الیکشن ایکٹ میں نئی ترامیم سےلمبی نگران حکومت کا راستہ ہموار؟

الیکشن ایکٹ میں ہونے والی حالیہ ترامیم کے بعد اگر انتخابات نئی مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں پر ہونے ہیں تو پھر لمبی نگران حکومت کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ اچھا تو یہی ہے کہ نگران حکومت کا سلسلہ ہی ختم کر دیا جائے لیکن نگران حکومتوں نے آنا ہی ہے تو انھیں اختیاررات بھی دینا ہوں گے ۔ سب سے اچھی ترمیم یہ کی گئی ہے کہ کسی رکن کے حلف نہ لینے پر نشست خالی تصور کی جائے گی۔ ابھی تک معاملہ یہ تھا کہ لوگ جیت کر کئی کئی سال حلف ہی نہیں لیتے تھے. ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے . وہ لکھتے ہیں کہ الیکشن ایکٹ میں نئی ترمیم کا جو مسودہ سامنے آیا ہے۔ اس کے مطابق ایکٹ میں 54 ترامیم شامل کی گئی ہیں۔ سب سے پہلے نگران حکومت کو اضافی اختیارات حاصل ہوں گے اس کے پیش نظر کہا جا رہا ہے کہ ملک میں ایک لمبے عرصے تک نگران حکومت لانے کی تیاری ہو رہی ہے اس لیے نگران حکومت کو اضافی اختیارات دینے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ بھی ایک دلیل ہے کہ چاہے کوئی حکومت ایک دن کے لیے بھی آئے اس کے پاس ملک چلانے کے مکمل اختیارات ہونے چاہیے۔ لولی لنگڑی اور بے اختیار نگراں حکومتوں نے بھی پاکستان کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ کیا کوئی ملک چار چھ ماہ کے لیے ایک لولی لنگڑی نگران حکومت کا متحمل ہو سکتا ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے اس لیے جو بھی نگراں حکومت آئے اس کے پاس ایک تو پاکستان چلانے کی صلاحیت ہونی چاہیے دوسرا اس کے پاس ملک چلانے کے لیے مکمل اختیار ہونا چاہیے۔
مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ اچھا تو یہی ہے کہ نگران حکومت کا سلسلہ ہی ختم کر دیا جائے لیکن اگر یہ سلسلہ جاری رکھنا ہے تو نگرانوں کو اختیار بھی دینا ہوگا۔ نئی ترامیم کے مطابق پریزائیڈنگ افسر گنتی کے بعد نتائج کی فوری تصویر بنا کر الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسر کو بھیجے گا۔ اگر انٹرنیٹ میسر نہیں تو پریزائیڈنگ افسر خود جا کر نتائج بھیجے گا۔ بر وقت نتائج کے بغیر شفاف انتخابات ممکن نہیں۔ 2018میں آر ٹی ایس بیٹھ گیا تھا۔ اس لیے بروقت نتائج پہلی ترجیح ہونے چاہیے۔ اس سے نتائج بدلنے کا راستہ بھی رک جائے گا۔ سیکیورٹی اہلکار پولنگ اسٹینشنز کے باہر تعینات ہوں گے۔ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف الیکشن کمیشن کا عملہ ہونا چاہیے۔ جب تک وہ نہ کہیں کسی بھی سیکیورٹی ادارے کو پولنگ اسٹیشن کے اندر نہیں آنا چاہیے۔ اس لیے یہ کوئی متنازعہ ترامیم نہیں بلکہ اچھی ترمیم ہیں۔ اسی لیے تحریک انصاف کو بھی ان ترامیم کی حمایت حاصل ہے۔ نئی ترامیم میں پریزائیڈنگ افسر الیکشن کی رات 2 بجے تک نتائج دینے کا پابند ہوگا اور نتائج کی تاخیر کی صورت میں ٹھوس وجہ بتائے گا۔