ٹیکنالوجی کی دنیا میں آن لائن فراڈ سے کیسے بچا جا ئے؟

آج کل کے جدید دور میں آن لائن فراڈ سے بچنا بہت مشکل ہو گیا ہے، موبائل فون پر سیکنڈز میں آپ کو ایسے لنکس موصول ہو رہے ہوتے ہیں جن پر کلک کرتے ہی فراڈ منٹوں میں انجام پاتا ہے، یا فون کالز کے ذریعے رقم منتقلی کا چونا لگایا جاتا ہے۔’’اردو نیوز‘‘ کے صحافی عامر خاکوانی نے ایسے ہی ایک واقعہ کی منظر کشی کرتے ہوئے بتایا کہ موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ اٹھایا، دوسری طرف سے ایک آواز گونجی، خوش خلقی سے پوچھا گیا ’سر کیسے ہیں آپ؟‘ آواز قدرے جانی پہچانی لگی، مگر کچھ سمجھ نہیں آئی۔ میں نے جواب دیا الحمداللہ سب خیریت ہے، آپ کون؟ دوسری طرف موجود صاحب ہنس کر بولے،’صاحب اب ایسا بھی ہو گا؟ آپ ٹھیک ہے بڑے آدمی ہیں، دنیا آپ کو مانتی ہے، مگر ہم جیسوں کو بھول جائیں گے، یہ سوچا نہیں تھا۔ میں نے شرمندگی سے ذہن پر زور دیتے ہوئے سوچا کہ یہ کون ہو سکتے ہیں؟ ساتھ ہی منمناتی آواز میں کہا، ’دراصل آواز کلیئر نہیں تھی، سمجھ نہیں آ رہا تھا، اس لیے۔ اس پر وہ بولے ’یہی تو میں سوچ رہا تھا کہ سر میری آواز کیسے بھول سکتے ہیں؟ اس دوران میرے ذہن نے فیصلہ کر لیا کہ یہ پڑھا لکھا، کلچرڈ لہجہ ہمارے اخبار کے کراچی دفتر سے کسی شخص کا ہے۔ اپنے مارکیٹنگ منیجر کا خیال آیا، جو کبھی کبھار کسی اشتہار وغیرہ کے حوالے سے کال کر دیا کرتے تھے۔ فوراً کہا، ’آپ کاظمی صاحب بول رہے ہیں ناں؟ اس بار طمانیت آمیز لہجے میں جواب ملا، ’شکر ہے کہ آپ کو ہم یاد ہیں۔میں نے بھی اطمینان کا سانس لیا کہ چلو شرمندگی سے بچ گیا۔ ان سے خیر خیریت پوچھی تو یکایک افسردہ لہجے میں بولے ’سر خیریت نہیں، میں فیصل آباد آیا ہوا ہوں، فیملی میں ایک قریبی عزیز کی وفات ہو گئی ہے۔‘ ظاہر ہے اس پر میں نے افسوس کا اظہار ہی کرنا تھا۔اچانک ’کاظمی صاحب‘ بولے، ’سر آپ کی ایک چھوٹی سی فیور چاہیے۔ یہاں گاﺅں ہے، موبائل کارڈز نہیں مل رہے، میرا بیلنس ختم ہو رہا ہے، پلیز مجھے کارڈ تو لوڈ کرا دیجیے۔ میں دو تین دن بعد لاہور آتا ہوں تو دیتا جاﺅں گا۔زیادہ غور کیے بغیر میں نے کہا، ’جی جی ٹھیک ہے، اسی نمبر پر لوڈ کرا دیتا ہوں۔اچانک وہ بولے، سر، دوسرا نمبر بھی بھیج رہا ہوں، اس پر دوسری کمپنی کا کارڈ بھی کرا دیجئے گا، دونوں ہزار ہزار کے۔ کال ختم ہوئی، مگر اس دوران میں چونک گیا۔ بات کچھ عجیب لگ رہی تھی۔ مارکیٹنگ منیجر ہو، تب بھی میری ان سے ایسی بے تکلفی تو نہیں کہ یوں منہ پھاڑ کر دو ہزار کے کارڈ لوڈ کرانے کا کہہ دیں۔ یاد رہے کہ یہ دس، بارہ سال پہلے کی بات ہے جب دو ہزار اتنے بھی دو ہزار نہیں تھے۔ مجھے خیال آیا، کراچی کے مارکیٹنگ مینیجر کاظمی صاحب کو فون کیا تو معلوم ہوا، وہ کراچی ہی میں ہیں۔ سمجھ آ گئی کہ فراڈ ہو نے لگا تھا۔بطور صحافی ایسے بہت سے واقعات رپورٹ کیے، ان پر فیچر بھی کیے۔فراڈ کے دیگر طریقوں سے بچنے کے لیے میں نے تو چند ایک اصول بنائے ہیں، قارئین سے بھی شیئر کر لیتا ہوں، کسی بھی موبائل کیش اکاﺅنٹ کے حوالے سے کوئی ’سوشل ورک‘ نہیں کرنا۔ایک بات ذہن میں رہے کہ فراڈیے ہمیشہ عجلت سے کام لیتے ہیں۔ آپ پر اتنا دباﺅ ڈالتے ہیں اور ہڑبڑ میں کام کرانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ سوچنے کا وقت ہی نہ ملے۔ اس لیے جب بھی کوئی اتنا دباﺅ ڈالے، شور مچائے، جلدی کرے، بے شک وہ آپ کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو، اسے صاف جواب دے دیں۔ اسے کہیں کہ میں نہیں کر سکتا یا نہیں کر سکتی۔کبھی فون پر آئے منی ٹرانسفر کے میسج پر یقین نہ کریں، کسی بھی منی ٹرانسفر کمپنی کے نمائندے کا فون آئے کہ ٹرانزیکشن ہو گئی ہے، مگر کوئی تکنیکی مسئلہ ہے تو اس پر یقین نہ کریں، ہوشیار ہوجائیں۔ اس لیے جب کسی بھی نمبر سے بینک نمائندے کی کال آئے اور وہ آپ کا ہمدرد بنتے ہوئے آپ کا اکاؤنٹ یا کارڈ بلاک ہونے سے بچانا چاہ رہا ہو تو یہ سمجھ لیں کہ ایک فراڈیے سے واسطہ پڑ گیا۔ اس کا فون فوری بند کر دیں اور کہیں بھاڑ میں جاﺅ۔

Back to top button