آرمی چیف جنرل عاصم منیر میڈیا سے دور کیوں رہتے ہیں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار سلیم صافی بتاتے ہیں کہ پاکستانی فوج کے موجودہ سربراہ جنرل سید عاصم منیر سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ یا سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کے برعکس اپنے تعلقات کا بہت محدود حلقہ رکھتے ہیں اور متعلقہ لوگوں یا قریبی دوستوں کے سوا، غیرمتعلقہ لوگوں کے ساتھ میل ملاپ سے گریزاں رہتے ہیں، اس لئے ان کی شخصیت اور نظریات کے گرد تجسس اور مفروضوں کا ایک ہالہ بنا ہوا تھا۔
جنرل عاصم منیر آرمی چیف بننے سے قبل انڈین سرحد پر جی او سی، ڈی جی ایم آئی، ڈی جی آئی ایس آئی، کورکمانڈر گوجرانوالہ اور کوارٹر ماسٹر جنرل کے مناصب پر بھی فائز رہے تھے، آرمی چیف بننے کے بعد بھی انہوں نے میڈیا سے کوئی انٹرایکشن کیا اور نہ سویلین پروگرامز میں نظر آئے، اس لئے ان کے نظریات اور ترجیحات سے متعلق تجسس برقرار تھا لیکن چند روز قبل کنونشن سنٹر اسلام آباد میں گرین پاکستان پروجیکٹ کے لانچنگ کی تقریب میں ان کی شخصیت اور نظریات کا ایک عکس سامنے آ گیا۔
سلیم صافی اپنی ایک تحریر میں اس تقریب کا احوال بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اپنے ارادے کے مطابق جنرل عاصم منیر نے اس تقریب میں صرف شرکت کرنی تھی اور خطاب کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس لئے لکھی ہوئی تقریر نہیں لائے تھے لیکن کچھ حکومتی شخصیات نے انہیں مجبور کیا کہ وہ خطاب کریں۔ لکھی ہوئی تقریر میں ان کے اسٹاف اور ادارے کا اِن پٹ بھی شامل ہوتا ہے لیکن یہاں چونکہ انہیں فی البدیہہ تقریر کرنی پڑی اس لئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ان کے دل کی باتیں تھیں۔
لیکن شاید اپنی خلوت پسندی کی عادت کی وجہ سے انہوں نے اپنے خطاب کو نشر کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ ابتدا میں انہوں نے وہاں پر موجود غیرملکی سفارتکاروں اور سرمایہ کاروں کو مخاطب کیا اور ان کیلئے انگریزی میں گفتگو کی ۔ پاکستان کے انسانی اور قدرتی وسائل کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ہم ایک قابل اور اہلیت رکھنے والی قوم ہیں جو ٹاپ پر جانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ پاکستان ترقی کرے گا اور دنیا کی کوئی طاقت اس کا راستہ نہیں روک سکتی ۔ انہوں نے شرکا کو یقین دلایا کہ اسپیشل انوسٹمنٹ فیسلیٹین کونسل کے زیراہتمام تمام پروجیکٹس اور گرین پاکستان منصوبے کو فوج مکمل سپورٹ کرے گی۔
سلیم صافی کے مطابق جنرل عاصم منیر نے اپنی تقریر میں اس حقیقت پر پردہ ڈالا کہ گرین پاکستان پروجیکٹ میں ان کا اور ان کے ادارے کا کیا کردار ہے اور صرف بھرپور تعاون فراہم کرنے کے الفاظ پر اکتفا کیا لیکن وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اپنی تقریر میں راز سے یہ کہہ کر پردہ اٹھادیا کہ اس پروجیکٹ کا خواب سپہ سالار جنرل عاصم منیر نے دیکھا تھا اور اس کا کریڈٹ بھی انہی کو جاتا ہے ۔ اس کے بعد جنرل عاصم منیر نے کہا کہ اب وہ اپنے کسان بھائیوں سے، جو بڑی تعداد میں موجود تھے سے، اردو میں بات کرنا چاہتے ہیں اور اپنی گفتگو کا آغاز کچھ یوں کیا کہ :میں ایک مسلمان کی حیثیت سے بات کرنا چاہتا ہوں اور بطور مسلمان بات کرتے وقت میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ جو ام الکتاب ہے،یعنی قرآن پاک، تو اُس سے رہنمائی لوں۔ اس قرآن میں ہمیں کہا گیا ہے کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے آپ کو کبھی مایوس نہیں ہونا۔ان کا کہنا تھا کہ جب ہمارا رب یہ کہتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ تھوڑا سا مسئلہ پیش آنے کی صورت میں ہم چیخ و پکار شروع کر دیتے ہیں؟ آخر ہم کیوں صبر کا دامن چھوڑ دیتے ہیں؟قرآن پاک کی رو سے تو مسلمان کیلئے صرف دو حالتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور جب خوشی ملتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے ۔ اسی قرآن پاک میں اللہ فرماتا ہے کہ میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں. ان کا کہنا تھا کہ یہ سب پراپیگنڈا ہے کہ خدانخواستہ پاکستان ختم ہوجائے گا، پاکستان تباہ ہوجائے گا، پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا ،پاکستان برباد ہوجائے گا،پاکستان کے ساتھ یہ ہونے والا ہے ، وہ ہونے والا ہے۔ پاکستان کو انشا اللہ کچھ نہیں ہوگا ۔ پاکستان قائم اور سلامت رہے گا۔
سلیم صافی بتاتے ہیں کہ آرمی چیف کی اس فی البدیہہ اور جذباتی تقریر سن کر نہ صرف شرکا حیران رہ گئے بلکہ بالائی حصے میں بیٹھے ہوئے کسان بھائی جذباتی ہوگئے اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے لگانے شروع کردئیے ۔ جس پر انہیں منع کرتے آرمی چیف نے کہا کہ :نہ میں مولوی ہوں، نہ مذہبی لیڈر ہوں۔ قرآن کو میں نے فوجی ڈیوٹی کے ساتھ صرف اپنے شوق
ٹوئیٹر پر آلو والی بریانی ٹرینڈ کیوں کرنے لگی؟
سے پڑھا ہےاور اسی سے رہنمائی لیتا ہوں۔
