سوزوکی گاڑیوں کے کونسے ماڈل کتنے مہنگے ہوئے ہیں؟
ٹویوٹا اور ہنڈا کے بعد سوزوکی نے بھی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، آلٹو وی ایکس کی قیمت 14 لاکھ 75 ہزار سے بڑھ کر 17 لاکھ 89 ہزار روپے ہو گئی ہیں جبکہ ویگن آر وی ایکس آر کی قیمت میں بھی تقریباً پانچ لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ہے اور اسکی قیمت 20 لاکھ 84 ہزار سے بڑھ کر 25 لاکھ 49 ہزار ہو گئی ہے۔
اسی طرح آلٹو وی ایکس آر کی قیمت 20 لاکھ 79 ہزار ہو گئی ہے جبکہ چند روز قبل تک اس کی قیمت 17 لاکھ 33 ہزار روپے تھی، آلٹو اے جی ایس کی قیمت 19 لاکھ 51 ہزار روپے سے بڑھ کر 23 لاکھ 39 ہزار ہو گئی ہے، نئی قیمتوں کے مطابق اب ویگن آر اے جی ایس 29 لاکھ 49 ہزار، کلٹس وی ایکس آر 28 لاکھ 89 ہزار، کلٹس وی ایکس ایل 31 لاکھ 59 ہزار، کلٹس اے جی ایس 33 لاکھ 79 ہزار، سوئفٹ جی ایل ایم ٹی 33 لاکھ 49 ہزار میں ملے گی۔
اسی طرح سوئفٹ جی ایل سی وی ٹی کی قیمت میں تقریباً چھ لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ہے جو 29 لاکھ 98 ہزار سے بڑھ کر 35 لاکھ 99 ہزار تک پہنچ گئی ہے، سوئفٹ جی ایل ایکس سی وی ٹی کی نئی قیمت 39 لاکھ 59 ہزار ہو گئی جبکہ اس سے قبل یہ کار 32 لاکھ 98 ہزار روپے میں فروخت ہو رہی تھی۔
اسی طرح دیگر گاڑیوں یعنی راوی، بولان وین اور بولان کارگو کی نئی قیمتیں بالترتیب 14 لاکھ 99 ہزار، 15 لاکھ 79 ہزار اور 13 لاکھ 15 ہزار روپے مقرر کی گئی ہیں، یعنی ان تنیوں ماڈلز کی قیمتوں میں دو سے تین لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے والی دو بڑی کمپنیوں ٹیوٹا اور سوزوکی نے خام مال کی عدم دستیابی اور روپے کی قدر میں عدم استحکام کے پیش نظر آئندہ ماہ سے اپنے پلانٹس جزوی طور پر بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ پاکستان میں ٹویوٹا گاڑیاں بنانے والی انڈس موٹر کمپنی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹیو علی اصغر نے بتایا کہ کمپنی ان صارفین کو رقم واپس کرنے کی پیش کش
یوم تکبیر کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن بحال ہوا
کر رہی ہے جنہیں گاڑیوں کی فراہمی میں تاخیر کا سامنا ہے، ڈیلیوری میں کم سے کم تین ماہ کی تاخیر ہو سکتی ہے اور قیمتوں پر نظر ثانی کی جائے گی کیونکہ ملک میں ڈالرز دستیاب نہیں ہیں۔
پاک سوزوکی موٹرز جو سوزوکی گاڑیوں کو مقامی طور پر اسمبل کرتا ہے، کے تعلقات عامہ کے سربراہ شفیق اے شیخ کے مطابق حکومتی پابندیوں نے بندرگاہوں سے درآمدی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس پر منفی اثر ڈالا ہے، اور خام مال کی عدم دستیابی کے نتیجے میں سوزوکی کا۔پروڈکشن پلانٹ اگست میں بند ہو سکتا ہے، شفیق شیخ کے بقول اگر یہی صورت حال رہی تو اگست میں بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
