شہر اقتدار آج کل قیاس آرائیوں کی زد میں کیوں ہے؟

شہر اقتدار آج کل مختلف قیاس آرائیوں کی زد میں ہے، کہیں قبل از وقت اسمبلی کی تحلیل کی باز گشت سنائی دیتی ہے تو کہیں معاشی ایمرجنسی کی بنیاد پر اسمبلی کی مدت ایک سال بڑھانے کی افواہیں گرم ہیں کہیں اکتوبر میں عام انتخابات کی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں تو کہیں ٹیکنو کریٹس کا سیٹ اپ تشکیل دے کر معاملات مزید ایک دو سال ایسے ہی چلانے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ غرضیکہ اقتدار کے ایوانوں میں آج کل بے یقینی کی سی کیفیت موجود ہے۔ حالانکہ قومی اسمبلی کی مدت 12 اگست 2023 ء کو مکمل ہو جائے گی، جس کے بعد 60 روز میں انتخابات ہونا آئینی تقاضا ہے۔اگر اسمبلی مدت پوری ہونے سے ایک روز بھی پہلے تحلیل کر دی جائے تو نوے روز یعنی نومبر کے وسط سے قبل انتخابات کرانا آئین کا منشا ہے، مگر وطنِ عزیز میں غیر یقینی صورتحال کا یہ عالم ہے کہ ہر کوئی سوال پوچھتا نظر آتا ہے کہ انتخابات اپنی مقررہ مدت میں ہو پائیں گے یا نہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال کی ایک بڑی وجہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نگران سیٹ اَپ کا نوے روز کی آئینی مدت گزرنے کے باوجود جاری رہنا ہے۔
سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے باوجود پنجاب میں انتخابات نہیں ہو سکے۔ وفاقی کابینہ کے ارکان کی جانب سے انتخابات کے انعقاد سے متعلق بیانات نے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ کر دیا۔ ایک قیاس آرائی یہ ہونے لگی کہ موجودہ اسمبلی کی مدت میں اضافہ کرکے آئندہ چھ ماہ یہی حکومت چلے گی تو دوسری قیاس آرائی ہوئی کہ اگست میں اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد ایسا نگران سیٹ اَپ آئے گا جو طویل چلے گا۔
منگل کے روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے بیان دیا کہ حکومت کی آئینی مدت اگست میں ختم ہو نے کے بعد نگران سیٹ اَپ آئے گا جو انتخابات کرائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات کیلئے میدان میں آچکی ہے۔ کیا واقعی مسلم لیگ (ن) انتخابات کیلئے تیار ہو چکی ہے ؟ کیونکہ اب تک پی ڈی ایم میں موجودہ پاکستان مسلم لیگ( ن) اور جے یو آئی ف وقت پر انتخابات کرانے کے حق میں نظر نہیں آرہے تھے۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے چند روز قبل بیان دیا تھاکہ انتخابات تب ہوں گے جب وہ چاہیں گے جبکہ مولانا فضل الرحمن یہ کہتے سنائی دیئے کیا ملک کو نئے ہنگاموں کی بھینٹ چڑھا دیں یا اس ملک کو کھڑا کرکے چلائیں۔ ایسے میں شہرِ اقتدار میں یہ قیاس آرائیاں تقویت اختیار کرنے لگیں کہ 2023ء شاید انتخابات کا سال نہ ہو، مگر اب صورتحال اچانک تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ انتخابات کے التوا کے شکو ک و شبہات بڑھانے والی سیاسی جماعتیں خود انتخابات کی تیاریوں میں لگ چکی ہیں۔آصف علی زرداری پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی عوام میں جانے سے قبل موجودہ حکومتی اتحاد سے راہیں الگ کرنے کیلئے پر تول رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) میں کچھ اداروں میں تعیناتیوں کے معاملے پر اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے ان کی جماعت کے وزرا ء کی وزارتوں میں مداخلتوں کے شکوے ہونے لگے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے، مریم نواز کی جانب سے انتخابی جلسے شروع کر دیئے گئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے کئی ماہ سے التوا کے شکار انٹرا پارٹی الیکشن اگلے دو روز میں کرانے کا اعلان کر دیا ہے تاکہ الیکشن میں انتخابی نشان کی الاٹمنٹ میں کوئی رکاوٹ نہ آسکے۔ موجودہ صورتحال سے چند ہفتے قبل صرف پاکستان تحریک انصاف ایسی جماعت تھی جو انتخابات کیلئے تیار نظر آتی تھی مگر اب جب ملک میں انتخابی گہما گہمی شروع ہوتی دکھائی دینے لگی ہے پی ٹی آئی قصہ پارینہ دکھائی دیتی ہے۔
انتخابات کا اچانک ماحول بننے کی وجہ جاننے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ حکومت میں شامل کچھ جماعتیں انتخابات کا التوا کیوں چاہتی تھیں؟ تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں سیاسی ہیجانی کیفیت پیدا ہوئی اور سیاسی عدم استحکام کے ساتھ معاشی عدم استحکام نے عام آدمی کی زندگی کو متاثر کیا۔ مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ڈالر اور پٹرول کی قیمتوں نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔
پی ڈی ایم کے حکومت میں آنے کے بعد تحریک انصاف کی حکومت کی ناکامیاں بھی موجودہ حکومت کے گلے پڑ گئیں۔ حالانکہ جب پی ٹی آئی کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار کے ایوان سے باہر نکالا گیا تو معاشی صورتحال اور مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ مریم نواز کی جانب سے سابق وزیر اعظم کو ہیلمٹ پہن کر عوام میں جانے کے مشورے دیئے جاتے تھے۔
ایسے میں حکومتی اتحاد میں یہ سوچ پائی جانے لگی کہ موجودہ معاشی صورتحال میں فوری طور پر وہ عوام کا سامنا نہیں کر پائیں گے مگر عالمی منظر نامے پر ہونے والی تبدیلیوں نے پاکستان اور اس کی معیشت پر بھی اثرات مرتب کرنے شروع کر دیئے ہیں۔
رواں سال کے آغاز میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالرز فی بیرل کو چھو رہی تھی جو اَب 71 ڈالرز فی بیرل تک گر چکی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں بھی واضح کمی ہو چکی ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ روس سے تیل آیا ہے، جس کی ادائیگی ڈالرز کی بجائے چینی کرنسی میں کی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام نہ ملنے پر بھی حکومت کے پاس پلان بی موجود ہے۔
یکم جولائی کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی متوقع ہے۔ روس سے معاہدے کے بعد ایل پی جی کی ترسیل شروع ہو چکی ہے جس کی قیمت میں بھی بڑی کمی متوقع ہے۔ حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط کے باوجود کم ٹیکسز لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور دوسری جانب ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے مشکل ترین معاشی صورتحال کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 35 فیصد تک اضافے کا اعلان کر دیا۔ایسے میں مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت اپنے اجلاسوں میں یہ کہتی سنائی دیتی ہے کہ کچھ مزید ریلیف کے اعلانات اور اقدامات کرنے کے بعد حکومت سے نکل کر عوام میں جانے کا یہ بہتر موقع ہے۔ یوں اسمبلی کی مدت بڑھانے
سعودی عرب میں ذی الحج کا چاند نظر آگیا
کی بجائے اگست میں نگران سیٹ اَپ آنے کے امکانات واضح ہونے لگے ہیں۔
