اداکارہ ثانیہ سعید نے زندگی میں محبت کو ضروری قرار کیوں دیدیا؟

پاکستانی ٹی وی، فلم کی معروف اداکارہ ثانیہ سعید نے انکشاف کیا ہے کہ انسان کو زندگی میں ایک مرتبہ ضرور محبت کرنی چاہئے، محبت صرف رومانس کا نام نہیں بلکہ یہ کسی رشتے یعنی والد، والدہ، بہن، بھائیوں کے روپ میں بھی ہو سکتی ہے۔اپنی جاندار اداکاری سے مداحوں کے دلوں میں گھر کرنے والی پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اور منجھی ہوئی اداکارہ "ثانیہ سعید” نے دنیا نیوز کے مقبول ترین پروگرام "مذاق رات” میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنی اداکاری، کیریئر اور محبت کے حوالے سے کھل کر بات کی۔شو کے دوران میزبان عمران اشرف کی جانب سے محبت کے سوال پر ثانیہ سعید نے کہا کہ انسان کو محبت ضرور کرنی چاہئے اور کم از کم ایک اور زیادہ سے زیادہ جتنی بار ہو جائے محبت کرنی چاہئے، پنجابی زبان میرے دل کے بہت قریب ہے اور مجھے مکمل طور پر سمجھ آتی ہے کیونکہ میرا بچپن اور کیریئر کا زیادہ وقت پنجابی بولنے والوں کیساتھ گزرا ہے۔انہوں نے بچپن اور پڑھائی کی بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے بہت چھوٹی عمر میں ہی کام شروع کر دیا تھا اور اپنا پڑھائی کا خرچہ بطور وائس اوور آرٹسٹ کام کرکے پورا کرتی تھی، کیریئر کے آغاز میں ہم اپنی عمر کی لڑکیاں ایک دوسرے کو کردار سے متعلق رہنمائی کر دیا کرتی تھیں اور بہت بار تو ایسا بھی ہوا کہ جو کردار مجھے آفر ہوتا تھا میں پڑھ کر کہہ دیتی تھی فلاں لڑکی یہ کردار مجھ سے زیادہ اچھا نبھا سکتی ہے۔

آج کل کے پاکستانی ڈراموں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ثانیہ سعید کا کہنا تھا کہ اب ہمارے ڈراموں سے مقصد ختم ہوتے جا رہے ہیں، پہلے ڈراموں میں مسائل پر گفتگو کرنے کیساتھ ان کو حل کرنے کے طریقے بھی اپنائے اور بتائے جاتے تھے، ثانیہ سعید نے میزبان کی فرمائش پر شو کے دوران فیض احمد فیض کی ایک نظم سنا کر بھی خوب داد سمیٹی۔کرداروں کے شخصیت پر ہونے والے اثرات سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے بتایا کہ شروع میں ان پر اثر ہوتا تھا لیکن اب وہ اتنا زیادہ کام کر چکی ہیں کہ ان پر کرداروں کا اثر نہیں ہوتا، لیکن وہ اپنے اچھے کرداروں کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہیں، انہیں اپنا مہرالنسا کا کردار بہت اچھا لگا تھا، اسی وجہ سے انہوں نے کردار کی کچھ عادتیں اپنا لیں۔ڈراموں اور اداکاروں پر کی جانے والی تنقید کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہر اداکار محنت کرتا لیکن جب وہ خود پر تنقید سنتا ہے تو اسے تکلیف اور دکھ پہنچتا ہے اور یہ فطری عمل ہے، اداکاری اور تنقید ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور جو اداکار تنقید کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں رہتا، دراصل وہ کبھی اچھا اداکار ہی نہیں بن پاتا۔

Back to top button