پرانے ٹھگ

تحریر:مظہربرلاس، بشکریہ : روزنامہ جنگ
وہ لوگ جو گزشتہ چالیس پچاس سال سے برسر اقتدار ہیں، کئی کئی باریاں لے چکے ہیں اور اب فرما رہے ہیں کہ ’’اب اگر موقع ملا تو قوم کی تقدیر بدل دیں گے‘‘۔ حیرت ہے اقتدار کے یہ پجاری دیئے گئے مواقع میں کیا کرتے رہے؟ یہ بازی گر ہر الیکشن سے پہلے ایسے ہی ناٹک کرتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر عربی ادب سے ماخوذ قصہ یاد آتا ہے، قصہ یوں ہے ’’ایک شاطر اور ماہر چور نے چوری کی خاطر، مہنگا لباس پہن کر معزز شیخ کا روپ دھارا اور صرافہ بازار میں ایک دکان کے اندر چلا گیا۔ جونہی سنار نے اپنی دکان میں نورانی چہرے اور رئیس دکھائی دینے والے شیخ کو دیکھا تو اسے یوں لگا جیسے اس کی کھوٹی قسمت ہری ہو گئی ہو۔ چھوٹی سی دکان میں وہ خوشی سے اپنی سیٹ سے اٹھا اس نے آگے بڑھ کر شیخ کا استقبال کیا۔ شیخ کا روپ دھارے ہوئے ماہر چور نے سنار سے کہا آپ سے خریداری ضرور ہوگی مگر پہلے مسجد بنانے میں اپنی سخاوت دکھائیں خواہ وہ ایک درہم ہی کیوں نہ ہو۔
سنار نے چند درہم شیخ کے حوالے کئے اسی دوران ایک لڑکی جو درحقیقت چور کی ہم پیشہ تھی، دکان میں داخل ہوئی اور سیدھی شیخ کے پاس جا کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا، اور التجائیہ لہجے میں اپنے گھر والوں کے لئے خیر و برکت کی دعا کے لئے کہا۔سنار نے جب یہ حیران کن منظر دیکھا تو کہنے لگا، اے محترم شیخ! لاعلمی کی معافی چاہتا ہوں، میں آپ کو پہچان نہیں سکا۔لڑکی کو تعجب ہوا وہ سنار سے کہنے لگی، تم کیسے بدنصیب انسان ہو، برکت، علم، فضل اور رزق کا سبب خود چل کر تمہارے پاس آگیا ہے اور تم اسے پہچاننے سے قاصر ہو۔
لڑکی نے شیخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلاں علاقے کے مشہور و معروف شیخ ہیں، جنہیں خدا نے، کثرت علم، دولت کی فراوانی اور ہر قسم کی دنیاوی نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ انہیں انسانوں کے بھلے کے سوا کسی چیز کی حاجت نہیں، لوگ ان کے دیدار کو ترستے ہیں۔ سنار نے شیخ سے کہا کہ، جناب شیخ! میں معافی کا طلبگار ہوں، میرا سارا وقت اس دکان میں گزرتا ہے ،میں باہر کی دنیا سے بے خبر ہوں، اسلئے آپ جیسی برگزیدہ ہستی کو نہ پہچان پایا۔
شیخ نے سنار سے کہا، کوئی بات نہیں انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی پر نادم ہونے والا شخص خدا کو بہت پسند ہے۔ تم ایسا کرو ابھی میرا یہ رومال لے لو اور سات دن اس سے اپنا چہرہ پونچھتے رہو، سات دنوں کے بعد یہ رومال تمہارے لئے برکتوں والا ایسا رزق لائے گا جس کی تمہیں توقع بھی نہیں ہو گی۔ سنار نے ادب و احترام کے ساتھ رومال لیا، اسے بوسہ دیا، آنکھوں کو لگایا، اور اپنا چہرہ پونچھا، بس اس کے بعد وہ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ اس کے گرتے ہی شیخ اور اس کی ہم پیشہ لڑکی نے سنار کی دکان صاف کی اور رفو چکر ہوگئے۔
جب اس واقعہ کو چار سال بیت چکے تھے اور سنار رو دھو کر اپنا نقصان بھول چکا تھا کہ اچانک پولیس کی وردی میں ملبوس دو اہلکار سنار کی دکان پر آئے، ان اہلکاروں کے ساتھ وہی شیخ تھا جس نے چار برس پہلے سنار کی دکان صاف کی تھی مگر آج شیخ کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں۔ سنار نے دیکھتے ہی اسے پہچان لیا۔
ایک پولیس والا سنار کے پاس آکر پوچھنے لگا، کیا آپ اس چور کو جانتے ہیں؟ کیونکہ قاضی سے سزا دلوانے کے لئے آپ کی گواہی ضروری ہے۔ سنار نے کہا کیوں نہیں اس نے فلاں فلاں طریقہ واردات سے مجھے بے ہوش کرکے میری دکان لوٹ لی تھی۔پولیس والا شیخ کے پاس گیا اور اس کی ہتھکڑی کو کھولتے ہوئے کہنے لگا، تم نے جس طرح دکان لوٹنے کا جرم کیا تھا ٹھیک اسی طرح وہ ساری کارروائی دہراؤ تاکہ ہم طریقہ واردات لکھ کر گواہ سمیت قاضی کے سامنے پیش کرکے تم پر فرد جرم عائد کروا سکیں۔ شیخ نے بتایا کہ میں اس طرح دکان میں داخل ہوا اور یہ کہا، اور میری مددگار لڑکی آئی اس نے فلاں فلاں بات کی، پھر میں نے رومال نکال کر دکاندار کو دیا۔ اس سے منہ پوچھنے سے یہ بے ہوش ہو گیا۔
پولیس والے نے جیب سے ایک رومال نکال کر شیخ کو تھمایا، شیخ نے سنار کے پاس جاکر اسی طریقے سے اسے رومال پیش کیا تو پولیس والا سنار سے کہنے لگا، جناب آپ بالکل ٹھیک اسی طریقے سے رومال کو چہرے پر پھیریں جیسے اس دن پھیرا تھا۔ سنار نے اسی طرح کیا اور وہ پھر سے بے ہوش ہوگیا۔ شیخ نے اپنے دوستوں کی مدد سے دوبارہ دکان لوٹ لی جنہوں نے پولیس والوں کا بھیس بدل رکھا تھا‘‘۔
ہمارے سیاستدان بھی اسی طرز کے ہیں جو لوگوں کو کبھی ایک روپ میں دھوکہ دیتے ہیں تو کبھی دوسرے بھیس میں۔ پچھلے چالیس سالوں میں عوام کی تقدیر تو نہیں بدلی البتہ ہمارے بڑے بڑے سیاستدانوں کی جائیدادوں کا سلسلہ متحدہ عرب امارات سے ہوتا ہوا برطانیہ اور امریکہ تک پھیل چکا ہے، اس پھیلاؤ میں یورپ، کینیڈا اور آسٹریلیا بھی شامل ہیں۔ عوام کے حصے میں رسوائیوں کے سوا کچھ نہیں ۔ نئے الیکشن کے سامنے پرانے ٹھگ پھر سے جال بچھا رہے ہیں کہ بقول احمد فراز
رہبروں کے تیور بھی رہزنوں سے لگتے ہیں
کیوبا میں دنیا کے سب سے بڑے آئس کریم پارلر کا آغاز
کب کہاں پہ لٹ جائے قافلہ نہیں معلوم
