پیٹرول سستاہونےپرآئل کمپنیوں کا104ارب کےنقصان کادعویٰ

آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نےدعویٰ کیا ہے کہ پیٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سے آئل کمپنیوں اور ریفائنریوں کو 104 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے، جس سے ان کے ورکنگ کیپیٹل اور مالیاتی روانی پر شدید اثرات پڑے ہیں۔
آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے حکومت کو ایک ہنگامی خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ یکطرفہ قیمتوں کے فیصلوں نے آئل انڈسٹری کو مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول کی قیمتوں کے تعین میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے مشاورت کی جائے۔
پاکستان کی آئل انڈسٹری نے ایندھن کی فراہمی کو خطرات لاحق ہونے کا انتباہ دیتے ہوئے حکومت سے فوری مذاکرات کا مطالبہ کردیا ہے۔
او سی اے سی کے مطابق موجودہ پالیسی برقرار رہی تو غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان سے نکل سکتے ہیں، جبکہ نسبتاً کمزور آئل کمپنیاں دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
او سی اے سی نے مؤقف اختیار کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا تمام بوجھ آئل کمپنیوں پر ڈالنا غیر منصفانہ اور ناقابلِ برداشت ہے۔ کونسل کے مطابق بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود انڈسٹری نے ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا۔
