بلوچستان سےپولیو کاایک اورکیس سامنے آگیا

بلوچستان کےضلع قلعہ عبداللہ سےپولیو کاایک نیا کیس سامنےآگیا۔
رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت کےحکام ن بتایا کہ قلعہ عبداللہ سے تعلق رکھنےوالے15 ماہ کےانیس خان نامی بچےمیں پولیو وائرس کی تصدیق ہوگئی۔
حکام کےمطابق بلوچستان میں رواں سال پولیوکے14 کیسزرپورٹ ہوئےجو پورے ملک میں سب سےزیادہ کیسزہیں۔پاکستان میں پولیو کےرپورٹ شدہ کیسز کی تعداد 21ہوگئی ہے۔
یاد رہے کہ 2 روز قبل کوئٹہ میں ایک اوربچےمیں پولیووائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں پولیو کےخاتمےکےلیےریجنل ریفرنس لیبارٹری کےایک افسرنےبتایا تھا کہ نیا کیس کوئٹہ ضلع میں ایک24 ماہ کےبچے میں رپورٹ ہوا۔
دریں اثنا، وزیر اعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو، عائشہ رضافاروق نےایک بیان میں بلوچستان میں پولیو کےکیسز میں اضافےپر گہری تشویش کااظہارکیااور حفاظتی پولیو ویکسین کی متعدد خوراکیں ہربچےتک پہنچانے کی اہمیت پ زور دیا تھا۔ہم جو کچھ دیکھ رہےہیں وہ بلوچستان کے کچھ حصوں میں ویکسینیشن کے چھوٹ جانےکا نتیجہ ہےجس نےوقت کےساتھ ساتھ وائرس کوپھلنےپھولنےاور زندہ رہنےکا موقع دیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے18ہزارسےزائد والدین کابچوں کی پولیوویکسی نیشن سےانکار
عائشہ رضا فاروق نےبتایا تھا کہ سرحدکےدونوں طرف کیسز کی زیادہ تعدادملک بھر میں بچوں کے لیےخطرے اور آئندہ پولیومہموں کےدوران ویکسین پلانے کی اہمیت کوواضح کرتی ہے۔صوبہ بلوچستان کی اعلیٰ قیادت بالخصوص وزیراعلیٰ، چیف سیکریٹری اورکوئٹہ کمشنر کی اعلیٰ سطح کی مصروفیات کابھی اعتراف کیا۔
