’’نیلسن منڈیلا کی بھارتی خاتون سے محبت میں دل ٹوٹنے کی کہانی‘‘

بڑھاپے میں بھی خواتین کے لیے پرکشش شخصیت رہنے والے نیلسن منڈیلا جب خود کسی کی محبت میں مبتلا ہوئے تو دل ٹوٹ گیا، نیلسن منڈیلا نے ایک بار مذاق میں کہا تھا کہ اگر خواتین مجھے دیکھتی ہیں اور مجھ میں دلچسپی لیتی ہیں تو یہ میرا قصور نہیں، سچ کہوں تو میں اس پر کبھی اعتراض نہیں کروں گا۔ تین بار شادی کرنے والے نیلسن منڈیلا بڑھاپے میں بھی دنیا بھر کی خواتین کو اپنی طرف متوجہ کرتے رہے۔
لیکن ایک خاتون ایسی بھی تھیں جنھوں نے نیلسن منڈیلا کی جانب سے شادی کی پیشکش کو ٹھکرا دیا، اس انڈین نژاد خاتون کا نام امینہ چچالیہ تھا، وہ کہتے ہیں کہ ایک بار 90 کی دہائی میں میری والدہ مجھے اور میری بہن کو ایک کونے میں لے گئیں اور انھوں نے ہمیں بتایا کہ نیلسن منڈیلا نے انھیں شادی کی پیشکش کی تھی جسے وہ ٹھکرانے والی تھیں۔اس وقت نیلسن منڈیلا کی عمر 80 سال اور امینہ کی عمر 68 سال تھی۔
میں نے غالب سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے اتنے مشہور آدمی کی شادی کی پیشکش کیوں ٹھکرا دی؟ غالب کا جواب تھا کہ ’میری والدہ کو نیلسن منڈیلا بہت پسند تھے، لیکن وہ میرے والد کو بھولنے کے لیے بھی تیار نہیں تھیں۔ میرے والد ان سے 15 سال بڑے تھے۔ شاید ان کی موت کے بعد وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی زندگی میں کوئی اور آئے۔
معروف صحافی سعید نقوی کا کہنا ہے کہ انھیں پہلی بار امینہ سے ملاقات کا موقع اس وقت ملا جب نیلسن منڈیلا جیل سے رہا ہوئے، اس وقت امینہ کے شوہر یوسف زندہ تھے، جیل سے رہائی کے بعد جب وہ نیلسن منڈیلا سے ملنے گئے تو انھوں نے امینہ کو منڈیلا کے پاس بیٹھے دیکھا۔
سعید نقوی کہتے ہیں کہ امینہ کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ وہ کسی زمانے میں بہت خوبصورت، پرکشش، اور چنچل رہی ہوں گی، ان کی شخصیت میں وہ سب کچھ تھا جو کسی ہیروئن میں نظر آتا ہے، انھوں نے افریقن نیشنل کانگریس میں کام کیا تھا، وہ نیلسن منڈیلا کی دوست تھیں اور ان کی فکری سطح بھی نیلسن منڈیلا کے برابر تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1948 میں جنوبی افریقہ کا دورہ کرنے والی آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے رکن کیتھ ملر بھی امینہ کو پسند کرتے تھے، اس وقت ان کی شادی نہیں ہوئی تھی اور کیتھ ملر اس وقت دنیا کے مشہور آل راؤنڈر تھے۔
سعید نقوی کا کہنا ہے کہ دونوں کی ملاقات ایک پارٹی میں ہوئی جس کے بعد کیتھ ملر نے امینہ کو دن رات فون کرنا شروع کر دیا، مزے کی بات یہ تھی کہ وہ فون تو کر سکتا تھا لیکن ملنے نہیں آ سکتا تھا، ایک مسئلہ یہ تھا کہ امینہ انڈینز کے علاقے میں رہتی تھیں، امینہ کے شوہر یوسف بھائی بہت ہنستے اور یہ کہانی سناتے کہ نسل پرستی نے ہماری بہت مدد کی، ورنہ یہ کیتھ ملر آکر امینہ سے مل جاتا۔
امینہ اور نیلسن منڈیلا کی سعید نقوی کے سامنے کئی ملاقاتیں ہوئیں لیکن جب وہ 1995 میں جنوبی افریقہ گئے تو اس وقت امینہ کے شوہر یوسف کا انتقال ہو چکا تھا، کئی بار ایسا ہوا کہ جب سعید نقوی امینہ سے ملنے گئے تو انھیں معلوم ہوا کہ وہ نیلسن منڈیلا کے پاس ہیں۔
سعید نقوی کہتے ہیں کہ ’پھر مجھے ان سے معلوم ہوا کہ نیلسن منڈیلا نے وہ کیا جو کیتھ ملر نہیں کر سکا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ سب کو معلوم ہو گیا کہ نیلسن منڈیلا نے ان سے شادی کرنے کا ذہن بنانا شروع کر دیا ہے۔
