ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں سے اگلی کنگز پارٹی کون؟

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اگرچہ اگلی کنگز پارٹیز بننے کے لئے آئندہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گی لیکن اسٹیبلشمنٹ اپنی حکمت عملی کے تحت ان سے معاملات تو طے کر سکتی ہے ، انہیں کنگز پارٹی تسلیم نہیں کر سکتی ۔ آئندہ سیٹ اپ چھوٹی چھوٹی کنگز پارٹیز کے ذریعہ چلایا جائےگا۔ یہ اور بات ہے کہ فرنٹ سیٹ پر پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ہو گی. ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار نفیس صدیقی نے اپنی ایک تحریر میں کیا ہے. وہ لکھتے ہیں کہ سقوط ڈھاکا کے بعد باقی ماندہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کو ایک ایسی کنگز پارٹی کی ضرورت تھی ، جو عوام میں مقبول ہو ۔ افغانستان میں سوویت یونین کے حملے سے پہلے پاکستان میں جنرل ضیاالحق کا مارشل لا نافذ کر کے پاکستان کو گریٹ گیم کے لئے تیار کر لیا گیا اور اسٹیبلشمنٹ کو پیپلز پارٹی کے مقابلے میں ایک مقبول کنگز پارٹی بنانے کیلئے بہت وقت مل گیا ۔ 1988کے انتخابات میں اگرچہ پیپلز پارٹی نے زیادہ نشستیں لیں لیکن اس کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کی شکل میں ایک مقبول کنگز پارٹی میدان میں تھی ۔ مسلم لیگ (ن )کو عوامی مقبولیت دلانے کے لئے پوری پروپیگنڈا مشینری اور ریاستی وسائل کو استعمال کیا گیا اور اسے دس سال تک پیپلز پارٹی کے مقابلے میں کنگز پارٹی کا درجہ جاصل رہا۔ جب 1999 میں ایک اور گریٹ گیم کےلئے مسلم لیگ( ن )کی حکومت کا تختہ الٹ کر جنرل پرویز مشرف کی آمریت قائم کی گئی تو مسلم لیگ (ن )کی قیادت نے کنگز پارٹی بننے کی بجائے اپنی عوامی اور سیاسی طاقت پر انحصار کیا ۔ اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کو اب دو مقبول سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کا مقابلہ کرنا تھا اور ان دونوں کو عوامی سیاست سے پیچھے دھکیلنا تھا ۔ اب ایک بہت زیادہ مقبول کنگز پارٹی کی ضرورت تھی ۔ لہٰذا ایک بڑے پروجیکٹ کے طور پر پاکستان تحریک انصاف کو لایا گیا۔ عمران خان کو ہیرو بنانے کے لئے اتنا پروپیگنڈا کیا گیاکہ اس سے خود اسٹیبلشمنٹ کے وسیع حلقے اپنے ہی پروپیگنڈے کا شکار ہو گئے اور اس کی اصل حکمت عملی کے خلاف کھڑے ہو گئے ۔
نفیس صدیقی کہتے ہیں کہ ابھی فوری طور پر ممکن نہیں کہ کوئی کنگز پارٹی بن سکے ، جو تین بڑی سیاسی جماعتوں کو عوامی سیاست سے پیچھے دھکیل دے ۔ یہاں کنگز پارٹی سے مراد ملکی سطح پر کوئی ’’پرو اسٹیبلشمنٹ ‘‘مقبول جماعت ہے ۔ اب زیادہ مقبول کنگز پارٹی والے فارمولے پر شاید دوبارہ کافی عرصے تک عمل نہ ہو۔ ویسے تو چھوٹی چھوٹی کئی کنگز پارٹیز ہوتی ہیں ۔ ان میں قوم پرست، لسانی ، علاقائی ، مذہبی اور فرقہ پرست سیاسی جماعتیں شامل ہوتی ہیں ۔ اس کی مثال تحریک انصاف کی حکومت کی سابق اتحادی جماعتیں ہیں ، جو حکومت سے باہر آئیں تو حکومت گر گئی ۔ جن سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کے لئے سارا زور لگایا گیا ہو ان سے دوبارہ معاملات طے کرنے کے دو اسباب ہوتے ہیں ۔ ایک تو جس کنگز پرٹی پر انحصار کیا جا رہا ہوتا ہے ، وہ یا تو مطلوبہ نتائج نہیں دیتی یا خود کو بڑی طاقت سمجھنے لگتی ہے ۔ دوسرا سبب عالمی اور علاقائی حالات اسٹیبلشمنٹ کو مجبور کر دیتے ہیں ۔ مثلاً اس دفعہ چین کے وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کے موقع پر پی ٹی آئی یا مذہبی جماعتوں کے دھرنے نہیں ہو رہے ۔ حالات بہت تبدیل ہیں ۔ ویسے تو اسٹیبلشمنٹ کے پاس یہ بھی آپشن ہے کہ وہ مذہبی اور فرقہ وارانہ جماعتوں کو زیادہ مقبول بنا کر الیکشن میں اتار دے مگر وہ ایسا نہیں کرے گی کیونکہ بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورت حال اس کی اجازت نہیں دیتی۔ تاہم آئندہ الیکشن میں مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے ساتھ ساتھ دیگر پرو اسٹیبلشمنٹ جماعتوں اور آزاد ارکان کو زیادہ نشستیں دلوائی جا سکتی ہیں ۔ اس کے لئے پی ٹی آئی کے کردار کا بھی تعین کیا جا سکتا ہے ۔ اب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کو سوچنا ہے کہ وہ آپس کی کھینچا تانی میں چھوٹی کنگز پارٹیز کے ساتھ کمزور حکومت چاہتی ہیں یا بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کنگز پارٹیز کی حکومت کی بجائے مضبوط سیاسی حکومت بنانا چاہتی ہیں ۔
