پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں بھارت ملوث ہے یا افغانستان؟

پاکستان گذشتہ طویل عرصے سے سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا تو کر ہی رہا ہے لیکن حالیہ چند ماہ سے عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں بھی تیزی آ گئی ہے۔تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشی مسائل اور سیاسی عدم استحکام کے چینلج سے نبرد آزما پاکستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں تیزی کی وجوہات کیا ہیں اور اس کے مستقبل قریب میں کیا نتائج ہو سکتے ہیں؟عسکریت پسندوں کی کارروائیوں پر نگاہ رکھنے والے دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کچھ بیرونی قوتیں پاکستان کو معاشی و سیاسی طور پر مستحکم نہیں دیکھنا چاہتیں۔ اس لیے وہ پاکستان مخالف گروہوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔
سندھ کے نگران وزیر داخلہ اور دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نوازکے مطابق ’ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے جو واقعات ہو رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لوگ ملوث ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ ’افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نظریاتی طور پر ایک ہی ہیں۔ امریکہ افغانستان سے نکلتے ہوئے جان بوجھ کر اسلحہ پیچھے چھوڑ گیا ہے جو ٹی ٹی پی، بی ایل اے، بی ایل ایف اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگ گیا ہے جسے وہ پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔‘عسکریت پسندوں کے حملوں میں حالیہ تیزی سے متعلق سوال پر حارث نواز کا کہنا تھا کہ ’یہ گروپس کسی بھی صورت پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان کے پیچھے انڈیا اور کچھ اور ممالک کا بھی ہاتھ ہے۔‘’وہ سی پیک کی تکمیل کو کسی بھی قیمت پر روکنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں اندازہ ہے کہ اگر یہ منصوبہ بن گیا تو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بہت بڑا جمپ ثابت ہو گا۔ اس وقت چین کو مڈل ایسٹ اور دیگر منڈیوں تک سمندر کے راستے پہنچنے میں 90 دن لگتے ہیں۔ اگر سی پیک بن گیا تو یہ سفر کاشغر کے راستے صرف آٹھ دن میں طے ہو گا۔ ظاہر ہے اس سے پورے خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔‘
حارث نواز نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر دہشت گردوں کی جانب سے حملے اسی طرح جاری رہے تو الیکشن کیسے ہوں گے۔ عوامی نمائندے جنہیں الیکشن مہم پر نکلنا ہوتا ہے، ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔‘
بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے افغان طالبان اور کالعدم ٹی ٹی پی کے تعلق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹی ٹی پی کے لوگوں نے افغانستان سے امریکہ کو نکالنے میں طالبان کی مدد کی اور اب طالبان انہیں شیلٹر فراہم کر رہے ہیں۔‘’ہمارا افغان طالبان سے مطالبہ یہی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں لیکن انہوں نے یقین دہانی کے باوجود اپنی کمٹمنٹ کی پاسداری نہیں کی۔‘
دفاعی امور کے ماہر اور تجزیہ کار جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود نے کہا کہ ’افغانستان بارڈر پر ہماری توجہ بہت زیادہ نہیں ہے اسے لیے وہاں ٹی ٹی پی وغیرہ کی سرگرمیاں بڑھی ہیں۔ ٹی ٹی پی کافی منظم گروپ ہے جو اب پاکستان پر اس علاقے سے دباؤ ڈال رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’افغانستان سے متصل پاکستان کے کافی علاقے پر ان کا اثر رسوخ ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید انہیں وہاں حاصل مقامی حمایت ہے یا پھر مقامی افراد حکومت کی مکمل رٹ نہ ہونے کے باعث ٹی ٹی پی کے لوگوں سے بگاڑنا نہیں چاہتے تاکہ وہ محفوظ رہیں۔ وہ خوف کا شکار ہیں۔‘
طلعت مسعود کےخیال میں ’اگر دہشت گردی کا سلسلہ نہ رکا تو الیکشن کچھ علاقوں میں متاثر ہو گا۔ لیکن یہ کہنا کہ الیکشن ہی نہیں ہو گا، یہ درست نہیں ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’جہاں تک معیشت کا سوال ہے تو جب تک پاکستان میں پاپولر مینڈیٹ کی حامل حکومت قائم نہیں ہوتی، معاشی استحکام نہیں آئے گا۔ ایک منتخب حکومت کا قیام پاکستان کے بین الاقوامی امیج کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس لیے الیکشن ہونا ناگزیر ہے۔‘
سینیئر تجزیہ کار زاہد حسین کے مطابق ’دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی ایک وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ٹی ٹی پی سے وابستہ لوگ بڑی تعداد میں پاکستان میں واپس آ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں ٹی ٹی پی اور دیگر ایسے عناصر کے خلاف ماضی میں کارروائیاں تو ہوئیں لیکن دہشت گردی کی جڑیں ختم کرنے کے لیے کوئی طویل المدت پالیسی نہیں بنائی گئی۔‘’آپ کبھی ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن کرتے ہیں تو کبھی ان کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے ان گروہوں کو یہ پیغام ملتا ہے کہ آپ کے پاس ان کے ساتھ مفاہمت کا آپشن موجود ہے۔‘
معیشت کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’جب ملک میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہوں تو نہ صرف بیرونی سرمایہ کاری رک جاتی ہے بلکہ ملکی سرمایہ کار بھی اپنا ہاتھ روک لیتے ہیں۔ ماضی میں ہم نے یہ دیکھا ہے۔ اس وقت کی معیشت پر دہشت گردوں کی کارروائیوں کا اثر پڑا ہے۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو معیشت بہرصورت متاثر ہو گی۔‘
