عمران خان سے ملاقات کسی کی خواہش پر نہیں کرائی جاسکتی: بیرسٹر عقیل ملک

 

 

وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کسی کی خواہشات کے مطابق نہیں کرائی جاسکتی، ملاقات کا اختیار سپرنٹنڈنٹ جیل کا ہے اور ملاقات جیل مینول کے مطابق ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی سیاسی نوعیت کی ملاقات کرنا چاہتی ہے۔

وزیر مملکت ملاقاتوں کا تمام معاملہ پریزن رولز کے مطابق ہوتا ہے، پی ٹی آئی سیاسی نوعیت کی ملاقات کرنا چاہتی ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کو 9 ماہ تک کسی سے ملنےنہیں دیاگیا، نوازشریف کی تین ہفتوں تک کسی سے ملاقات نہیں کرائی گئی اور نواز شریف جب جیل میں تھے تو ان سے ملاقات میں کوئی سیاسی بات نہیں ہوتی تھی۔

وزیر مملکت برائے قانون کا کہنا تھاکہ جب جیل سپرنٹنڈنٹ کہہ رہا ہےکہ عمران خان بالکل ٹھیک ہیں، اڈیالا جیل میں صرف قیدی نمبر 804 نہیں ہے دیگر قیدی بھی ہیں۔

عقیل ملک نے کہاکہ انتظامیہ کو سب کی سکیورٹی کا خیال رکھناہوتاہے،سکیورٹی کی صورت حال کو مدنظر رکھتےہوئے آئندہ منگل کو ملاقات کی اجازت دی جاسکتی ہے،ایسا امکان موجود ہے کہ سکیورٹی کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایک بہن یا وکیل کی ملاقات کرا ئی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی فیملی ان سے ملاقات میں سیاسی امور پر ہی بات کرتی ہے،احتجاج قانون و آئین کے دائرے میں رہ کر کریں،کسی نے منع نہیں کیا، حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کیلئے تمام اقدامات کرے گی۔

وزیر مملکت برائے قانون نے کہا کہ عمران خان کی ان کی بہنوں اور وکلا سے ملاقات تو ہوتی رہی ہیں، عمران خان کی ان کے بیٹوں سے بات چیت ہوتی رہی ہے، عمران خان کے بیٹے پاکستان آنے کو تیار نہیں۔

وزیر مملکت برائے قانون عقیل ملک نے کہا کہ عمران خان کو واٹس ایپ کالز کی سہولت بھی موجود رہی ہے،اڈیالا جیل میں کسی قیدی کو سہولت میسر نہیں کہ وہ واٹس ایپ پر کال کرسکے،اگر عدالت کا حکم ہوگا تو عمران خان کی ان کے بیٹوں سے کال پر بات کرادی جائے گی، سپرنٹنڈنٹ جیل از خود عمران خان کی ان کے بیٹوں سے کال پر بات نہیں کراسکتا، سپرنٹنڈنٹ جیل کا اختیار ایک حدتک ہے۔

 

Back to top button