کیا افغانیوں کے خلاف آپریشن الیکشن ملتوی کروا دے گا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار حامد میر نے کہا ھے کہ پاکستان کی حکومت اعلان کر رہی ہے کہ یہاں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے یکم نومبر تک پاکستان چھوڑ دیں ورنہ انہیں گرفتار کر لیا جائے گا. ان غیر قانونی افغانوں کے خلاف پورے ملک میں آپریشن شروع کرنا پڑے گا اور ایسی صورت میں سیکورٹی فورسز کم از کم دوتین ماہ کیلئے مصروف ہو جائیں گی ۔ نگران حکومت کا اصل کام الیکشن کرانا ہے سیکورٹی فورسز اور حکومت اس آپریشن میں مصروف ہو گئیں تو الیکشن کون کرائے گا؟ اپنے ایک کالم میں حامد میر کہتے ہیں کہ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ اگر افغانستان میں فساد ہو گا تو پورے ایشیا میں فساد ہو گا اور اگر افغانستان میں خوشحالی آئے گی تو پورے ایشیا میں خوشحالی آئیگی۔
افسوس کہ قیام پاکستان کے بعد حکمران اشرافیہ کی لڑائیوں اورچال بازیوں نے افغانستان اور پاکستان کے عوام میں بہت سی غلط فہمیاں پیدا کیں لیکن دونوں اطراف کے لوگوں کے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتے اتنے مضبوط ہیں کہ وقت گزرنے کےساتھ ساتھ یہ کمزور ہونے کی بجائے مزید مضبوط ہوئے ۔ہمیں ماننا ہو گا کہ افغانستان اور پاکستان کے کئی حکمران ذاتی مفادات کیلئے ہمیں ایک دوسرے سے لڑاتے رہے ۔جب سردار دائود کی حکومت نے پاکستان میں تخریب کاری شروع کرائی تو ذوالفقار علی بھٹو نے گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کی امداد شروع کر دی اور پھر جنرل ضیاء الحق نےتو جہاد افغانستان کے نام پر پاکستان کی سلامتی کو بھی دائو پر لگادیا ۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف آئے اور انہوں نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے نام پر امریکہ کو اپنے ملک میں فوجی اڈے دیئے جہاں سے افغانوں پر بمباری ہوتی تھی۔پاکستان نے بیس سال تک افغانستان کی تحریک مزاحمت کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیا اور اربوں ڈالر کمائے ۔ بیس سال میں یہ مزاحمت ختم نہ ہو سکی تو جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک انٹرنیشنل پاور پلیئر بننے کا شوق چرایا۔
موصوف نے جنرل فیض کے ذریعے دوحہ مذاکرات شروع کئے اور پھر امریکہ نے افغان طالبان کےساتھ ایک معاہدے پر دستخط کر دیئے جس کےتحت امریکہ کو افغانستان سے نکلنا تھا اور طالبان نےبھی وعدہ کیاکہ وہ طاقت کے ذریعے کابل پر قبضہ کرنے کی بجائے ایک وسیع البنیاد نمائندہ حکومت کو اقتدار سپرد کریں گے۔ بدقسمتی سے دوحہ امن معاہدے پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ افغان طالبان نے طاقت کے زور پر کابل کو فتح کر لیا اور طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے طالبان کو راضی کرنے کیلئے بہت کچھ کیا لیکن ان دونوں صاحبان پر کوئی اعتبار نہیں کرتاتھا اور حالات اتنے بگڑے کہ آج پاکستان کی حکومت اعلان کر رہی ہے کہ یہاں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے یکم نومبر تک پاکستان چھوڑ دیں ورنہ انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ اس رائے سے کوئی اختلاف نہیں کر سکتا کہ جو پاکستان میں رہتا ہے اسے پاکستان کے قانون کا احترام کرنا چاہئے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مہاجر بن کر ہمارے پاس آئے اور پھر مالک بننے کی کوشش کرے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں کو یکم نومبر تک نہ نکالا جا سکا تو پھر کیا ہو گا؟ افغان باشندے پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں ان کے خلاف پورے ملک میں آپریشن شروع کرنا پڑے گا اور ایسی صورت میں سیکورٹی فورسز کم از کم دوتین ماہ کیلئے مصروف ہو گئیں تو الیکشن کون کرائے گا؟ حامد میر کہتے ہیں کہ نگران حکومت کا اصل کام الیکشن کرانا ہے فی الحال نگرانوں کی طرف سے الیکشن کے سوا باقی سب کام کئے جا رہے ہیں۔ افغان باشندوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی ہے اور اس سلسلے میں کچھ جگہوں پر ایسے افغان باشندوں کو بھی گرفتار کیا گیا جن کےپاس قانونی دستاویزات موجود تھیں۔ نگران حکومت کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ کسی ایسے افغان کے ساتھ زیادتی نہ ہو جس نے پاکستانی قانون نہیں توڑا۔ جو بھی کیا جائے صرف اور صرف پاکستان کے فائدے کیلئے کیا جائے۔ منشیات فروشوں اور اسمگلروں کو بالکل معاف نہ کیا جائے لیکن بے گناہ افغانوں کو جیلوں میں ٹھونس کر پاکستان کے دشمنوں میں اضافہ نہ کیا جائے۔ یاد رکھیں کہ حکیم الامت علامہ اقبال نے افغانستان کو ایشیا کا دل قرار دیا۔ ایشیا کے دل میں پاکستان نے اپنے لئے خود ہی نفرت بھر دی تو یہ پاکستان کے فائدے میں نہیں
نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی حقیقت کیا ہے؟
ہوگا۔
