نواز شریف کا استقبالی جلسہ PMLN کیلئے چیلنج کیوں؟

21 اکتوبر کو نواز شریف کی 4 سال بعد پاکستان واپسی پر استقبالیہ جلسہ مسلم لیگ ن میں ایک نئی روح پھونکنے کا سبب بنے گا یا نون لیگ کی سیاست کا ہمیشہ کیلئے جنازہ نکال دے گا۔ مبصرین کے مطابق اگر لیگی قیادت نواز شریف کے استقبال کیلئے پارٹی کارکنان کو نکالنے میں کامیاب ہو گئی تو لا محالہ اس کا اثر آنے والے عام انتخابات پر بھی پڑے گا اور نون لیگ ایک بار پھر ٹیک آف کی پوزیشن میں آ جائے گی لیکن اگر لیگی کارکنان پارٹی قائد کے استقبال کیلئے باہر نہ نکل سکے تو نون لیگ کی الیکشن میں جیت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

خیال رہے کہ نون لیگ کی طرف سے نواز شریف کی آمد پر مینار پاکستان پر ایک بڑے جلسے کی کوششوں میں تیزی آچکی ہے۔ ان تیاریوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عوامی اجتماع نون لیگ کی سیاسی بقا کے لئے خاص اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر نون لیگ نواز شریف کی واپسی پر ایک بڑا عوامی اجتماع کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کا براہ راست اثر الیکشن کمپین اور انتخابات کے نتائج پر بھی پڑے گا۔یہی وجہ ہے کہ پوری پارٹی قیادت جلسے کو ہر صورت کامیاب بنانے میں جت گئی ہے۔ اس کے لئے جہاں پنجاب کے نو ڈویژن کے چھتیس اضلاع میں مختلف پارٹی رہنماؤں کی سربراہی میں استقبالیہ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ وہیں دیگر تین صوبوں کے پارٹی صدور کو بھی خصوصی ٹاسک دیا جاچکا ہے۔

واضح رہے کہ مینار پاکستان پر اپنے اعلان کردہ جلسے میں بڑی تعداد میں عوام کو لانے کے لئے نون لیگ کی چیف آرگنائزر مریم نواز پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں استقبالیہ یا رابطہ کمیٹیاں قائم کرچکی ہیں۔ ملک بھر کے کارکنوں کو اکیس اکتوبر کو مینار پاکستان پہنچنے کی کال دی گئی ہے۔ سب سے زیادہ فوکس پنجاب پر کیا گیا ہے۔ لیگی قیادت اس موقع پر ’شو آف پاور‘ کے لیے اپنے کارکنوں کو مختلف انداز سے متحرک کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔
پارٹی کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے اس سلسلے میں کارکنوں سے براہ راست رابطوں کا آغاز بھی کر دیا ہے اور لاہور کے مختلف مقامات اور دیگر علاقوں میں اجلاسوں، ریلیوں اور جلسوں سے خطاب بھی کر رہی ہیں۔
جب سے نواز شریف کی واپسی کے لیے 21 اکتوبر کی حتمی تاریخ کا اعلان ہوا ہے، مسلم لیگ ن کی مختلف سطح کی قیادت کی جانب سے ان کے استقبال کو تاریخی اور فقید المثال بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ پارٹی کا جو رہنما مطلوبہ تعداد میں لوگ نہیں لے کر نہیں آئے گا اس کو انتخابات کے لیے ٹکٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔

سینیئر صحافی سلمان غنی کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کی سیاست کا محور پنجاب اور مرکز لاہور رہا ہے اور اب لاہور سے ہی لوگوں کو نواز شریف کے استقبال کے لیے نکلنا ہے۔’دیکھنا یہ ہے کہ اس شہر سے لوگ نکلتے ہیں کہ نہیں۔ میاں نواز شریف نے لاہور کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ انہوں نے لاہور کو ترقیاتی سکیمیں دیں، روزگار دیا۔ اب دیکھتے ہیں کہ لاہور کے لوگ ان کے استقبال کے لیے کتنی بڑی تعداد میں نکلتے ہیں۔‘سلمان غنی کے مطابق مسلم لیگ ن کے کئی رہنما بھی مایوسی کا شکار ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ نواز شریف کے اوپر ان کے چھوٹے بھائی کی 16 ماہ کی حکومت کی کارکردگی کا بوجھ ہے۔’اگر 21 اکتوبر کو لوگ نکل آئے تو مسلم لیگ نواز ٹیک آف کر جائے گی۔‘

دوسری طرف تجزیہ کار اوراینکر اجمل جامی کے مطابق دوسرے صوبے تو ایک طرف پنجاب سے بھی نواز شریف کے استقبال کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کا نکلنا مشکل نظر آ رہا ہے۔’جب بینظیر بھٹو اپنی جلاوطنی ختم کر کے لاہور آئی تھیں تو ان کے استقبالیہ جلوس کا ایک سرا مینار پاکستان اور دوسرا ایئرپورٹ پر تھا۔ ہونا تو اب یہ چاہیے تھا کہ ن لیگ کے لوگ ایئرپورٹ پہنچتے اور لاہور کی سڑکوں پر لوگ ہی لوگ ہوتے۔‘’لیکن مسلم لیگ ن نے اس کے برعکس مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کو ترجیح دی اور پہلی مرتبہ اس کو بھرنے کا سوچا۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ اس پنڈال کو بھی بھر سکیں گے، اور پھر کیا نواز شریف کی واپسی کا جلسہ اتنا بڑا اثر چھوڑ پائے گا جتنا بے نظیر بھٹو کے استقبال یا عمران خان کے اکتوبر 2011 کے جلسے نے چھوڑا تھا۔‘

Back to top button