یاسر حسین نے آئٹم نمبرز کو پاکستانی کلچر کا حصہ کیوں قرار دیا؟

معروف پاکستانی اداکار یاسر حسین نے آئٹم نمبرز کو پاکستانی کلچر کا حصہ قرار ددیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کل کے دور میں یہ فلموں کی ضرورت بن گیا ہے، فلموں یا ایوارڈ شو میں نرگس، ریما، ریشم جیسی اداکارائوں سے ڈانس کروانے کی حمایت کر دی۔یاسر حسین نے حال ہی میں سابق اینکر پرسن ارضہ خان کے یوٹیوب پوڈ کاسٹ میں شرکت کی جہاں انہوں نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ لڑکا اور لڑکی کے درمیان کچھ سالوں کے عمر کا فرق ہونا چاہئے، ویسے تو اقرا اپنی عمر سے زیادہ میچور ہے لیکن اگر نہ ہو تو شریک حیات میں کسی ایک کو لازمی میچور ہونا چاہئے۔یاسر حسین نے اپنے متعلق تنازعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ فالوورز بڑھانے یا خبروں میں رہنے کے لیے متنازع بات نہیں کرتے، ایک سوال کے جواب میں کہا کہ رول ماڈل تو کوئی نہیں ہے، اب وہ وقت نہیں رہا، اداکار کے مطابق میں نے پنجابی تھیٹر زیادہ کیے تھے جن میں سہیل احمد، نسیم وکی، امان اللہ اور دیگر بڑے ناموں کے ساتھ کام کیا، اس وقت تھیٹر میں گانے بھی چلتے تھے، درحقیقت اب بھی مجھے لگتا ہے کہ پاکستانی فلموں میں گانے یا آئٹم نمبرز آتے ہیں، ہم کہتے کہ یہ ہمارا کلچر نہیں ہے لیکن آئٹم نمبرز ہمارا کلچر ہے، کلچر یہی ہوتا ہے کہ جب سے ملک بنا ہے تب سے فلموں میں یہ گانے ہیں، بلکہ اس سے بھی پہلے سے یہ گانے ہیں۔خیال رہے کہ ’آئٹم سانگ‘ یا ’آئٹم نمبر‘ بالی وڈ میں استعمال کی جانے والی عام اصطلاح ہے، جس کا مطلب کسی بھی فلم میں شامل ایسا گانا جس میں پرفارمنس کرنے والی اداکارہ یا اداکار کو ڈانس کرنا ہوتا ہے، ان کے مطابق ڈرامے کی کہانی میں اگر کہیں تھپڑ مارنا ضروری ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔یاسر حسین نے لاعلمی اور حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’کیا اب بھی ڈراموں میں تھپڑ مارنے کے سین ہوتے ہیں؟‘ جس پر میزبان نے کہا کہ ’آپ تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے ہم ناروے شفٹ ہوگئے ہیں، پہلی بات یہ کہ ناروے میں پاکستانی ڈرامے دیکھے جاتے ہیں اور دوسری بات یہ کہ میں ڈرامے دیکھتا نہیں ہوں۔میزبان حسن چوہدری نے یاسر حسین کو یاد دلایا ان کا گزشتہ سال کا ڈراما ’ایک تھی لیلیٰ‘ میں بھی تھپڑ مارنے کا سین تھا جس پر یاسر حسین نے کہا کہ ’جی وہ کہانی کے لحاظ سے اس سین میں تھپڑ مارنا ضروری تھا، آج کل کے ڈراموں میں بلاوجہ اور بہت سارے تھپڑ مارنے کے سین ہوتے ہیں، کہانی میں اگر کہیں تھپڑ مارنا ضروری ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
