائی کی مدد سے ٹیوب ویل چلانے کا فیصلہ کیا، اس کا آغاز بنیادی طور پر ایک فش فارم سے ہوا جو ڈیڑھ ایکڑ پر بنا ہوا ہے، اسی فارم کے ساتھ سولر پینل نصب کیے، ان پینلز کو موٹر کے ساتھ جوڑا جو ٹیوب ویل کو چلاتی ہے، ایسے موقعی پر جب تین حصے کھیت کو پانی لگایا جا چکا ہو اور اچانک بجلی چلی جائے تو اگر فوری طور پر پانی کی روانی کو برقرار نہ رکھا جائے تو اگلے ایک دو گھنٹے میں زمین کا وہ حصہ بھی سوکھ جاتا ہے جو سیراب ہو چکا ہوتا ہے۔
اس صورت میں تالاب میں ذخیرہ کیا گیا پانی کام آتا ہے اور اس کے لیے سولر بہترین ہے، اس تمام پر لگ بھگ آٹھ لاکھ روپے خرچ آیا تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ سولر سسٹم کی حفاظت کریں تو وہ اسے اگلے تقریباً 25 سال تک چلا سکتے ہیں۔ خان محمد بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر وہ سولر سسٹم لگوا لیں تو ان کا منافع کئی گنا بڑھ سکتا ہے، محمد اشرف بھی سولر کی افادیت کو مانتے ہیں لیکن ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ سولر سسٹم لگوا سکیں، خان محمد کے مطابق اگر حکومت ہم جیسے چھوٹے کسانوں کے ساتھ بھی تعاون کرے اور ہمیں سولر سسٹم لگوا کر دے تو ہماری ڈیزل کے خرچ سے مستقل جان چھوٹ جائے گی۔

بالآخر شاہ رخ خان کا بیٹا آریان خان بے گناہ ثابت ہو گیا

اُن کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اُنھیں آسان قرضوں پر سولر سسٹم لگوا کر دے تو وہ ہر مہینے یا ہر سہ ماہی قسطوں میں وہ قرض واپس کرتے رہیں گے، ایک اور کاشتکار ملک انوار حیدر کے مطابق سولر سسٹم کی طلب بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے، قیمت بڑھ جانے کی صورت میں ان جیسے کاشتکاروں کے لیے بھی اپنی مزید زمین پر اس سسٹم کی تنصیب مشکل ہو جائے گی۔
تاہم وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت اچھے داموں پر اچھی کمپنیوں سے سولر سسٹم برآمد کرے اور اس پر عائد ٹیکس ختم کر دے تو وہ اس کو بڑھانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ سنا ہے کہ جو 17 فیصد اضافی ٹیکس اس پر نصب کیا گیا تھا وہ ختم کر دیا گیا ہے اور اب اس کی قیمت نیچے آئے گی اگر ایسا ہو جائے اور کم قیمت اچھے سولر سسٹم ملیں تو میں ضرور اس کو اپنی زمین پر بڑھاؤں گا۔ ملک انوار حیدر کے مطابق حقیقی مسئلہ اس چھوٹے زمیندار کے لیے ہے جو اکیلا اس کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا، اس لیے حکومت کو چاہئے کہ وہ چھوٹے کاشتکاروں کو یہ سسٹم لگانے میں مدد کرے، ایک مرتبہ لگ جائے تو اس کے بعد اس کی دیکھ بھال پر کوئی خرچ نہیں آتا، اس لیے اسے برسوں تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔

Related Articles

Back to top button