نواز شریف کی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی حقیقت کیا ہے؟

نواز شریف کی وطن واپسی کے اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں عروج پر ہیں کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف مقتدر حلقوں کے ساتھ ڈیل کے تحت ہی واپس آ رہے ہیں اور سیاسی میدان میں نون لیگ کیلئے گراؤنڈ تیار کی جا رہی ہے تاکہ اگلی حکومت ان کے حوالے کی جا سکی۔تاہم قانونی ماہرین کے مطابق نواز شریف کی واپسی کے بعد عدالتوں میں زیرسماعت کیس ان کیلئے وبال جان بن سکتے ہیں۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تو نواز شریف ڈیل کے تحت واپس آ رہے ہیں اور میاں نواز شریف کی واپسی میں اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد شامل ہوئی تو قانونی مقدمات بھی ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے اور اسٹیبلشمنٹ ان کا کوئی نہ کوئی حل نکال لے گی۔ان کا مزید کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے انڈر سٹینڈنگ کی وجہ سے ہی نواز شریف اپنے احتسابی بیانیے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور اب اطلاعات ہیں کہ نواز شریف اپنے بیانیے کا فوکس صرف ملکی معیشت اور ترقی کو رکھیں گے اور سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹینینٹ جنرل فیض حمید، سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سمیت موجودہ سپریم کورٹ جج اعجاز الاحسن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ نہیں دہرائیں گے۔  نون لیگ کی جانب سے احتساب کے بیانیے سے پیچھے ہٹنے ابرے سوال کے جواب میں سینئر صحافی ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ ’مسلم لیگ ن کے پاس اس وقت کوئی اور انتخابی بیانیہ نہیں۔ پہلے ان کا بیانیہ ترقی اور خوشحالی ہوتا تھا، وہ اس بار کارگر نہیں۔ دوسرا، یہ ایک پیغام ہے جو ریاست کو یا اسٹیبلشمنٹ کو دیا گیا ہے کہ نواز شریف میاں شہباز شریف نہیں، ان کا اپنا موقف ہے۔‘ لیکن نواز شریف کے اس پیغام کے بعد خود ن لیگ ہی اس بیانیے پر پیچھے ہٹتی کیوں دکھائی دیتی ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئےماجد نظامی کہتے ہیں کہ ’ہو سکتا ہے شہباز شریف کے ذریعے لندن یہ جوابی پیغام بھیجا گیا ہو کہ احتساب اور قومی مجرموں کے حوالے سے سوچا تو جا سکتا ہے لیکن ابھی اظہار کی اجازت نہیں۔‘ صحافی ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ ’نواز شریف کی واپسی میں پہلے دن سے اہم ترین مسئلہ اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی ہے۔ اس کے بغیر ان کی واپسی ممکن نہیں ہو گی۔‘ماجد نظامی کی رائے میں ’میاں نواز شریف کی واپسی میں اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد شامل ہوئی تو قانونی مقدمات بھی ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے اور اسٹیبلشمنٹ ان کا حل نکال لے گی۔‘’ماضی میں بھی اسٹیبلشمنٹ کی ناراضی کی وجہ سے میاں نواز شریف کو عدالتی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے عدالتی مقدمات نہیں، اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی زیادہ اہم شمار ہو گی۔‘ ماجد نظامی نے نواز شریف کی واپسی سے ہی جڑے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ’ن لیگ نے حال ہی میں نواز شریف کے چوتھی بار وزیر اعظم بننے کی بات کی تو انھوں نے اپنا مستقبل کا ارادہ ظاہر کیا اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مریم نواز گروپ کے کچھ لوگوں نے محسوس کیا کہ یہ نہ ہو کہ اگلی باری بھی شہباز شریف کو ملے۔ اس لیے یہ بہتر ہو گا کہ نواز شریف کا ابھی سے نام سامنے لایا جائے۔‘لیکن ایسے میں اگر نواز شریف کے قانونی معاملات اپنی جگہ جوں کے توں موجود ہیں، تو نواز شریف کیا واقعی پاکستان واپس آئیں گے؟ماجد نظامی کہتے ہیں کہ ’مسلم لیگ ن شہباز شریف کی سولہ ماہ کی حکومت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی، اسی لیے وہ نواز شریف کی واپسی سے اس بوجھ سے دوری اختیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی واپسی ایک نیا نعرہ بن کر انتخابی مہم میں سامنے آئے اور شہباز شریف حکومت کا داغ نواز شریف پر منتقل نہ ہو۔‘ واضح رہے کہ 2023 کے پاکستان کا سیاسی منظر نامہ اکتوبر 2019 کے اس پاکستان سے بہت مختلف ہے جب نواز شریف علاج کی غرض سے برطانیہ روانہ ہوئے تھے۔سپریم کورٹ ہو یا فوج، اہم عہدوں پر اب وہ لوگ نہیں رہے جن کے ہوتے ہوئے نواز شریف ملک سے باہر گئے تھے اور نواز شریف کی سیاسی اور قانونی مشکلات اپنی جگہ ہی موجود ہیں۔ایسے میں ن لیگ کی احتساب کے بیانیے سے پسپائی اور بھی اہم ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کے مطابق ن لیگ کا الیکشن کا بیانیہ نواز شریف کی واپسی پر ہی واضح ہو گا لیکن یہ ضرور ہے کہ ’ایک بیانیے کو بننے سے پہلے ہی جماعت کے اندر سے خاصی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور کہا گیا ہے کہ اب ٹکراؤ کی سیاست نہیں کی جائے گی۔’نواز شریف کے آس پاس کے لوگ ٹکراؤ نہیں چاہتے، اس صورتحال میں ظاہر ہے بیانیہ تو لیڈر نے ہی دینا ہوتا ہے، اس لیے میرے نزدیک اس وقت نواز شریف کافی مشکل میں ہیں۔‘’دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف اپنی بات کہہ بھی پائیں گے یا نہیں کیونکہ اس کے بعد سے ان کی جانب سے خاموشی ہے۔‘’یہ بہت دلچسپ ہو گا کہ وہ

عمران خان صدر علوی سے مایوس کیوں ہو گئے؟

واپسی پر اپنے کارکنوں کو کیا بیانیہ دیتے ہیں اور کیا ہائبرڈ رجیم کے کرداروں کا احتساب اس کا حصہ ہو گا یا نہیں۔‘

Back to top button