شہباز کو وزیراعظم اور پرویز کو وزیر اعلی بنانے کا فارمولا

وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے خلاف ایک ساتھ تحریک عدم اعتماد لانے کے منصوبے پر کام شروع ہونے کے بعد اب سابق وزیراعظم نواز شریف نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ مرکز میں قاف لیگ کی حمایت لینے کرنے کے لیے پنجاب کی وزارت اعلیٰ چودھری پرویزالٰہی کو دی جانی چاہیئے یا نہیں؟
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں قاف لیگ کی حمایت حاصل کرنے کے لئے آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن نے نواز لیگ کو باقاعدہ یہ تجویز پیش کر دی یے کہ پنجاب میں عثمان بزدار کی جگہ چوہدری پرویز الہی کو وزارت اعلی کا امیدوار بنادیا جائے تاکہ مرکز میں مطلوبہ نمبرز گیم پوری ہوجائے۔ خیال رہے کہ مرکز اور پنجاب میں عمران خان کی دونوں حکومتیں قاف لیگ کے ووٹوں کی بنیاد پر قائم ہیں اور اگر گجرات کے چوہدری عمران کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو دونوں حکومتیں دھڑام سے گر جائیں گی۔
لیکن اب گیند سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کورٹ میں ہے جنہوں نے چوہدری پرویز الہی کو وزارت اعلی پنجاب کا امیدوار بنانے یا نہ بنانے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنا ہے۔ ماضی قریب میں نواز لیگ ایسا سوچنے پر بھی تیار نہیں تھی کیونکہ اس کا موقف تھا کہ پنجاب میں تحریک انصاف کے بعد سب سے بڑی جماعت نواز لیگ ہے لہٰذا وزارت اعلیٰ ہر صرف اس کا حق بنتا ہے۔
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پیپلزپارٹی اور مولانا فضل الرحمان نے پرویز الہی کو وزیر اعلی بنانے کی تجویز دی ہے تو یقینا اس حوالے سے نواز لیگ کی قیادت کے ساتھ بھی مشورہ کیا گیا ہوگا۔ لیکن چونکہ یہ نواز لیگ کے لیے ایک بڑا فیصلہ ہے لہذا فیس سیونگ کے لئے اسے کچھ وقت دیا جائے گا اور پھر یہ اعلان کر دیا جائے گا کہ میاں صاحب مان گئے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر نواز لیگ کی قیادت گجرات کے چوہدریوں کو پنجاب کی وزارت اعلی دینے پر راضی نہ ہوتی تو شہباز شریف کبھی چودھری شجاعت اور پرویز الہی کو ملنے انکے گھر نہ جاتے۔ اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ گزشتہ دنوں شہباز شریف نے چوہدری پرویز الہی کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات بھی کی ہے جس میں کچھ اہم فیصلے ہوئے۔
عمران خان کا دور حکومت پاکستان کا بدترین دور کیوں ہے؟
ذرائع کا دعوی ہے کہ تبدیلی کے مجوزہ فارمولے کے مطابق مرکز میں شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ ملے گی جبکہ پنجاب میں پرویز الہی وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ تاہم بدلے میں قاف لیگ وزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کیلئے تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن کا ساتھ دے گی۔ چوہدری پرویز الہی کی جانب سے وزارت اعلیٰ کا امیدوار بننا وزیراعظم عمران خان کے لیے کافی پریشان کن ہو گا کیونکہ ابھی ایک ہفتہ پہلے مونس الٰہی نے انہیں قاف لیگ کی مکمل حمایت کا یقین دلایا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تبدیلی کے مجوزہ فارمولے کے حوالے سے جہانگیر خان ترین کو بھی اعتماد میں لیا جا چکا ہے۔ اسکے علاوہ قومی اسمبلی میں 7 ممبران رکھنے والی ایم کیو ایم کی قیادت پہلے ہی لاہور میں پرویز الہی سے ملاقات کے دوران اعلان کر چکی ہے کہ وہ اپنے لائحہ عمل کا فیصلہ قاف لیگ کے ساتھ مل کر کرے گی۔ لہذا اگر حکومتی جماعت میں بغاوت نہ بھی ہو تو قاف لیگ اور ایم کیو ایم کے 12 ووٹ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے کافی ہوں گے کیونکہ حکومتی اتحاد کے اتنے ہی ووٹ کم ہو جائیں گے۔
تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان 12 اراکین پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی تحریک عدم اعتماد سو فیصد کامیاب بنانے کے لیے مزید اراکین کی حمایت حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب اپوزیشن جماعتیں عمران کے خلاف کم از کم 190 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل کر لیں گی تو تحریک عدم اعتماد داخل کر دی جائے گی۔
