پاک فوج کا  وزیرستان میں TTP کے خلاف ڈرون استعمال کرنے کا فیصلہ

پاکستانی فوج نے وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے زمینی حملوں کی بجائے ڈرون حملوں پر فوکس کرنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ وہ نئی ٹیکنالوجی ہے جو اب پاک فوج انٹیلیجنس معلومات کے بنیاد پر کی جانے والی فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ خیبرپختونخوا کے علاقے شمالی وزیرستان میں ایک فوجی آپریشن میں دو دہشتگردوں کی ہلاکت کی ایک حالیہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹی ٹی پی سے منسلک دہشت گردوں کے ٹھکانے پر ڈرون حملہ کیا گیا۔سوشل میڈیا پر پاکستانی فوج کے حامی اکاؤنٹس کی جانب سے شیئر کی جانے والی یہ ویڈیو دراصل میر علی کے گاؤں موسکی کی ہے۔ اس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے چند افراد ایک گھر کے احاطے میں موجود ہیں۔ ان میں سے وہ جنھیں ’ٹارگٹ‘ کہا جا رہا ہے، ایک کمرے میں جاتے ہیں اور پھر چند ہی سیکنڈز میں اس کمرے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ حملہ اس قدر مہارت کے ساتھ کیا گیا کہ کمرے کی چھت پر راکٹ کے داغنے کا نشان بھی موجود تھا اور حملے میں اس کمپاؤنڈ کے باقی کسی حصے کو نقصان نہیں پہنچا۔ ایسی ہی ایک اور ویڈیو میں فوجی دستے ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کرتے ہیں جس میں ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد موجود ہیں۔ اس دوران کارروائی کی مکمل فلمنگ ڈرون کواڈ کاپٹر سے کی جا رہی ہے اور کمپاؤنڈ کے اندر کی صورتحال سے فوجی کمانڈرز کو آگاہ بھی رکھا جا رہا ہے۔اسی طرح ایک اور ویڈیو میں چند دہشت گردوں کو ایک پگڈنڈی پر چلتے دیکھا جا سکتا ہے۔یہ ویڈیو اس قدر واضح ہے کہ ان کے چہرے بھی شناخت کیے جا سکتے ہیں۔ پھر انھیں ٹارگٹ کیا جاتا ہے اور ڈرون ہی کے ذریعے میزائل فائر کیے جاتے ہیں۔ بعدازاں اسی ایکس اکاونٹ نے یہ دعوی بھی کیا کہ اس حملے میں یہ چاروں افراد ہلاک ہوئے۔

 دوسری جانب ان کارروائیوں سے جڑے افسران نے تصدیق کی ہے کہ یہ ویڈیوز گذشتہ کچھ ہفتوں میں ہونے والے آپریشنز کی ہی ہیں اور یہ بھی کہ پاک فوج کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی ’حکمت عملی میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے خاصی تبدیلی آئی ہے۔‘ ان کے مطابق ’پاکستان اب روایتی فضائی حملوں کے بجائے زیادہ سمارٹ طریقے سے اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ڈرون کی مدد سے کارروائیاں زیادہ موثر اور کم نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں، کیونکہ یہ خاص اہداف پر فوکس کرتے ہیں اور غیر ضروری جانی نقصان نہیں ہوتا۔‘

یاد رہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا حصہ بنے دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ اس وقت خاص طور پر پاکستان آرمی گوریلا وارفیئر اور مشکل علاقوں میں کاؤنٹر ٹیررازم آپریشنز میں مہارت رکھنے والی فوج کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اس مہارت کے باوجود اب بہت سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے کیے جا رہے ہیں۔ دفاعی ٹیکنالوجی سے منسلک تجزیہ کار سید محمد علی کا کہنا ہے کہ جب بھی کسی ہدف کا پتا چلتا ہے تو ایک فوجی کمانڈر کے پاس کئی آپشنز موجود ہوتے ہیں، لیکن ڈرون متعارف ہونے کے بعد ان کمانڈرز کو ایک ایسا آپشن مل گیا ہے جس کے ذریعے وہ ایک شخص، عمارت یا ٹارگٹ کی شناخت کرنے کے بعد اس کو نشانہ بناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ اتنی احتیاط سے ہوتا ہے کہ کولیٹرل ڈیمج نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔‘

