گورنر ٹیسوری کو بچانے کے لیے MQM کا صدر زرداری پر حملہ

 

 

 

وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے گورنر کامران خان ٹیسوری کو عہدے سے ہٹانے کی افواہیں گرم ہونے کے بعد ایم کیو ایم لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے ہمیشہ کی طرح بونگی مارتے ہوئے صدر آصف زرداری کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ فاروق ستار نے کہا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کو گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی سیاسی سرگرمیوں پر اعتراض ہے تو پھر آصف علی زرداری بھی ایک سیاسی صدر ہیں اور خیبر پختون خواہ اور پنجاب کے گورنر بھی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، لہذا ان تینوں کو آئینی عہدوں سے ہٹایا جائے۔

 

یاد رہے کہ آج کل اسلام آباد میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ گورنر سندھ ٹیسوری کو ہٹانے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور پہلے مرحلے میں انہیں 45 دن کی رخصت پر بھیجا جا رہا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر اعلیٰ ترین سطح پر مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور جلد عملی کارروائی متوقع ہیں۔ تاہم دوسری جانب گورنر سندھ نے ان اطلاعات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نہ تو رخصت پر جا رہے ہیں اور نہ ہی انہیں عہدے سے ہٹانے کا کوئی فیصلہ ہوا ہے۔ انکے بقول وہ معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور ایسی خبریں محض افواہیں ہیں۔

 

یاد رہے کہ کامران خان ٹیسوری نے 9 اکتوبر 2022 کو گورنر سندھ کے طور پر حلف اٹھایا تھا۔ انہیں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کوٹے پر اس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا حالانکہ پاور شیئرنگ فارمولے کے تحت سندھ کی گورنرشپ مسلم لیگ نون کو ملنی تھی۔ ٹیسوری کی تقرری تب کی اتحادی وفاقی حکومت کی منظوری سے عمل میں آئی تھی۔ گورنر بننے سے قبل وہ سنوارے کا کام کرتے تھے اور متحدہ قومی موومنٹ کہ رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا خرچہ اٹھایا کرتے تھے۔

 

گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی ٹیسوری نے سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر تنقید شروع کر دی تھی چونکہ وہ ایم کیو ایم کے کھاتے میں گورنر بنے تھے۔ انہوں نے بالخصوص کراچی میں بلدیاتی مسائل، امن و امان، صفائی ستھرائی اور شہری سہولیات کی فراہمی پر صوبائی حکومت کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا۔ حالیہ مہینوں میں ان کی تنقید میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے سخت ردعمل دیا۔

 

معلوم ہوا ہے کہ اب پیپلز پارٹی کی قیادت نے وزیر اعظم شہباز شریف سے رابطہ کر کے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ گورنر سندھ آئینی منصب پر فائز ہونے کے باوجود صوبائی حکومت کی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں، جو منصب کی غیر جانبداری کے تقاضوں کے منافی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گورنر ہاؤس کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور اس طرز عمل سے صوبے میں محاذ آرائی بڑھ رہی ہے۔ ادھر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی مختلف مواقع پر گورنر کے بیانات پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور صوبائی حکومت کے خلاف سیاسی بیانات دینا مناسب نہیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو سیاسی کردار ادا کرنا ہے تو وہ انتخابی سیاست میں آئے، اور گورنر کے غیر سیاسی منصب کو سیاسی محاذ آرائی کے لیے استعمال نہ کرے۔ انہوں نے یہ کہا کہ سندھ حکومت اپنی کارکردگی سے متعلق عوام کو جواب دہ ہے اور غیر ضروری تنقید سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

 

اس دوران کامران ٹیسوری نجی محفلوں میں یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بعض اہم حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔ وہ ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر کی حمایت کا دعوی کرتے ہیں اور یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ جب تک انہیں یہ پشت پناہی حاصل ہے، وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔  دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کے باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ معاملہ سنجیدہ نوعیت اختیار کر چکا ہے اور گورنر کی تبدیلی کا فیصلہ حتمی شکل اختیار کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق آنے والے ہفتوں میں اہم عسکری تقرریوں اور تبادلوں کے تناظر میں سندھ کے گورنر کے عہدے پر بھی تبدیلی متوقع ہے۔

کیا افغان فوج پاکستان کو فضائی حملوں کا جواب دینے کے قابل ہے؟

یاد رہے کہ کامران ٹیسوری کی سیاسی زندگی بھی تنازعات سے خالی نہیں رہی۔ ماضی میں ان پر مالی بے ضابطگیاں کرنے اور جعلی تعلیمی اسناد استعمال کرنے لے الزامات لگائے گئے تھے، جنکی انہوں نے تردید کی۔ ان کا مؤقف رہا ہے کہ ان کے خلاف الزامات سیاسی بنیاد پر لگائے گئے اور وہ ہر فورم پر خود کو بے قصور ثابت کریں گے۔ سستی شہرت کے شوقین کامران تیسوری نے گورنر ہاؤس کو عوام کے لیے کھولنے کے علاوہ کئی فلاحی سرگرمیوں کا آغاز بھی کیا۔ موجودہ صورتحال میں اگرچہ گورنر سندھ کی برطرفی یا رخصت سے متعلق کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا، لیکن سیاسی درجہ حرارت بتا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ گورنر کی تردید کے باوجود، وفاقی اور صوبائی سیاست میں جاری کشیدگی اس معاملے کو مزید اہم بنا رہی ہے اور سندھ کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

Back to top button