کیا نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی صلح ممکن ہے؟

احسان فراموش سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے بعد گونگلوں پر مٹی جھاڑتے ہوئے معافی تلافی کیلئے لندن پہنچ چکے ہیں۔ جس کے بعد خیال کیا جارہا تھا کہ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے درمیان گلے شکوے دور ہو جائیں گے اور وہ پارٹی میں ماضی کی طرح متحرک دکھائی دیں گے مگر ملاقات کے بعد شاہد خاقان عباسی کی گفتگو سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بدستور اپنے موقف پر قائم ہیں۔ تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ قائد مسلم لیگ ن نے شاہد خاقان عباسی کے اختیار کردہ طرز عمل پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پارٹی امور بارے اختلاف رائے کا اظہار صرف پارٹی کے اندر ہی کیا جانا چاہیے اس طرح میڈیا پر آ کر پارٹی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنانا قطعا قبول نہیں کیا جا سکتا۔
خیال رہے کہ شاہد خاقان عباسی نے 3اکتوبر کو لندن میں قائد مسلم لیگ ن میاں نواز شریف سے اہم ملاقات کی۔نواز شریف سے ملاقات کے بعد شاہد خاقان عباسی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نواز شریف کے استقبال کا قائل نہیں ہوں، نئی پارٹی بنائی نہیں لیکن اس کے قیام کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ نواز شریف کے ساتھ 35 سال کا تعلق ہے جو سیاست سے بالا تر ہے۔ نواز شریف کے ساتھ جو زیادتی کی گئی اس کا ازالہ کرنا ہو گا۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے پارٹی کی چیف آرگنائزر بننے کے بعد سے مسلم لیگ ن سے دور ہوتے جا رہے تھے، شاہد خاقان عباسی نے ٹی وی انٹرویو میں مفتاح اسماعیل اور مصطفی نواز کھو کر کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کے ارادے کا اظہار کر رکھا ہے جبکہ شہباز شریف حکومت میں شاہد خاقان عباسی کسی بھی حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے نظر نہیں آئے۔
قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ میں شکر ادا کرتا ہوں کہ عوام کی اس حکومت سے جان چھوٹ گئی ہے، پی ڈی ایم حکومت عوام کو کسی بھی طرح کا ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے۔اس نوعیت کے بیانات اور پارٹی پالیسی کے مخالف رویہ اختیار کرنے کے باعث مسلم لیگ ن کو اور شاہد خاقان عباسی کے درمیان فاصلےکافی بڑھ گئے تھے جن کو پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور مریم نواز نے بھی کم کرنے کی کوشش کی تاہم اس کے خاطر خواہ نتائج نہ نکل سکے۔
مبصرین کے مطابق شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ ن میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیے نواز شریف سے ملاقات کیلئے لندن پہنچے ہیں، ملاقات کے بعد لگتا ہے کہ شاہد خاقان عباسی اپنا طرز عمل تبدیل کرینگے جس کے بعد مسلم لیگ ن آئندہ انتخابات میں شاہد خاقان عباسی کو پارٹی ٹکٹ بھی جاری کرے گی،تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نواز شریف سے ملاقات کے بعد شاہد خاقان عباسی نے مصطفی نواز کھوکھر اور مفتاح اسمعیل کے ساتھ مل کر نئی پارٹی بنانے کا خیال ترک کر دیا ہے؟
سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق شاہد خاقان عباسی جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، اُن کا ن لیگ کے ساتھ چلنا مشکل لگ رہا ہے، ممکنہ طور پر اب شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور مصطفی نواز کھوکھر نئی سیاسی جماعت بنانے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی ن لیگ کو خیرباد کہنے کے لیے گراؤنڈ تیار کر چکے ہی لہذا میاں نواز شریف سے رابطہ لاحاصل ہو گا۔مسلم لیگ ن نے جب مریم نواز کو پارٹی کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر بنانے کا فیصلہ کیا تھا، اس فیصلے پر شاہد خاقان عباسی ناخوش تھے اور اسی وجہ سے پارٹی کے نائب صدر کے عہدہ سے علیحدہ ہو گئے تھے، اُس وقت بھی نواز شریف کے کہنے پر مریم نواز نے شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے لیے اُن کے گھر گئیں اور اُنہیں منانے کی کوشش کی لیکن شاہد عباسی اپنے فیصلہ پر ڈٹے رہے۔انصار عباسی کے مطابق اب تو بہت وقت گزر گیا اور اس دوران شاہد عباسی نے ایسی کئی باتیں بھی کہی ہیں، جن سے ن لیگ ناخوش ہے، اسی لیے شاہد خاقان عباسی اور نواز شریف کی صلح ممکن نظر نہیں آ رہی۔
دوسری طرف سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے سیکریٹری حافظ عثمان کے مطابق شاہد خاقان عباسی اور نواز شریف کے درمیان کوئی ایسی ناراضی یا اختلاف نہیں کہ جس کے لیے صلح کی ضرورت ہو، شاہد خان عباسی پارٹی کے سینئر رکن ہیں اور بطور پارٹی رکن ہی انہوں نے اپنے اختلافات کا اظہار کیا تھا۔آئندہ انتخابات مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر لڑنے سے متعلق سوال پر حافظ عثمان کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا کہ کیا آئندہ انتخابات مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر لڑنا ہے یا نہیں، شاہد خاقان عباسی اپنے حلقے کے لوگوں سے مشاورت کے بعد اس ضمن میں کوئی حتمی فیصلہ کریں گے۔
