’’کراچی کے عوام صاف پانی کیلئے ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر‘‘

کراچی کے عوام کے لیے پینے کا صاف پانی نایاب ہو گیا ہے بلکہ اب تو ٹینکرمافیا بھی منہ مانگے دام وصول کرنے لگا ہے، جس کی وجہ سے عام لوگ پینے خریدنے سے بھی قاصر ہیں، ستم ظریفی یہ ہے کہ جب ڈیم اوور فلو ہوتا ہے تو پانی آبادی کو ملنے کی بجائے سمندر کی نذر ہو جاتا ہے۔گزشتہ 15 سال سے کراچی کے ضلع غربی اور کیماڑی کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، بیشتر علاقوں میں تو اب پانی کی لائینیں بوسیدہ ہوکر بالکل تباہ ہو چکی ہیں اور کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں پانی تو آتا ہے لیکن اس میں سیوریج کی آمیزش ہوتی ہے کہیں پریشر نہ ہونے کے باعث پانی پہنچتا ہی نہیں ہے۔موجودہ صورتحال میں لگتا ہے جیسے پانی بالکل ختم ہوچکا ہو اس وجہ سے شہر کو سپلائی نہیں ہو رہا، اکثر علاقوں میں پانی نلوں سے نہیں بلکہ ٹینکر کے ذریعے آتا ہے، عوام سوال کرتے ہیں کہ اگر پانی ہے تو لائنوں میں کیوں نہیں چھوڑا جاتا؟ جو پانی سرکار کو گھروں تک پہنچانا تھا وہی پانی ٹینکر مافیا گھر گھر پہنچا رہا ہے لیکن بھاری رقم کے عوض۔کراچی میں پانی 10 روپے سے لے کر 8 ہزار روپے تک کا بک رہا ہے، 10 روپے کا واٹر کولر اور 8 ہزار روپے کا پورا ٹینکر ملتا ہے جو جتنی رقم دے سکتا ہے، اتنا پانی گھر تک پہنچ جائے گا ورنہ پیاسا ہی رہنا پڑے گا۔صرف کھانا پکانے اور پینے کے لیے خریدے جانے والے ہانی پر یومیہ 250 روپے صرف ہوتے ہیں اور یہ خرچہ مہینے میں ہزاروں روپوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس مہنگائی میں آمدنی پہلے سے کم ہے اور اوپر سے پانی ملتا ہی مشکل سے ہے جس کے لیے الگ بجٹ رکھنا پڑتا ہے۔اگر بات کی جائے حب ڈیم کنارے آبادی کی تو یہاں سیاست ہوتی ہی پانی پر ہے اور پانی فراہمی کے جتنے بلند دعوے کیے جائیں گے اتنے زیادہ ووٹ ملتے ہیں۔ حلقہ این اے 249 جس پر سابق وفاقی وزیر و ممبر قومی اسمبلی فیصل واوڈا نے موجودہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کو اسی بنیاد پر ہرایا تھا کہ وہ اپنے حلقے کے بنیادی مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے لیکن وفاقی وزیر آبی وسائل بننے کے باوجود وہ پانی جیسا بنیادی مسلئہ حل نہ کر پائے۔ ان کی نا اہلی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے پروفیسر قادر خان مندوخیل اس نشست سے جیتے لیکن ان کے دعوے بھی صوبے میں حکومت اور وفاق میں اتحادی ہونے کے باوجود پورے نہ ہوسکے۔ کراچی ہائڈرینٹس سے بھرا پڑا ہے، ذرائع کے مطابق جو ہانی لائنوں میں آنا تھا اس کا رخ ہائڈرینٹس کی طرف کیا گیا اور اس دھندے سے کمائی کا سلسلہ جاری ہے اور یہی وہ ذریعہ ہے جس سے ٹینکرز کو پانی فراہم کیا جاتا ہے اور یہ مافیا اتنا مضبوط ہے کہ اس کے آگے کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن،
خیبرپختونخوا،طوفانی بارشوں،حادثات میں 19افراد جاں بحق
ممبران اسمبلی اور وفاقی وزرا تک بے بس نظر اتے ہیں۔