اس حوالے سے اب رابطوں میں تیزی آگئی ہے اور لاہور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمٰن مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ان کے ماڈل ٹاؤن گھر پر ملاقات کر چکے ہیں جبکہ نواز شریف نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعےملاقات میں شرکت کی۔
اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمن آصف علی زرداری کی بھی پرویز الہی کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں جن کے بعد دونوں جماعتوں نے موجودہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کو وزیر اعلی بنانے کی تجویز دے دی۔ اس سے پہلے تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے مسلم لیگ (ن)، پی پی پی اور جے یو آئی (ف) کے ایم این ایز کی تعداد کے علاہ ان اراکین کی تعداد کا حساب کتاب کیا گیا جن سے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اقدام سے متعلق اعتماد میں لینے کے لیے علیحدہ علیحدہ رابطہ کیا گیا تھا۔
اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ تحریک کامیاب ہونے کی صورت میں وزیر اعظم کون ہوگا۔ بلاول پہلے ہی شریف خاندان کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش کر چکے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا تھا کہ وزارت عظمیٰ ان کی پارٹی کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ موجودہ حکومت کی برطرفی نئے انتخابات کی راہ ہموار کردے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کو حکومتی اتحادیوں مسلم لیگ(ق)، ایم کیو ایم اور بی اے پی کے ساتھ معاملات کو حتمی شکل دینے اور اس بات کو یقینی بنانے کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے کہ حکومت کے اتحادی عمران خان سے الگ ہوجائیں۔
نمبرز گیم کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں اپوزیشن جماعتوں نے تحریک انصاف کے ان اراکین پارلیمنٹ سے متعلق خیالات کا تبادلہ کیا جن سے انہوں نے وزیراعظم کے اقدام کی حمایت طلب کرنے کے لیے رابطہ کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 16، پی پی پی نے 6 اور جے یو آئی-ایف نے پی ٹی آئی کے 2 ان اراکین قومی اسمبلی کے نام پیش کیے جن کے بارے میں یہ جماعتیں سمجھتی ہیں کہ انہوں نے ان اراکین کا اعتماد حاصل کرلیا ہے اور وہ ایم این ایز اب کپتان عمران خان کے خلاف جانے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب پانچ رکن قومی اسمبلی رکھنے والی قاف لیگ نے اپوزیشن کی قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ 6 ممبران قومی اسمبلی انکے ساتھ آ چکے ہیں اور تحریک عدم اعتماد میں قاف لیگ کے فیصلے کے مطابق ووٹ ڈالیں گے۔ یوں اب چوہدریوں کے دعوے کے مطابق انکے گروپ ممبران کی تعداد 5 سے بڑھ کو 11 ہو چکی ہیں۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کو اپوزیشن پر صرف دس ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ چونکہ پی ٹی آئی کا اتحاد بہت معمولی اکثریت پر مشتمل ہے، اس لیے ہمارے اراکین کی تعداد اس حکومت کو اقتدار سے نکالنے کے لیے کافی ہے۔
اپوزیشن کو یقین ہے کہ اگر وہ حکومت کے اتحادیوں کا اعتماد اور حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تو بھی ان کے پاس وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹانے کے لیے اراکین کی مطلوبہ تعداد موجود ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو جہانگیر ترین کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ رابطے میں موجود پی ٹی آئی کے ہر قانون ساز کو اپوزیشن پارٹی کی جانب سے انفرادی طور پر معاملات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اپوزیشن قیادت کو امید ہے کہ کم از کم دو بڑی حکومتی اتحادی جماعتیں تحریک عدم اعتماد انے سے پہلے ہی حکومت سے الگ ہو جائیں گی۔
