پی ٹی آئی کارکنوں پرشیلنگ،پختونخواحکومت کاقانونی کارروائی کااعلان

تحریک انصاف کے کارکنوں پرشیلنگ کیخلاف خیبرپختونخواحکومت نےقانونی کارروائی کافیصلہ کااعلان کردیا ۔

مشیراطلاعات خیبرپختونخوابیرسٹر محمدعلی سیف نےکہا کہ کل پی ٹی آئی کارکنوں پربراہ راست شیلنگ اور فائرنگ کی گئی۔شیلنگ پرکےپی حکومت عدالت جائے گی۔ایڈووکیٹ جنرل کےپی سےقانونی کارروائی سےمتعلق کہاجائے گا۔

بیرسٹرسیف نےکہا کہ پُرامن کارکنوں پراس طرح شیلنگ اورفائرنگ کہاں کا قانون ہے؟ قانون کی پاسداری کوئی خیبرپختونخواحکومت سےسیکھے۔کل وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپورنےجس طرح پنجاب پولیس اہلکاروں کومحفوظ بنایا سب کےسامنے ہے۔

مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹرسیف نےدعویٰ کیا ہےکہ حکومت نےکل ماڈل ٹاون جیسےسانحےکاپروگرام بنارکھا تھا لیکن پاکستان تحریک انصاف کے دلیر کارکنان نےبدترین فسطائیت کاڈٹ کر مقابلہ کیا۔گزشتہ روزپی ٹی آئی کے کارکنوں پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں۔راولپنڈی شہراورموٹروےمقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کررہاتھا۔

بیرسٹرسیف نےکہا کہ پی ٹی آئی خواتین پرشیلنگ کی گئی۔بدترین مارشل لا میں بھی اس طرح کی فسطائیت نہیں ہوتی۔حکومت فسطائیت کےریکارڈ توڑرہی ہے۔پی ٹی آئی کےتمام کارکنان کوکامیاب احتجاج ریکارڈکرانےپرمبارکباد پیش کرتےہیں۔

بیرسٹرسیف نےوزیراعلی پنجاب کوپیغام دیا کہ مریم نوازتیاری پکڑیں۔اگلےہفتے علی امین گنڈاپورپھرپنجاب آ کراحتجاج ریکارڈ کریں گے۔

واضح رہے کہ راولپنڈی پولیس نےلیاقت باغ او گردنواح میں ہونیوالےاحتجاج اور جھڑپوں کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے58 سےزائد مقامی رہنماؤں پر مقدمہ درج کرلیا جبکہ 103کارکنوں کوگرفتار کرلیا۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کےخلاف مقدمہ تھانہ وارث خان میں درج کیا گیاجس میں سیمابیہ طاہر،شہریار ریاض،اعجازخان جازی،راشدحفیظ،اجمل صابراور ناصرمحفوظ کونامزد کیا گیا۔

راولپنڈی پولیس کی جانب سےدرج مقدمے میں چوہدری امیر افضل، عمرتنویر بٹ اور ملک فیصل سمیت150 نامعلوم افرادکوبھی نامزد کیا گیا ہے۔مقدمے میں دہشتگردی، اقدام قتل، توڑپھوڑ،کارسرکار میں مداخلت کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کےمتن کےمطابق ملزمان نےلیاقت باغ میں ریاست مخالف نعرے لگائے،کارکنان نےاسلحہ،ڈنڈےاورلاٹھیاں اٹھا رکھی تھیں۔کارکنان نے پولیس اہلکاروں اور سرکاری گاڑیوں پرپتھراؤ بھی کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخواعلی امین گنڈاپورکاکہنا ہےکہ گولی کاجواب گولی سےملے گا ۔باضابطہ طورپرانقلاب لانےکااعلان کردیا۔

وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورکاویڈیو بیان میں کہناہےکہ ملک میں پہلےہماری عزتوں، چارد اورچاردیواری کےتقدس کو پامال کیا گیالیکن ہم نےملک کےلیےاف تک نہیں کی، اب ہم پربھی گولیاں برسائی جا رہی ہیں۔آج ہمارے2 کارکنوں کو گولیاں ماری گئی۔تیسرے کارکن کوگولی ماری گئی جس کا پتہ نہیں چل رہا۔ہم پر سیدھے شیل مارکر50 سےزیادہ کارکنوں کوزخمی کیا گیا، پنجاب کی حدود میں ہر 3 کلو میٹر پر ہم پرشیل اورگولیاں برساتےرہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانےکہا کہ پورا پاکستان ہماراہے۔پورےملک کومبارک باد دیتا ہوں، آج کئی پولیس اہلکارہمارےہتھےچڑھے لیکن میں نےان کوریسکیو کیا، پنجاب پولیس کےنوجوانوں اگراپنےباپ کےاولاد ہو تو بیان دوکےہم نے تم کو چھوڑ دیا تھا۔

لیاقت باغ احتجاج،پی ٹی آئی کے58 رہنماؤں کیخلاف مقدمہ درج،103کارکن گرفتار

علی امین نےکہا کہ اس کےبعدکوئی گولی برسائےگا،تو اس پرگولی برسائی جائے گی۔تم ایک گولی چلاؤ گےہم10 گولی چلائیں گے۔تم ایک شیل اورلاٹھی ماروگےہم 10 ماریں گے۔انہوں نےکہاہے کہ پختونخوا کےلوگوں قبائل میں جرگے کرو،سب متحد ہو جائیں۔اگر تم لوگ کہتےہو کہ یہ سب ہماراہے۔اور وہ ہمیں ماریں گےتو پھر مرنےکےلیےتیارہوجائیں۔یہ میراواضح پیغام ہےدھمکی نہیں ہےاوریہ اصلاح کی آخری وارنگ ہے۔

Back to top button