منحرف اراکین نااہلی سے بچنے کیلئے آئین کا سہارا لینے لگے

تحریک انصاف کے منحرف اراکین نے نااہلی کی سزائوں سے بچنے کے لیے آئینی سہارا لیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے سامنے استدعا کی کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کے پیچھے موجود روح کو روندنے سے باز رہا جائے۔
یاد رہے کہ اگر حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے اراکین پنجاب اسمبلی نااہل ہو جاتے ہیں تو حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔
اپنے خلاف نااہلی ریفرنسز کا دفاع کرتے الیکشن کمیشن کے سامنے منحرف اراکین پنجاب اسمبلی میں سے زیادہ تر نے مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز شریف کے حق میں ووٹ دینے کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں پارٹی سے کوئی ہدایت نہیں ملی۔ اراکین نے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں کبھی شوکاز نوٹس موصول نہیں ہوئے جو رکن کو منحرف قرار دینے کیلئے ایک لازمی ضرورت ہے۔
ای سی پی کے تین رکنی بینچ کے روبرو پی ٹی آئی کی نمائندگی کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے دلیل دی کہ آرٹیکل 63 اے کے پیچھے ایک مقصد سیاست سے انحراف کو ختم کرنا ہے، سینیٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر منحرف ہونے والوں کو ڈی سیٹ نہ کیا گیا تو یہ انحراف کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہوگا۔ پی ٹی آئی کے وکیل فیصل فرید نے کہا کہ 25 اراکین صوبائی اسمبلی کو 7 اپریل کو ایک ہوٹل میں وزیراعلیٰ کے فرضی انتخاب‘ میں حصہ لینے پر شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے، اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ دینے سے انکار نہیں کیا اور جان بوجھ کر اپنی پارٹی کے مؤقف کو نقصان پہنچایا۔
وزیراعظم کو حنیف عباسی کے تقرر پر نظر ثانی کا حکم
پی ٹی آئی کے منحرف اراکین نے اپنے جوابات میں انحراف کے اعلان کی صداقت اور ان کی نااہلی کے لیے اختیار کیے گئے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے، علیم خان نے اپنے جواب میں کہا کہ پارٹی سربراہ کی جانب سے انحراف کا اعلان ’قانونی اختیار کے بغیر‘ کیا گیا اور یہ قانون کی نظر میں باطل ہے۔ ایک اور رکن صوبائی اسمبلی ملک اسد علی نے اسی آرٹیکل کی مبینہ خلاف ورزی جس کی وجہ سے انہیں نااہلی کے مقدمے کا سامنا ہے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ انحراف کے مجرم نہیں ہیں، کمیشن کی جانب سے معاملے کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔ یاد رہے کہ اگر حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی الیکشن کمیشن کے ہاتھوں نااہل ہوتے ہیں تو حمزہ کی وزارت اعلیٰ بھی دھڑام سے نیچے آن گرے گی۔
