عمران خان کا انقلاب لانے کا خواب ٹھس کیسے ہوا؟

سابق سفیر حسین حقانی کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان سمجھتے ہیں کہ مقتدر اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو للکار کر پھر سے وہی طاقت حاصل کر لیں گے جو پہلے بظاہر ان کے پاس تھی تو فی الحال ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ جمہوریت کے بجائے ساری لڑائی اپنی ذات کے لئے لڑنا اور اپنی مقبولیت دکھانے کے لئے تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کا حربہ آزمانا فوج کے ہاتھوں ان کی شکست کا باعث بنا۔
عالمی جریدے کیلئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حسین حقانی کا مزید کہنا ہے کہ پچھلے سال میں پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لینے والا بحران اب اپنی حدوں کو چھو رہا ہے۔ سال 2022 کے موسم بہار میں سابق وزیر اعظم عمران خان جنہیں گذشتہ سال پارلیمان کی عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے حکومت سے بے دخل کیا گیا تھا، جس کے بعد ملک کی طاقتور فوج، تحریک انصاف اور حکمران سیاسی جماعتوں کے مابین رسہ کشی اپمے عروج پر پے۔
ایک وقت تھا جب عمران خان کو فوج کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل تھی اور اسی حمایت کے بل بوتے پر 2018 میں وہ اقتدار میں آئے تھے مگر اس کے بعد عمران خان 2022 میں فوج کی حمایت اور نتیجتاً اقتدار کھو بیٹھے۔ تب سے انہوں نے ملک بھر میں ریلیوں اور جلسے جلوسوں کی قیادت شروع کر دی جن میں وہ برملا الزام لگاتے رہے کہ انہیں اقتدار سے نکالنے کے لئے امریکہ کی مدد سے سازش کی گئی تھی۔ امریکہ کے ساتھ ساتھ وہ پی ڈی ایم حکومت کو بھی برا بھلا کہتے رہے اور سینیئر فوجی افسران پر بھی الزام عائد کرتے رہے۔
حسین حقانی کے مطابق اس سلسلے کا انجام 9 مئی کے واقعات کی صورت میں ہمارے سامنے آیا جب عمران خان کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا اور اس واقعے نے ان کے حامیوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔ عمران خان کے حامی ہجوم نے فوجی ہیڈ کوارٹرز اور متعدد فوجی تنصیبات پر حملے کیے جن کے بعد ملک بھر میں کریک ڈاؤن شروع ہو گیا۔ اب تک ہزاروں کی تعداد میں عمران خان کے حامیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، پی ٹی آئی کے متعدد رہنما پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ حسین حقانی کے مطابق اگر عمران خان سمجھتے ہیں کہ مقتدر اور طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو للکار کر پھر سے وہی طاقت حاصل کر لیں گے جو پہلے بظاہر ان کے پاس تھی تو فی الحال ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ عمران خان جو اکثر ایک مقبول عام جذباتی رہنما نظر آتے ہیں ان کی جانب سے جمہوریت کے بجائے ساری لڑائی اپنی ذات کے لئے لڑنا اور اپنی مقبولیت دکھانے کے لئے تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کا حربہ آزمانا فوج کے ہاتھوں ان کی شکست کا باعث بن سکتا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ ملک کی کمزور جمہوریت کی حفاظت کرتے، وہ مسلسل دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے رہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے سے مضبوط فوجی جرنیلوں کو مزید طاقت مل گئی اور ملک پر ان کی گرفت اور بھی پختہ ہو گئی۔
