29 جون تک IMF سے معاہدہ نہ ہوا تو کیا ہوگا؟

پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کا ساڑھے 6 ارب ڈالر کا قرض پروگرام ختم ہونے میں صرف 10 روز باقی رہ گئے ، تاحال مذاکرات میں ڈیڈ لاک ختم نہ ہوسکا،اسٹاف لیول معاہدے پر بھی کوئی پیش رفت بھی نہ ہوسکی، جس کے بعد ڈیڈ لاک کو ختم کرنے اور قرض پروگرام کی بحالی کیلئے وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے برطانوی ہائی کمشنر سے مدد طلب کر لی۔ذرائع کے مطابق وزیرخزانہ نے برطانوی ہائی کمشنر سے ورچوئل ملاقات کی جس میں اسحاق ڈار نے برطانوی ہائی کمشنر کو موجودہ معاشی صورتحال کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف سے تعطل کا شکار معاہدہ بارے آگاہ کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر خزانہ نے برطانوی ہائی کمشنر کو آئی ایم ایف سے معاہدے کرنے میں مدد کی درخواست کی ہے جس پر برطانوی ہائی کمشنر نے وزیرخزانہ کو آئی ایم ایف سے معاہدہ کیلئے تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے، برطانوی سفیر آئی ایم ایف سے پروگرام بحالی کیلئے بات چیت کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان اس وقت ایک انتہائی مشکل اور تشویش ناک معاشی صورتحال سے دوچار ہے کیونکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی آخری تاریخ 29 جون ہے لیکن ابھی تک آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری کے لیے پاکستان کا نام فہرست میں شامل نہیں اور پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نواں جائزہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔پاکستان کے دوست ممالک چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی پاکستان کی اضافی امداد کو آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری سے مشروط کیا تھا لیکن جیسا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں تو بظاہر پاکستان ایک انتہائی مشکل معاشی صورتحال کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ بلوم برگ نے قرض پروگرام کہ بحالی میں ناکامی کی صورت میں پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کو اپنے بین الاقوامی مالی معاہدوں کی پاسداری کے لیے اس سال دسمبر تک 3 سے 4 ارب ڈالرز درکار ہیں جو صرف پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول ایگریمنٹ ہونے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ جس کی فی الوقت کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی، تو کیا پاکستان ڈیفالٹ کی طرف بڑھ رہا ہے؟ اس صورتحال بارے پبلک پالیسی ایڈوائزر، وزارت خزانہ کے سابق مشیر اور ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب نے بتایا کہ پاکستان کا پلان اے یہی ہونا چاہیے تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کر کے اس سے ایک ارب ڈالر لینے کے بعد اپنے دوست ممالک سے اضافی امداد لے کر انتخابات کے دورانیے میں درپیش مشکلات کو کم کر کے آگے بڑھتا اور آئی ایم ایف کو ایک عارضی سہارے کے طور پر استعمال کر کے پاکستان یہ مشکل وقت گزار سکتا تھا۔ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق پاکستان کا پلان بی یہ ہونا چاہیے کہ وہ 30 جون کے بعد بھی آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے۔ پاکستان اگر آئی ایم ایف کے ساتھ اپنے مذاکرات جاری رکھتا ہے تو دوست ممالک سے قرضہ، زرمبادلہ کے ڈیپازٹس اور سرمایہ کاری حاصل کر سکتا ہے اور اس سال نومبر تک کا وقت گزارنے کے بعد پاکستان کو ایک نئے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے مذاکرات کرنا پڑیں گے۔’موجودہ صورتحال میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں شرح منافع بہتر کر کے بھی کچھ رزمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے، دوسرے روپے کی قدر میں اوپن مارکیٹ اور انٹر بینک ریٹ کے فرق کو قریب رکھ کر بھی آپ ترسیلات زر میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ درآمدات پر پابندی کو جاری رکھنا پڑے گا لیکن آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری رہنا چاہئیں۔‘

دوسری طرف معاشی امور کے تجزیہ نگار اور معروف انگریزی روزنامہ سے وابستہ صحافی مہتاب حیدر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول ایگریمنٹ کے لیے 29 جون کی ڈیڈ لائن ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ معاہدے کے لئے دوست ممالک سے اضافی قرضے، بجٹ اصلاحات، ٹیکس اصلاحات اور حکومتی اخراجات کم کرنے کی شرائط عائد کی تھیں جن پر بات آگے نہیں بڑھ سکی اور بظاہر مستقبل کا منظرنامہ بہت مخدوش نظر آتا ہے۔’سوائے اس کے کہ ہمارے دوست ممالک جیسا کہ چین اور متحدہ عرب امارت ہماری اضافی امداد کی منظوری دیں۔۔۔ ابھی تک ہم درآمدات پر کڑی پابندی لگا کر ایک قلیل المدتی حل کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن اگر یہ صورتحال جاری رہتی ہے تو ملک کو بالکل بند کرنا پڑے گا۔‘

مہتاب حیدر کے مطابق پچھلے سال اگست میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے آئی ایم ایف بورڈ اجلاس میں وعدہ کیا تھا کہ وہ پاکستان کو اضافی امداد دیں گے لیکن انہوں نے اس وعدے کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے سے مشروط کیا تھا جو ابھی تک حقیقت میں تبدیل نہیں ہوسکا ہے۔نجی ٹی وی کی بزنس ڈیسک کے سربراہ اور معاشی تجزیہ نگار حارث ضمیر موجودہ صورتحال میں پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف بڑھتا دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف معاہدے کی منظوری کی صورت میں، ایشیائی ترقیاتی بینک، ورلڈ بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو دو ارب ڈالر دینے کی منظوری دی تھی۔’لیکن اگر آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا اسٹاف لیول ایگریمنٹ نہیں ہوتا تو یہ دو ارب ڈالر پاکستان کو نہیں ملیں گے، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں 2 ارب ڈالر جبکہ بیرون ممالک ترسیلات زر میں 5 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے۔‘

حارث ضمیر نے کہا کہ ویسے تو پاکستان کو اس سال دسمبر تک لگ بھگ دس ارب ڈالر کی ضرورت ہے لیکن چونکہ چین اور متحدہ عرب امارات کا قرضہ رول اوور ہو جائے گا لہذا پاکستان کو 4 ارب ڈالر کی ضرورت تو ہے۔ ’فی الوقت اگر آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارا اسٹاف لیول معاہدہ ہو بھی جاتا ہے تو فوراً فنڈز دستیاب نہیں ہوں گے اور ہمیں اپنی بین الاقوامی ضروریات

بچے کی پیدائش پر ماں باپ کو کتنی چھٹیاں ملیں گی؟

کے لیے فریش فنڈنگ کی ضرورت پڑے گی۔‘

Back to top button