افغانستان میں حکومت کی تبدیلی سے پاکستان کاکوئی تعلق نہیں،وزیردفاع

وزیر دفاع خواجہ آصف نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی سےپاکستان کاکوئی تعلق نہیں انہوں نے ان الزامات کو ’بے بنیاد اور سراسر لغو‘ قرار دیدیا۔

خواجہ آصف نے غیرملکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہاکہ میں سخت الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتاہمیں افغانستان کے معاملات میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔ گزشتہ چار پانچ دہائیوں میں ہم بہت کچھ بھگت چکے ہیں، اب ہم صرف ایک مہذب پڑوسی کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔

وزیر دفاع نے یہ خیال بھی رد کر دیا کہ امریکا طالبان حکومت کے خلاف کسی قسم کی سازش کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ امریکا وہاں حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے تو میری رائے میں طالبان کا واشنگٹن سے پہلے ہی خوشگوار تعلق موجود ہے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ افغانستان کو بھارت یا کسی بھی دوسرے ملک سے تعلقات قائم کرنے کا حق ہے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں، جب تک ان تعلقات سے ہماری سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہاکہ وہ بھارت کے ساتھ اتحاد کریں، معاہدہ کریں یا تجارت، یہ ان کا حق ہے۔ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں، جب تک اس کے اثرات ہماری سرزمین پر نہ آئیں۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ حالیہ دوحہ مذاکرات میں ایک نیا اتفاق رائے طے پایا ہے، جس کے تحت ترکیہ اور قطر بطور ضامن کردار ادا کریں گے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اب افغان سرزمین سے کارروائیاں نہ کرے۔

انہوں نے انکشاف کیاکہ کابل حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ ٹی ٹی پی ان کی سرزمین سے کام کر رہی ہے، اور غیر رسمی طور پر وہ اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ ماضی میں وہ ان جنگجوؤں کو سرحد سے دور منتقل کرنے کی بات بھی کر چکے ہیں۔

خواجہ آصف کے مطابق دوحہ معاہدے کی سب سے اہم شق یہی ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ استنبول میں ہونے والی آئندہ ملاقات میں اس سمجھوتے پر عملدرآمد کے لیے مانیٹرنگ میکنزم کو حتمی شکل دی جائے گی۔

 

 

Back to top button