صدر علوی سٹھیا گئے، انتخابی شیڈول جاری کرنے کا فیصلہ؟

سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے اعلان کے بعد پاکستان میں عام انتخابات کا انعقاد کسی صورت بھی 9 ماہ سے پہلے ممکن نہیں ہے عام انتخابات مئی 2024 کے بعد ہونگے۔ تاہم ذرائع کا دعوی ہے کہ صدر عارف علوی نے الیکشن ایکٹ میں ترامیم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غیر قانونی طور پر ملک میں از خود انتخابی شیڈول جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد ایک اور آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اپنے دعوے کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ 2023 کی مردم شماری کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیاں چار ماہ میں ہی مکمل ہوسکیں گی اور پھر اس مردم و خانہ شماری کی بنیاد پر انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ نظرثانی شدہ انتخابی فہرستوں پر اعتراضات بھی ہوں گے اور پھر ووٹر فہرستوں کی طباعت کا عمل مکمل ہونے میں بھی تین ماہ درکار ہوں گے۔ دو ماہ بعد انتخابی شیڈول کے اجرا کےلیے 54؍دن چاہئیں۔ اس طرح آئندہ عام انتخابات کا انعقاد 9؍ماہ یامئی 2024سے قبل ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔

کنور دلشاد کا مزید کہنا تھا کہ وہ یہ بات نہ صرف اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں بلکہ وہ لوگ جو انتخابی فہرستوں نظرثانی کو نظرانداز کر رہے ہیں، اسے بھی الیکشن ایکٹ 2017 سے گزرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی حلقہ بندیوں کے بعد تازہ انتخابی فہرستوں کی تیاری لازمی عمل ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ الیکشن کمیشن حال ہی میں یہ کہہ چکا ہے کہ 2023میں ساتویں مردم و خانہ شماری کے نتائج باقاعدہ شائع ہوچکے ہیں لہٰذا الیکشن کمیشن نئی انتخابی حلقہ بندیاں کرنے کی پابند ہے۔

نئی حلقہ بندیاں 8 سے 7؍اکتوبر کے درمیان ہوں گی۔ حلقہ بندیوں پر تجاویز 10؍اکتوبر سے 8؍نومبر کے درمیان کی جائیں گی۔ قومی اور صوبائی اسمبلیاں 5 تا 7؍ستمبر مختص کیے جائیں گے۔ شیڈول کے مطابق ابتدائی حلقہ بندیوں کی حدود پر مبنی تفصیلات 9؍اکتوبر کو شائع کی جائیں گی۔ جس پر ریپریزنٹنٹس الیکشن کمیشن 11؍نومبر تک قبول کرے گا۔ جنہیں درست کرکے 8؍دسمبر تک جاری کردیا جائیگا۔ جبکہ حتمی حلقہ بندیاں 14؍دسمبر 2023تک شائع ہوں گی۔ اس طرح ملک میں 9 ماہ سے پہلے انتخابات کا انعقاد ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

کنور دلشاد نے مزید انکشاف کیا کہ صدر عارف علوی ملک میں آئینی بحران کو مزید گہرا کرنے کی ایک اور کوشش میں ملک کے مروجہ انتخابی قوانین کی پرواہ کیے بغیر جلد ہی ملک میں عام انتخابات کی تاریخ اور شیڈول اپنے طور پر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر کنور محمد دلشاد کا دعوی ہے کہ انہیں صدارتی محل کی معتبر اتھارٹی کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ صدر کچھ اعلانات کے ذریعے صورتحال پیدا کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ صدر نے اپنے احکامات کے اجراء کے لیے آئین کے آرٹیکل 48 (5) کا استحصال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

کنور دلشاد نے یاد دلایا کہ عام انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری ہے اور اسے ملک کے انتخابی قوانین کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ پارلیمان کی جانب سے انتخابی قوانین میں متعارف کرائی گئی حالیہ اصلاحات نے ملک میں انتخابات کے لیے شیڈول اور تاریخ جاری کرنے کا اختیار ای سی پی کو سونپ دیا ہے۔ ایسے میں صدر علوی کی جانب سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان ملک میں ایک نئے سیاسی اور قانونی بحران کا سبب بنے

فردوس عاشق اعوان شعیب ملک کی معترف کیوں ہیں؟

گا۔

Back to top button