روس، ایران، افغان بارٹر ٹریڈ سے پاکستان کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے؟

معاشی تنزلی، بڑھتی مہنگائی، زرمبادلہ ذخائر میں کمی کے دوران ہمسایہ ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، روس، ایران، افغانستان کے درمیان بارٹر ٹریڈ کے ذریعے کاروباری معاہدہ طے پا گیا ہے، جس میں پاکستان کو بھی حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔
حکم نامے کے تحت افغانستان سے پھل اور گری دار میوے، سبزیاں، دالیں، مصالحے، تیل کے بیج، معدنیات اور دھاتیں، کوئلے کی مصنوعات، ربڑ کا خام مال، کھالیں، کپاس، لوہا اور فولاد منگوائی جا سکتی ہے، اسی طرح ایران سے پھل، گری دار میوے، سبزیاں، مصالحے، معدنیات اور دھاتیں، کوئلے کی مصنوعات، پٹرولیم، خام تیل، ایل این جی، ایل پی جی، کیمیائی مواد کی متفرق اشیا، کھادیں، پلاسٹک اور ربڑ کی اشیا، کھالیں، خام اون، لوہا اور فولاد شامل ہیں۔
روس سے دالیں، گندم، کوئلے کی مصنوعات، پٹرولیم آئل (بمعہ کروڈ)، ایل این جی، ایل پی جی، کھادیں، رنگ روغن کی اشیا، پلاسٹک اور ربڑ، معدنیات اور دھاتیں، لکڑی اور کاغذ، کمیائی مواد، لوہا اور فولاد، ٹیکسٹائل صنعت کی اشیا اور مشینری شامل ہے۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر فدا حسین دشتی جو ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے حامیوں میں سے ہیں۔
فدا حسین دشتی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت کے ساتھ واضح ہو گیا ہے کہ اس کے ساتھ روس کو شامل کرنا بھی فائدہ مند ہے جس کے مثبت اثرات مرتب ہونگے، ایران اور افغانستان کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے ذریعے ڈالر کی قدر میں کمی میں مدد ملے گی۔
فداحسین نے بتایا کہ بارٹر ٹریڈ کا معاہدہ چھ نومبر 2021 کو ہوا تھا جو 2022 میں مکمل ہوا، ہم نے جولائی کے مہینے میں اس پر تجرباتی بنیاد پر کام کرنا تھا، لیکن اس وقت ایک مسئلہ ہوا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے اس حوالے سے سٹے جاری کیا تھا، تاجروں نے عدالت کے ڈر سے اس کام شروع نہیں کیا۔دوسری جانب ماہر اقتصادیات ڈاکٹر فرخ سلیم سمجھتے ہیں کہ دنیا میں بارٹر ٹریڈ کا زمانہ دو ہزار سال پہلے تھا جو اب ختم ہو چکا ہے جب دنیا میں کرنسی کا وجود نہیں تھا، اس وقت ہم آگے جانے کے بجائے پیچھے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر فرخ سلیم نے انڈپینڈںٹ اردو کو بتایا ہماری سالانہ تجارت دنیا کے ساتھ 100 ارب ڈالر تک ہے، جن ممالک کے ساتھ تجارت کی جا رہی ہے ان کے ساتھ تجارت میں حصہ تین سے چار فیصد بھی نہیں ہے، میرے نزدیک اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک چھوٹا سا قدم ہے درست سمت میں لیکن اس سے کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیں ہو گی، اس سے پاکستان کے تجارتی خسارے میں کمی ہوگی نہ ہی اس سے ڈالر کی قیمت میں کمی آئے گی۔
ڈاکٹرفرخ کے مطابق: ’اس سے نہ ہی ملک میں جو پچاس فیصد مہنگائی ہے اس پر کوئی فرق پڑے گا اور روس سے تیل لینے کے معاملے پر مصدق ملک نے خود ہی کہہ دیا ہے کہ ملک میں تیل کی قیمتوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہا بارٹر ٹریڈ کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی ایک کمپنی جو کپڑا بناتی ہے وہ افغانستان میں کوئی کمپنی تلاش کرے گی جو انار برآمد کرتی ہے، اس کے ساتھ لین کرے گی کہ ہم آپ کو کپڑے دیں گے، آپ ہمیں انار دیدیں، ہم کرنسی استعمال نہیں کریں گے۔
فرخ سلیم کہتے ہیں کہ ہم افغانستان کے ساتھ ویسے ہی سالانہ ایک ارب ڈالر کی تجارت کر رہے ہیں، تجارت اس ملک سے ہوتی ہے جس کو اس چیز کی ضرورت ہو جیسے پاکستان میں کپڑا زیادہ بنتا ہے، دو تہائی برآمد اسی کی ہوتی ہے، کپڑ ے کے خریدار یورپی یونین اور امریکہ ہیں، ان کے ساتھ کوئی تجارت ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ جن ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ ہو رہا ہے، ہم نے گذشتہ پچاس سالوں میں ان کے ساتھ کوئی تجارت نہیں کی، اگر ایران کے ساتھ تجارت

شادی کے 50 سال بعد بھی اداکار منور سعید لان میں کیوں سوتے ہیں؟

شروع کی جاتی ہے تو اس کے جواب میں پابندیوں کا سامنا کون کرے گا؟

Back to top button