حسین حقانی کے مطابق عمران خان پاکستانی سیاست کی مرکزی شخصیت بن چکے ہیں جنہیں پاکستانیوں کے ایسے طبقے کی پسندیدگی حاصل ہے جو روایتی سیاست دانوں کے بارے میں بدگمان ہیں۔ پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کو ان کے پیروکار مسیحا سمجھتے ہیں جبکہ ناقدین انہیں ایک شرپسند فتنہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم عمران خان پاکستان میں وہ پہلے سیاست دان ہیں جو سوشل میڈیا کے ماہر ہیں، نوجوان سپورٹرز انہیں عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسی وجہ سے عمران خان کی جانب سے امریکہ، پاکستانی فوجی قیادت اور روایتی سیاست دانوں کے خلاف گھڑے گئے سازشی نظریات کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ سبھی پاپولسٹ لیڈروں کی مانند عمران خان کو بھی بات کرنے کا گُر آتا ہے جو اپنے حامیوں کے غصے اور بے اختیاری کے احساس کو اچھی طرح استعمال کرتے ہیں۔ تاہم دیگر پاپولسٹ لیڈرز ہی کی مانند وہ مسائل کے حقیقی حل تجویز کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے بعد جب عمران خان نے فوج کو للکارنا شروع کیا تو بعض مبصرین کو لگا کہ یہ پاکستانی سیاست میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ ان کا خیال تھا کہ بطور ایک کرشماتی رہنما کے آخرکار عمران خان اتنی عوامی حمایت حاصل کرنے میں غالباً کامیاب ہو جائے گا کہ پاکستانی فوج کی حاکمیت کو ختم کر دے گا۔ لیکن 9 مئی کے واقعات جن کے دوران عمران خان کے حامیوں نے فوجی تنصیبات پر حملے کیے اور جو اب ثابت ہو رہا ہے کہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے تھے، انہوں نے فوج کے لئے عمران خان کے چیلنج کو بے اثر کر دیا ہے۔ ان حملوں نے فوج اور عمران خان کے سیاسی مخالفین کو جواز فراہم کر دیا ہے کہ وہ عمران خان کے خلاف سخت اقدامات اٹھائیں۔ انقلاب کے لئے عمران خان کی غیر ذمہ دارانہ اپیلوں نے فوج کو کھلا راستہ دے دیا کہ وہ عمران خان کے مخالف عوام کی حمایت حاصل کریں اور ملک پر اپنی گرفت کو مزید مضبوط کر سکیں۔عمران خان کے پیروکاروں کو فوجی عمارتوں میں گھسنے اور ان پر حملے کرنے کے جرم میں اب پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا ہے۔ اسی طرح حساس مقامات کی لوکیشن سوشل میڈیا پر ظاہر کرنے کے جرم میں انہیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔
عمران خان کو ایک قانونی رکاوٹ کا بھی سامنا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے انہیں انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے، عین اسی طرح جیسے 2017 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان کا راستہ صاف کرنے کے لئے کمزور قانونی بنیادوں پر تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ عمران خان کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی حمایت حاصل ہے جو مئی میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد ان کے دفاع میں کود پڑے تھے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم کو ضمانت پر رہائی دے دی اور ان کی گرفتاری کے طریقہ کار کو غیر آئینی قرار دیا۔ عمران خان کو حاصل اس عدالتی حمایت کے ردعمل میں سپریم کورٹ کے سامنے اتحادی جماعتوں کے مظاہرے شروع ہو گئے جن میں بائیں بازو کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور دائیں بازو کی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام شامل تھیں۔ یہ جماعتیں پاکستان کے موجودہ حکمران اتحاد کا بھی حصہ ہیں۔ عمران خان کے ساتھ حکمران اتحاد کے جھگڑے نے ملک کے ماحول سے بچی کچھی سیاسی آکسیجن بھی کھینچ لی ہے۔ یہاں تک کہ اگر حکومت چیف جسٹس بندیال پر قابو پانے اور عمران خان کو الیکشن لڑنے سے نااہل کروانے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے، تب بھی حکومت کو ملک کے بے شمار سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملنے والی۔ عین اسی طرح جیسے چند سال پہلے فوج کی حمایت سے عمران خان کو اقتدار میں لایا گیا تھا مگر
مختلف شہروں میں بارشوں سے حادثات،7 افراد جاں بحق
ملکی مسائل کو حل کرنے میں اس سے کوئی مدد نہیں ملی تھی۔
