کیا پاکستان باقاعدہ چائنہ بلاک کا حصہ بن چکا ہے؟

ماضی میں جہاں ایک طرف امریکا کے ساتھ تعلق رکھنے اور امریکی بلاک کا حصہ بننے سے پاکستان کو بہت سے نقصانات کا سامنا رہا۔ وہیں دوسری طرف ملک میں جاری معاشی بحران کے حل میں کسی قسم کی مدد کرنے کی بجائے آئی ایم ایف کے ذریعے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے ہتھکنڈوں کے بعد حکومت نے اپنی ماضی کی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے امریکہ کی بجائے چائنہ بلاک میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے روس سے تجارتی تعلقات بڑھاتے ہوئے ایک لاکھ ٹن خام تیل کی خریداری،  تیل کی خریداری کیلئے ڈالر کے بجائے چینی کرنسی میں ادائیگی اور ایران سے بارٹر ٹریڈ کی شروعات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ تاہم اس ساری پیشرفت سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا روس اور چین سے تجارتی تعلقات بڑھانے کا مطلب یہ لیا جائے کہ پاکستان نے امریکی بلاک چھوڑ کر روس اور چین کے بلاک میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی ہے؟ نیز کیا پاکستان نے امریکا کے لیے اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کر دی ہے؟ان اہم سوالات جواب دیتے ہوئے سابق سفیر اور ماہر امور خارجہ ظفر ہلالی کہتے ہیں کہ اب پاکستان اور امریکا کے تعلقات کچھ اچھے نہیں ہیں، امریکا کا ساتھ دے کر پاکستان دنیا سے الگ ہوتا جا رہا تھا، پاکستان کے معاشی حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ ملک کسی بھی وقت ڈیفالٹ کر سکتا ہے، اگر ایسا ہو گیا تو پاکستان کو کوئی ملک ادویات تک بھی نہیں دے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلق رکھنے اور امریکی بلاک کا حصہ بننے سے پاکستان کو بہت سے نقصانات کا سامنا رہا ہے، اب وقت ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات ختم ہو جانے چاہئیں اور دونوں ممالک کے درمیان خوش اسلوبی سے ’Friendly Divorce‘ ہو جانی چاہیے، پاکستان کو ثابت کرنا ہوگا کہ ہم امریکا کی مدد کے بغیر بھی ترقی کر سکتے ہیں۔سابق سفیر ظفر ہلالی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں جو پیشرفت ہونی چاہیے تھی وہ نہ ہو سکی ہے، سی پیک بھی سست روی کا شکار ہے، چین کی مدد سے پاکستان کو زراعت، بجلی اور پانی کے منصوبوں میں بہتری آنی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

دوسری جانب تجزیہ کار سید محمد علی کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان عالمی طاقتوں کی باہمی مخاصمت کا نہیں بنے گا، کسی بھی خاص ملک کا ساتھ دینا قومی مفاد میں نہیں ہے۔پاکستان عالمی طاقتوں کی باہمی مخاصمت کا حصہ نہیں بنے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری آئی ہے، جب کہ پاکستان کی امریکا کے لیے خارجہ پالیسی مزید واضح ہو گئی ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر حال ہی میں پی ایم اے پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب میں کہ چکے ہیں کہ پاکستان کسی عالمی بلاک کا حصہ نہیں بنے گا۔پاکستان کا روس کے ساتھ توانائی کے شعبوں میں تجارتی تعلق بڑھ رہا ہے جب کہ امریکا کے ساتھ سلامتی اور تجارتی تعلقات ہیں، امریکا اب پاکستان کی سب سے بڑی تجارتی منڈی بن چکا ہے، پاکستان کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنا ضروری ہے۔

سابق سفیر لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعودکا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کہ پاکستان اور امریکا کے درینہ تعلقات ہیں، پاکستان نے ماضی میں کئی مواقع پر امریکا کا ساتھ دیا ہے، جب افغانستان میں طالبان کا قبضہ ہوا تو پاکستان نے امریکا کی پالیسی کی حمایت کی جس سے پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑا ہے، دوسری جانب ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی اور پھر آپریشن میں بھی پاکستان نے امریکا کی مدد کی، اس کے جواب میں امریکا نے بھی پاکستان کی امداد بحال کی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود نے کہا کہ 1965ء کی جنگ میں امریکا نے پاکستان کی امداد نہیں کی، اور چین نے پاکستان کی مدد کی، اس سے پاکستان اور چین کی دوستی کی بنیاد بنی اور اب یہ دوستی زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تو امریکا کے ساتھ بہت تعاون کر چکا ہے لیکن امریکا کا زیادہ جھکاؤ بھارت کی جانب ہے، امریکا اور بھارت دونوں مل کر چین کو معاشی

نگران وزیر اطلاعات عامر میرکو سیاحت، آرکیالوجی،میوزیم کا قلمدان بھی مل گیا

طور پر زیر کرنا چاہتے ہیں۔

Back to top button