اسلام آباد میں اربوں روپے مالیت کا سیف سٹی پراجیکٹ ناکام
2016 میں وفاقی دارالحکومت میں سٹریٹ کرائمز کی روک تھام کیلئے شروع کردہ سیف سٹی پراجیکٹ اپنے اہداف حاصل کرنے میں بُری طرح ناکام ہو گیا ہے، 6 سالوں کے دوران اسلام آباد پولیس نے 57 ہزار 719 مقدمات درج کیے لیکن سید سٹی سسٹم کی مدد سے کسی ایک بھی واردات کا سراغ نہیں لگایا جا سکا اور نہ ہی کسی مجرم کو گرفتار کیا جا سکا، اسلام آباد سیف سٹی پروجیکٹ کو جون 2016 میں ایک ہزار 950 سی سی ٹی وی کیمروں کے ساتھ آپریشنل کیا گیا تھا لیکن تب سے اب تک اس سسٹم سے کسی بھی واقعے کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔
سیف سٹی پراجیکٹ کا مقصد دہشتگردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کی روک تھام تھا، 6 ارب روپے کے اس منصوبے کا آئیڈیا 2008 میں پیش کیا گیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد 2016 میں کیا جا سکا۔ اسلام آباد سیف سٹی پروجیکٹ کے کنٹرول روم میں 130 ایل ای ڈی اسکرینیں لگائی گئی ہیں، یہ اسکرینیں 25 کروڑ روپے کے جدید ترین سافٹ ویئر سے لیس ہیں جو اس وقت صرف امریکا اور انگلینڈ میں استعمال ہو رہے ہیں، جرم کے ارتکاب کے بعد فرار ہونے والے ملزمان کا پیچھا کرنا اور انہیں گرفتار کرنا بھی اس منصوبے کے مقاصد میں شامل تھا لیکن حکام کے مطابق ایک ہزار 806 انٹرایکٹو ویڈیو سسٹمز اور 191 آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریڈرز کے باوجود 6 سال کے دوران یہ منصوبہ بدانتظامی کے سبب اپنا بنیادی مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
سید سٹی پراجیکٹ سے وابستہ افسران نے بتایا کہ یکم جنوری 2016 سے اسلام آباد پولیس نے 57 ہزار 719 مقدمات درج کیے ہیں جن میں شہریوں کے خلاف 7 ہزار 628 جرائم، ڈکیتی اور چوری کی 17 ہزار 857 وارداتیں شامل تھیں، لیکن ان جرائم کی روک تھام کے لیے سیف سٹی پروجیکٹ کا تعاون نہ ہونے کے برابر رہا تاہم اس منصوبے نے اسلام آباد پولیس کو موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج اور مظاہروں پر قابو پانے اور مظاہرین کی شناخت میں مدد فراہم کی ہے، لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس منصوبے نے شہریوں کے بجائے حکومت کی خدمت کی ہے۔
سیف سٹی پروجیکٹ سے منسلک افسران کا کہنا ہے کہ ان کے سیٹ اپ میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی ریکارڈنگ کو محفوظ کرنے کے لیے کوئی مناسب بیک اپ نہیں ہے اور 60 روز کی ریکارڈنگ کے لیے صرف ایک بیک اپ دستیاب ہے، زیادہ تر اوقات
فیض حمید تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات میں شامل
میں مختلف وجوہات کی بنا پر یہ سی سی ٹی وی کیمرے غیر فعال ہو جاتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران تقریباً 300 سی سی ٹی وی کیمروں کی مرمت کر کے انہیں دوبارہ آپریشنل کیا گیا، افسران نے کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے کنٹرول روم کو چلانے کے لیے سی سی ٹی وی اور سافٹ ویئر پرانے ہو چکے ہیں، یہ سی سی ٹی وی کیمرے رات کے وقت یا بارش میں کام نہیں کر سکتے، لہٰذا اس منصوبے سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بہت سے مسائل ہیں۔
اس منصوبے کے تحت اسلام آباد میں ایک ہزار 997 کیمرے نصب کیے گئے تھے لیکن گزشتہ 6 برسوں کے دوران دارالحکومت کی حدود میں توسیع ہو چکی ہے اور اب ان کیمروں کی موجودہ تعداد اسلام آباد کے صرف 40 فیصد علاقوں کی نگرانی کر سکتی ہے۔ سیف سٹی پروجیکٹ آفس میں صرف 70 اسکرینیں نصب ہیں اور 72 اہلکاروں کی ٹیم مختلف شفٹوں میں اسکرینوں کی نگرانی کرتی ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودہ تعداد کو اگر ڈبل کرکے چار ہزار بھی کر دیا جائے تو بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ انکی نگرانی کے لیے اسکرینیں اور عملہ دستیاب نہیں ہے۔
