نکاح کیس،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو ریلیف نہ مل سکا

دوران عدت نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو آج بھی ریلیف نہ مل سکا ۔

خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی کے دلائل مکمل نہ ہو سکے۔ سیشن عدالت کا ائندہ پورا ہفتہ مصروف ہونے کے باعث عدالت نے کیس کی سماعت 24 اپریل تک ملتوی کر دی۔

سیشنز جج شاہ رخ ارجمند نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلا سلمان اکرم راجہ، عثمان ریاض گِل اور خالد یوسف چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔

 پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب، اعظم سواتی، خالد خورشید اور فیصل جاوید بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے۔

شکایت کنندہ خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا سابق شوہر خاور مانیکا کی درخواست پر بانی پی ٹی آئی اور انکی اہلیہ کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا تھا، خاور مانیکا کی شکایت پر 496 اور 496 بی کی دفعات شامل کی گئیں تھی۔  ٹرائل کورٹ نے 496 بی کی دفعہ کو حذف کرکے 496 کے تحت سزا سنائی تھی۔ دونوں ملزمان نے فرد جرم عائد ہونے پر صحت جرم سے انکار کیا تھا۔ 1989 میں خاور مانیکا اور بشریٰ بی بی کی شادی ہوئی۔ خوشحال زندگی گزار رہے تھے اور بیچ میں بانی پی ٹی آئی داخل ہو گئے۔

راجہ رضوان عباسی ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ سی آر پی سی میں 496 کیا ہے اسی پر دلائل دونگا، کچھ چیزیں حقائق کے برعکس بتائی گئی۔ اس کیس میں کچھ چیزوں کیلئے میں بلیک لاء ڈکشنری کا سہارا لونگا۔ اس کیس میں دو بڑے اہم گواہان کے بیانات موجود ہیں۔ کیس کے اہم گواہان کے مطابق عدت کے دوران نکاح کیا گیا، نکاح خواں نے دونوں سے نکاح کے تمام تر تقاضے مکمل ہونے کا پوچھا تھا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نکاح سے متعلق میٹیریل کیلئے بانی پی ٹی آئی سے بھی پوچھا گیا تھا؟

رضوان عباسی نے موقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہی نکاح خواں کو دوبارہ نکاح کیلئے کہا تھا، شواہد موجود ہیں کہ دونوں عدت میں نکاح سے متعلق آگاہ تھے، بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کے وکلاء شواہد کو جھٹلا نہیں سکتے۔ بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کی شادی فراڈ تھی جو ثابت ہوئی۔ خاور مانیکا کو عدت میں رجوع کرنے کے حق سے محروم رکھا گیا، بچوں سے بھی حقوق چھین لیے گئے۔

نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا سیاسی اتحاد کب تک قائم  رہے گا؟

Back to top button