چیئرمین نادرا نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیوں کیا؟

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین طارق ملک کے حال ہی میں دیے گئے استعفے کا معاملہ پاکستان میں موضوعِ بحث ہے۔ جہاں ایک طرف طارق ملک کیخلاف کرپشن انکوائریاں چل رہی ہیں وہیں ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ سابق چیئرمین نادرا طارق ملک آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی فیملی کا ڈیٹا لیک ہونے کے معاملے میں بھی ملوث ہیں۔ جس کی وجہ سے ہی وہ مستعفی ہوئے ہیں۔ تاہم دوسری جانب طارق ملک نے اپنے استعفے میں سیاسی تقسیم اور سیاسی وفاداری کو صلاحیت پر ترجیح دیے جانے کا الزام عائد کیا ہے۔ طارق ملک کا کہنا ہے کہ وہ اپنے استعفے کی وجوہات پر فی الحال زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے۔طارق ملک نے تین صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کیا جسے انہوں نے منظور کرلیا ۔

یہ استعفیٰ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مبینہ طور پر حکومتی شخصیات طارق ملک سے ناخوش تھیں جب کہ ان کے خلاف نیب اور ایف آئی اے میں کرپشن الزامات میں کیسز بھی چل رہے ہیں۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ طارق ملک کے فی الحال بیرون ملک جانے پر بھی پابندی ہے۔

وائس آف امریکہ نے طارق ملک سے رابطہ کیا اور ان سے استعفے کی وجوہات کے بارے میں جب سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ فی الحال اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔ان کا کہنا تھا وہ تمام باتیں آن ریکارڈ کرتے ہیں اور کچھ چھپاتے نہیں ہیں لیکن فی الحال اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتے۔

طارق ملک نے اپنے استعفے میں ان کاموں کی فہرست بھی دی جو وہ اپنے دورِ ملازمت میں کرتے رہے۔اپنی ملازمت چھوڑنےکی وجوہات کے بارے میں انہوں نے استعفے میں لکھا کہ ان کے لیے پولرائزڈ سیاسی ماحول میں کام کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ کسی بھی پروفیشنل کے لیے ایمانداری اور آزادی سے ایسے ماحول میں کام کرنا مشکل ہوتا ہے جہاں ہر وقت ‘ہمارے اور تمہارے لوگ’ کا کہا جائے۔انہوں نے اس عہدے کے لیے کسی موزوں شخص کو مقرر کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو چیئرمین نادرا تعینات نہ کیا جائے۔طارق ملک کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ نے حال ہی میں مجھے پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب پر تیار کی جانے والی نیشنل ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ کی ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ اسی وجہ سے چیئرمین نادرا کے عہدے سے سبکدوش ہو رہا ہوں تاکہ پوری لگن سے نئی ذمہ داریاں نبھا سکوں۔

تاہم دوسری جانب طارق ملک کے استعفے بارے سینئر صحافی اعزاز سید کا کہنا ہے کہ طارق ملک کے حوالے سے ایک عرصے سے حکومت کو اعتراضات تھے اور وہ انہیں تبدیل کرنا چاہ رہی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ طارق ملک کے خلاف آئرس سسٹم اور مردم شماری میں استعمال ہونے والے ٹیبلٹس کی خریداری سے متعلق نیب اور ایف آئی اے میں بھی تحقیقات جاری ہیں اور ان پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اعزاز سید کے بقول طارق ملک کو حکومت اپنے مخالفین کا ساتھی سمجھتی تھی اور طارق ملک نے اپنے استعفیٰ میں جو کچھ لکھا ہے وہ درست ہے کہ اس وقت پولرائزڈ سیاسی ماحول ہے جس میں تمہارا اور ہمارا آدمی سمجھا جارہا ہے۔ان کے بقول طارق ملک اپنے شعبے کے ماہر تھے۔ ان کی نادرا میں موجودگی کی وجہ سے بہت سے کام بہتر ہوئے لیکن اب انہیں حکومتی ناپسندیدگی کی وجہ سے ہٹا دیا گیا ہے جس پر کئی ماہ سے کام جاری تھا۔

سینئر صحافی ثنااللہ خان نے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طارق ملک پر کرپشن کے الزامات تو لگے ہیں لیکن ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔اُن کے بقول اصل معاملہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ان کے اہل خانہ کا ڈیٹا شئیر ہونے سے متعلق ہے۔ اس بارے میں اب تک چھ افراد نوکریوں سے فارغ ہوچکے اور ان کے خلاف کریمنل کارروائی ہورہی ہے۔ اس بارے میں شک ظاہر کیا جارہا ہے کہ طارق ملک بھی اس میں ملوث تھے۔

طارق ملک پر جن دو کیسزمیں تحقیقات ہورہی ہیں۔ ان میں سے ایک کیس میں نیب نے چھ جون کو طارق ملک کو طلب کر کے ان سے نادرا کے آئرس سسٹم کی 35 لاکھ ڈالر میں خریداری کا ریکارڈ مانگا تھا۔ اس کے علاوہ نیب نے نادرا کی جانب سے ٹھیکے دینے کے قواعد و ضوابط بھی طلب کیے تھے۔اس کے علاوہ ان کے خلاف مردم شماری میں استعمال ہونے والی ٹیبلٹس کی خریداری میں کرپشن کے الزامات کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

طارق ملک ان تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ان تمام الزامات کا جواب دینے تک پاکستان میں ہی رہیں گے۔ تاہم ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے حکومت نے ان کا نام اسٹاپ لسٹ میں بھی شامل کردیا ہے۔

خیال۔رہے کہ طارق ملک پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں بھی چئیرمین نادرا رہ چکے ہیں۔ لیکن 2013 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اس وقت کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار سے اختلافات کے بعد وہ مستعفی ہوگئے تھے۔بعد ازاں عمران خان کے دور میں انہیں نادرا کی سربراہی کے لیے چنا گیا لیکن ایک مرتبہ پھر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں انہیں اپنا عہدہ ان الفاظ کے ساتھ چھوڑنا پڑا کہ "وہ ماحول جہاں سیاسی وفاداری کو قابلیت پر فوقیت دی جائے وہاں پروفیشنل آدمی کے لیے اپنی ساکھ اور آزادی

شہر اقتدار آج کل قیاس آرائیوں کی زد میں کیوں ہے؟

برقرار رکھنا مشکل ہے۔”

Back to top button