سیالکوٹ واقعہ میں تحریک لبیک کا نام کیوں دبایا جا رہا ہے؟

وزیراعظم عمران خان کی طرح ان کی وفاقی کابینہ کے ارکان بھی عمران خان کی طرح ہر اہم قومی مسئلہ پر کنفیوژن کا شکار دکھائی دیتے ہیں، جس کی ایک تازہ مثال سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری منیجر کے افسوسناک قتل پر دیے گے متضاد بیانات ہیں۔
ایک جانب وزیر اطلاعات فواد چودہری نے اس بہیمانہ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے معاشرے میں انتہا پسندی کے ٹائم بم لگا دیے ہیں جو اب پھٹ رہے ہیں، تو دوسری جانب وزیر دفاع پرویز خٹک نے سری لنکن شہری کے قتل کی انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ  اسلام کے نام پر نوجوانوں کو جوش آ ہی جاتا ہے، بچوں میں ایسا ہو جاتا ہے، لڑائیاں بھی ہوتی ہیں، قتل بھی ہو جاتے ہیں، ہم جب جوان تھے تو پاگل ہوتے تھے، لیکن اس واقعہ کو کسی جماعت سے نہ جوڑا جائے اور نہ ہی اس سے پاکستان کا کچھ بگڑنے والا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ دونوں میں سے کس وفاقی وزیر کے موقف کو حکومت کا موقف سمجھا جائے کیونکہ ایک حکومت کا ترجمان ہے تو دوسرا ملکی دفاع کا ذمہ دار ہے۔
زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ سیالکوٹ کے افسوسناک واقعہ میں تحریک لبیک کے کردار کو چھپایا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کیونکہ حکومت نے حال ہی میں ریاست کی رٹ کا جنازہ نکالتے ہوئے اس پر عائد کردہ پابندی ختم کی تھی اور یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اب لبیک کسی پرتشدد کارروائی میں شریک نہیں ہو گی۔ اب صورتحال یہ یے کہ ایک وزیر نام لیے بغیر اس واقعے میں ملوث جماعت کی مذمت کر رہا یے تو دوسرا وزیر واقعے کی اصل ذمہ دار جماعت تحریک لبیک کی پردہ پوشی کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور پولیس حکام پر بھی دباؤ ہے کہ وہ لبیک کا نام لینے کی بجائے صرف افراد کو ذمہ دار ٹھہرایئں۔
یاد رہے کہ پچھلے ماہ تحریک لبیک نے سیالکوٹ کے قریب وزیرآباد میں پندرہ روز کا دھرنا دیا تھا۔ اس دوران فیکٹری میں کام کرنے والے درجنوں ورکرز تحریک لبیک سے متاثر ہو گے اور اسکے دھرنے میں بھی شرکت کرنے لگے۔ اسی دوران انہوں نے فیکٹری کی دیواروں پر لبیک کے پوسٹرز اور مشینوں پر اسٹیکرز آویزاں کر دیئے گئے۔ جب فیکٹری منیجر نے انہیں اتروانے کی کوشش کی تو لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگانے والوں نے اسے گستاخ اور ملعون قرار دے دیا، اسکے بعد جو ہوا وہ سب جانتے ہیں۔ تاہم پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ کے واقعے تحریک لبیک کے ساتھ جوڑنا غلط ہے۔ دراصل اسلام کے نام پر نوجوان جوش میں آ جاتے ہیں اور جذبے میں ایسا کام کر جاتے ہیں، ہر ایک کی اپنی سوچ ہے، سیالکوٹ میں لڑکے اکٹھےہوئے، اُنہوں نے نعرہ لگایا کہ اسلام کے خلاف کام ہو رہا ہے ،وہ جذبے میں آ گئے اور اچانک یہ کام ہو گیا ،اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سب کچھ بگڑ گیا، پاکستان کا کچھ نہیں بگڑنے والا۔ میڈیا بھی لوگوں کو سمجھائے کہ چند نوجوان جذبے میں آ گئے تھے اور ایسا کچھ نہیں ہوا جیسا تاثر دیا جارہا ہے۔
دوسری جانب فواد چوہدری یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں اس وقت ٹائم بم ٹک ٹک کر رہے ہیں لیکن وہ اس بات کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ یہ ٹائم بم کس نے لگائے ہیں اور حکومت انہیں ناکارہ بنانے کی بجائے انکی حفاظت کیوں کر رہی ہے۔ سیالکوٹ واقعے کی تحقیقات کرنے والے چند سینئر پولیس افسران کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کا نام نہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے حالانکہ سری لنکن مینجر کو قتل کرنے والوں نے خود تسلیم کیا ہے کہ ان کا تعلق تحریک لبیک سے ہے۔ لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر لبیک سے پابندی اٹھا کر اسے اتنا طاقتور نہ بنایا جاتا تو شاید یہ افسوسناک واقعہ پیش نہ آتا۔ اسی لیے خفگی سے بچنے کے لیے حکومت اس واقعے میں لبیک کا نام نہیں آنے دے رہی۔
تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سیالکوٹ واقعے نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مغربی ممالک میں موجود پاکستانی تارکین وطن شدید صدمے اور لاچاری کا سامنا کررہے ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس سانحہ کے بعد کسی بھی سطح پر تحریک لبیک پر عائد کردہ پابندی اٹھانے کا دفاع کرنا ممکن نہیں رہا۔ جہاں بھی پاکستان کے حوالے سے کوئی بات کی جائے گی تو سیالکوٹ میں ہونے والے اس قتل کے بارے میں ضرور سوال اٹھایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: فیکٹری انتظامیہ کی سری لنکن مینیجر کو بچانے کی کوشش کیسے ناکام ہوئی؟

سیالکوٹ واقعے کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ تو تسلیم کرلیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی کے ٹائم بم اب پھٹنا شروع ہو گئے ہیں لیکن افسوس کہ حکومت اور ریاست کی سلامتی اور استحکام کے ذمہ دار تمام لوگ اس المناک سانحہ پر بیان دینے اور قصور واروں کو سنگین سزائیں دلوانے کے روایتی بیانات سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ دوسری جانب پولیس کو اس واقعے کی ذمہ دار جماعت کا نام لینے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔

Back to top button