ابھی تو ہم نے دیکھا ہے کہ تین تین دن تک نتائج رکے رہتے ہیں۔ اس لیے رات دو بجے کی شرط بہتر ہے۔ پریزائیڈنگ افسر کے پاس الیکشن نتائج کے لیے اگلے دن صبح 10 بجے کی ڈیڈ لائن ہوگی۔ اس طرح صبح دس بجے تک سب عمل مکمل ہو جائے گا۔ مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ سب سے اچھی ترمیم یہ کی گئی ہے کہ کسی رکن کے حلف نہ لینے پر نشست خالی تصور کی جائے گی۔ ابھی تک معاملہ یہ تھا کہ لوگ جیت کر کئی کئی سال حلف ہی نہیں لیتے تھے۔ اسحاق ڈار نے چار سال حلف نہیں لیا۔ چوہدری نثار نے چار سال حلف نہیںلیا۔ اس کی وجہ سے پارلیمان بھی نا مکمل رہتی ہے۔ اس لیے حلف نہ لینے پر نشست خالی تصور ہونی چاہیے۔ اس میں کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ نئی ترامیم کے تحت حلقہ بندیوں کا عمل انتخابات سے 4 ماہ پہلے مکمل کرنا ہوگا۔ اس کے دو مطلب ہیں کہ اگر بروقت انتخابات ہو رہے ہیں تو پرانی مردم شماری اور پرانی حلقہ بندیوں پر ہو رہے ہیں ۔ لیکن اگر نئی مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں پر انتخابات ہونے ہیں تو پھر اس ترامیم کے بعد لمبی نگران حکومت کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ لیکن ابھی تک پرانی مردم شماری پر انتخابات کروانے کا ہی فیصلہ ہے۔ اسی طرح الیکشن کمیشن پولنگ سے ایک روز قبل شکایات نمٹانے کا پابند ہوگا۔ ابھی تو شکایات بغیر فیصلوں کے پڑی رہتی ہیں۔ اسی طرح ترمیم کی گئی ہے کہ پولنگ ڈے سے 5 روز قبل پولنگ اسٹیشن تبدیل نہیں کیا جاسکے گا۔ ابھی تو دھاندلی کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ رات کو پولنگ اسٹیشن تبدییل کر دیا جائے۔ کسی کو پتہ ہی نہیں کہ پولنگ اسٹیشن کہاں ہے۔ اس لیے یہ راستہ بھی روکا گیا ہے۔ مزمل سہروردی بتاتے ہیں کہ حلقہ بندیاں رجسٹرڈ ووٹرز کی مساوی تعداد کی بنیاد پر کی جائیں گی ۔ ابھی تو کسی حلقہ میں زیادہ اور کسی میں کم ہوتے ہیں۔ حلقوں میں ووٹرز کی تعداد میں فرق 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا۔ پانچ فیصد ایک اچھی شرح ہے۔ پولنگ عملہ انتخابات کے دوران اپنی تحصیل میں ڈیوٹی نہیں دے گا۔ مقامی لوگوں کی مقامی سیاسی وفاداریاں ہوتی ہیں۔ لیکن پھر بھی خواتین کے لیے اپنی تحصیل سے باہر ڈیوٹی دینا مشکل ہوگا۔ پھر لوگوں کو ٹی اے ڈی اے بھی زیادہ دینا چاہیے اورایڈوانس میں دینا چاہیے۔ پولنگ اسٹیشن میں کیمروں کی تنصیب میں ووٹ کی رازداری یقینی بنائی جائے گی۔ اب تو لوگ اپنے موبائل سے ہی تصویر بنا لیتے ہیں۔ امیدوار ٹھوس وجوہات پر پولنگ اسٹیشن کے قیام پر اعتراض کرسکے گا۔ یہ ٹھوس وجہ کیا ہوگی۔ بہر حال اس کی مزید تشریح ہونی چاہیے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ امیدوار کو لگتا ہے کہ جہاں وہ کمزور ہے وہ وہاں کے پولنگ اسٹیشن پر اعتراض کرتا ہے تاکہ
سوشل میڈیا مقبولیت میں عمران خان کن شخصیات سے بہت پیچھے ہیں؟
وہاں سے کم ووٹ ڈلیں۔
