نو مئی کے فساد نے نواز شریف کی واپسی ناگزیر کیوں بنائی؟

سینیئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروردی نے کہا ہے کہ نو مئی کے بعد بھی تحریک انصاف نے جس طرح رد عمل دیا اور جو پالیسی قائم رکھی اس سے یہ احساس پیدا ہوا کہ نواز شریف کے بغیر اب سسٹم ٹھیک نہیں کیا جا سکتا ۔ نواز شریف کی واپسی کی راہ میں رکاوٹ قوتوں کو بھی احساس ہوا کہ ملک میں موجود سیاسی لڑائی کو نواز شریف کے بغیر جیتا نہیں جا سکتا اور نہ وہ ان کے بغیر آگے بڑھ سکتے ہیں اس لیے نواز شریف کی واپسی سب کی ضرورت بن گئی۔ اپنی ایک تحریر میں مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ آج نواز شریف کی واپسی نواز شریف کی ضرورت کم تھی بلکہ سسٹم کی ضرورت زیادہ تھی۔ اپنی سیاسی بصیرت اور سوجھ بوجھ کی بدولت نواز شریف آج سسٹم کے لیے دوبارہ ناگزیر بن گئے ہیں۔۔ نواز شریف کی واپسی نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے وہ اکیلے ہی کھیل کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ سسٹم نےعمران خان کو بھی ہر ممکن موقع دیا کہ اپنی سیا سی طاقت اور مقبولیت کو قانون اور سسٹم کے ساتھ ٹکرانے سے باز رکھیں۔ لیکن وہ اپنی انا اور خود پرستی کی وجہ سے اپنا ہی نقصان کر بیٹھے۔ میاں نواز شریف کی واپسی پر ان کے مخالفین کے تبصرے یہ ہیں کہ اگر اس طرح پروٹوکول سے واپس لانا ہے تو سیدھا وزیر اعظم ہی بنا دیں۔ یعنی ان کے مخالفین ان کی واپسی پر ان کو دیے جانے والے پروٹوکول کو ان کے وزیر اعظم بننے کا سیدھا اشارہ سمجھ رہے ہیں۔ نواز شریف کی آمد پر مینار پاکستان پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کا جلسہ یقینی طور پر ایک بڑ اجلسہ تھا۔ اس جلسے نے ماضی کے مینار پاکستان کے تمام جلسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں اب تو ن لیگ کے مخالفین بھی یہ بات مان رہے ہیں کہ مینار پاکستان مکمل بھر گیا تھا۔ باہر بھی لوگ تھے اور سڑکیں جام تھیں کئی ہزار لوگ مینار پاکستان پہنچ ہی نہیں سکے۔اس لیے جلسہ کامیاب تھا۔ مزمل سہروردی کے مطابق نواز شریف کی آمد پر ہونے والا جلسہ چیئرمین تحریک انصاف کے 2011کے جلسہ سے بڑا تھا۔ میاں نواز شریف کے جلسے نے عمران خان کے جلسے کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان کا 2011 کا جلسہ اس وقت ایک چھوٹی جماعت کا بڑا جلسہ تھا۔ اس لیے سب حیران ہو گئے تھے۔ جب کہ ن لیگ ایک بڑی جماعت ہے اور اس طرح ایک بڑی جماعت نے ایک بڑا جلسہ کیا ہے۔تاہم دونوں جلسوں نے اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کو دوبارہ زندگی دی ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف کو بھی مینار پاکستان کے جلسے سے نئی زندگی ملی تھی ۔ ن لیگ کو بھی نئی زندگی مل گئی ہے۔ میاں نواز شریف کی واپسی نے بلا شبہ پاکستان مسلم لیگ (ن) میں سیاسی طور پر جان ڈال دی ہے۔ ن لیگ کو جس سیاسی بریک تھرو کی ضرورت تھی ایسا لگ رہا ہے کہ انھیں مل گیا ہے۔ ایک رائے بن گئی ہے کہ اگلی باری ن لیگ کی ہے۔ ایسی ہی رائے 2018میں تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین کے بارے میں بن گئی تھی کہ باری اب کپتان کی ہے۔ کھیل پرانا ہے صرف ٹیم بدل گئی ہے۔ نواز شریف کی واپسی کھیل میں تبدیلی لائی ہے۔ نواز شریف کی آمد سے قبل یہ رائے نہیں تھی کہ باری ن لیگ کی ہے۔ بلکہ یہ رائے تھی کہ ن لیگ کے لیے انتخاب کافی مشکل ہوگا۔ کل تک ن لیگ کی سیاست کو مشکلات کا شکار قرار دینے والے ناقدین بھی اب رائے بدلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کل تک ن لیگ کے ووٹ بینک پر سوال کرنے والے اب دوبارہ ن لیگ کی مقبولیت پر بات کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ناقدین بھی کہہ رہے ہیں کہ ن لیگ کا پنجاب میں ووٹ بینک موجود ہے۔ اور یہ ووٹ بینک قائم ہے ۔ مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ نواز شریف چار سال بعد واپس آئے ہیں۔ انھوں نے خود کہا ہے کہ چھ سال بعد وہ کسی سیاسی جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔جب آپ کسی سیاسی رہنما کو چھ سال تک سیاست سے دور رکھیں گے تو اس کی سیاست کمزور ہو گی۔ لیکن جس طرح کی واپسی ہوئی ہے اس کی بھی کم ہی امید تھی نواز شریف نے دبئی ایئر پورٹ پر ہی میڈٖیا سے گفتگو میں اپنی پالیسی واضح کر دی تھی جب نو مئی کے حوالہ سے سوال پر انھوں نے برجستہ کہا کہ وہ نو مئی والے نہیں ہیں وہ 28مئی والے ہیں۔ انھوں نے کہا ہم دفاعی ادارو ں پر حملہ نہیں کرتے بلکہ ہم دفاع کو مضبوط کرنے والے ہیں۔ اس جواب میں مفاہمت اور مزاحمت کا جواب موجود تھا۔ اسی میں سارے ابہام کا جواب بھی موجود تھا۔میاں نواز شریف کی باڈی لینگوئج بتا رہی تھی کہ وہ بہت پر امید ہیں۔ ان کو حالات اپنے حق میں سازگار نظر آرہے ہیں۔ وہ دبئی ایئر پورٹ پر مسکرا رہے تھے، ہنس رہے تھے، ان کا موڈ بتا رہا تھا کہ وہ بہت خوش ہیں۔ پریشانی کے کوئی آثار نہیں۔ کئی بار گفتگو سے زیادہ باڈی لینگوئج اہم ہوتی ہے۔ سیاسی رہنما کی باڈی لینگوئج ان تمام سوالوں کا بھی جواب دے دیتی ہے جن کا جواب وہ خود نہیں دے رہا ہوتا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ فتح نواز شریف کو نظر آرہی ہے۔ ان کو لگ رہا ہے کہ اب کھیل ان کے ہاتھ میں ہے۔ انھوں نے اپنے سیاسی مخالف کو شکست دے دی ہے اور اب انھیں کوئی ڈر نہیں ہے۔ مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ نواز شریف پی ڈی ایم کی حکومت اور شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ میں واپس نہیں آئے۔ میں نہیں آئے کیوں کہ ان کو اس واپسی سے کوئی خاص امید نہیں تھی۔ بے شک یہ کہا جا سکتا ہے کہ نو مئی کے واقعات نے ان کی واپسی کی راہ ہموار کی لیکن نو مئی کے فوری بعد بھی ان کی واپسی ممکن نہیں تھی. نواز شریف کے سیاسی مخالف نے نو مئی کے بعد بھی جس طرح رد عمل دیا اور جو پالیسی قائم رکھی اس نے نوا زشریف کی سسٹم میں کمی کا احساس دلایا۔ بے شک عوام کا فیصلہ الیکشن میں سامنے آئے گا لیکن سیاست میں ہواؤں کا رخ اور بدلتے حالات آگے کا منظر نامہ کافی حد تک واضح کر رہے ہیں .