ان کا خیال ہے کہ اس کا فائدہ صرف فوج کو نہیں بلکہ اس سے عام شہریوں کو بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ماضی میں بڑے پیمانے پر تباہی اور کولیٹرل ڈیمج ہونے کی وجہ سے فوج کو اپنا عسکری مقصد تو حاصل ہو جاتا تھا لیکن ایسی کارروائیوں کے نتیجے میں عوامی سطح پر امیج خراب ہوتا رہا ہے۔

سید محمد علی اس جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ جنگ کے حوالے سے عالمی قوانین کے مطابق یہ لازم ہے کہ متحرک اور غیرمتحرک شخص میں تفریق کر کے ٹارگٹ کرنا ہی کسی ریاست کا حق ہے۔ اس لیے پاکستان کاؤنٹر ٹیررازم آپریشنز کے دوران اب بیانیہ بھی کنٹرول کر رہا ہے۔ جبکہ فوجی اعتبار سے اب یہ فائدہ ہے کہ بڑے ہتھیار اور بڑے پیمانے پر گولہ بارود استعمال کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کی تینوں مسلح افواج اس وقت مختلف اقسام کے ڈرونز استعمال کر رہی ہیں۔ ان میں خاص طور پر ایسے چھوٹے ڈرونز ہیں جو پاکستان میں ہی اپنے وسائل سے تیار کیے جا رہے ہیں۔ ان کی دوسری قسم جدید اور بڑے ڈرونز کی ہے جو ترکی اور چین سمیت چند دیگر ممالک سے خریدے جا رہے ہیں۔ انھیں میڈیم رینج ڈرونز کہا جاتا ہے۔ یہ ڈرونز طویل دورانیے تک فضا میں پرواز کر سکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر ایمیونیشن یا گولہ بارود لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس وقت پاکستان آرمی کئی مقاصد کے لیے کاونٹر ٹیررازم آپریشنز میں مختلف قسم کے ڈرونز کو استعمال کر رہی ہے: نگرانی اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور انکی نقل و حرکت کی نگرانی کرتے اور ان کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔

الیکٹرانک وارفیئر سے منسلک ڈرونز دہشت گردوں کے مواصلاتی نیٹ ورکس کا سراغ لگانے، بلاک کرنے، اور نگرانی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والے یہ ڈرونز انتہائی مہارت سے کسی مخصوص ہدف کو ایسے نشانہ بناتے ہیں کہ مطلوبہ ہدف کے علاوہ نقصان انتہائی کم ہو۔ یہ لڑاکا طیاروں اور جنگی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے کی جانے والی فضائی کارروائی کے مقابلے میں انتہائی موثر ہیں، خاص طور پر ایسی صورت میں جب نشانہ کوئی ایک عمارت ہو۔

صدر زرداری نے شہباز سے حکومتی کارکردگی کی رپورٹ کیوں مانگ لی ؟

اس کے علاوہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ڈرون طیاروں کو ایک فلائیٹ پیکج یعنی مکمل جنگی حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق پاکستان کے پاس انسداد دہشت گردی کی جنگ میں یہ تمام ڈرونز نہ صرف موجود ہیں بلکہ استعمال بھی ہو رہے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس تین سو کے قریب ڈرون طیارے موجود ہیں جس میں ملک میں بنائے گئے اور دیگر ممالک سے خریدے گئے ڈرونز شامل ہیں۔عسکری ماہرین کے مطابق جنگی طیارے کے ایک مشن میں ہزاروں ڈالرز خرچ ہوتے ہیں جبکہ ڈرونز کی آپریشنل لاگت نہایت کم ہے۔ ڈرون کا استعمال انسانی جان کے نقصان سے بچاتا ہے جبکہ جنگی جہازوں، عملے کی تربیت اور مرمت جیسے اخراجات بھی کئی گنا کم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح چھوٹے ڈرون طویل دورانیے تک فضا میں موجود رہ سکتے ہیں جو بیشتر جنگی جہاز نہیں کر سکتے۔

Back to top button