کیا نگران حکومت عمران خان کو جیل میں ڈال پاۓ گی؟

سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ شہباز حکومت اور ان کے ساتھی تمام تر کوششوں اور حربوں کے باوجود نہ عمران خان کو جیل میں ڈال سکے نہ سزا دلوا سکے نہ ہی نااہل قرار کروا سکے۔ ایسے میں کیا نگران حکومت ایسا کر پائے گی اس کا دارو مدار نگرانی کرنیوالوں پر ہے۔ 15ماہ میں شہباز شریف کی حکومت تو خود اپنے لیڈر اور تین بار کے وزیر اعظم نواز شریف کوہی قائل نہ کر سکی کہ وہ مضبوط ہیں، یہ کام بھی نگران کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
اپنے ایک کالم میں مظہر عباس لکھتے ہیں کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا اپنا اپنا ایک رجسٹر ہوتا ہے جس میں ان کے مطابق ریاست کی نظر میں پسندیدہ اور نا پسندیدہ شخصیات کا ذکر ہوتا ہے کہ یہ معزز ہیں اور ان کے بارے میں یہ رائے پائی جاتی ہے لہٰذا جب کبھی کوئی نگران سیٹ اپ بننے جا رہا ہوتا ہے تو یہ رجسٹر کھل جاتا ہے، اب اگر معاشرے کی نظر میں کچھ لوگ معزز ہیں تو ضروری نہی ریاست کی نظر میں بھی ہوں ،عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے اب ایک بار پھر نگران حکومت کا موسم آ گیا ہے۔ انٹرویوز بھی ہو رہے ہیں اور رپورٹس بھی منگوائی جا رہی ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا اس میں بھی بازی لے گئے کیونکہ وہاں تو ابھی یہ سیٹ اپ مزید تین ماہ تک چلتا رہے گا ایسے میں اگر مرکز، سندھ اور بلوچستان سے یہ آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ ہمیں بھی زیادہ وقت دیا جائے توکیا ہوگا، احساس محرومی توکبھی بھی جاگ سکتا ہے۔
مظہر عباس کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی موسم نئی سیاسی فصلوں کا بھی ہے نئی جماعتیں، گروپس ، توڑ پھوڑ جماعتوں میں نظر آنے لگی ہے اور ظاہر ہے ہر کام قومی مفاد میں ہوتاہے ورنہ تو نظریہ پاکستان کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے لہٰذا جب نگراں وزیر اعظم اور ان کی کابینہ اور صوبائی نگراں کے نام اور ان کا پروگرام سامنے آئے گا تو اندازہ ہو جائے گا کہ سرِ آئینہ کون ہے اور پس آئینہ کون ۔ کچھ کا خیال ہے کہ ماہر معاشیات کی ٹیم ہو گی۔ بیوروکریٹ وزیر اعظم ہو گا یاپھر کوئی معمر سیاستدان۔بہرحال جو بھی ہو گا وہ ریاست کی لسٹ میں پسندیدہ ہی ہو گاموجودہ حکومت کی رخصتی کا اعلان ہو چکا اور یہ اعلان دولہا نے خود کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور پی ڈی ایم کی حکومت نے 15 ماہ میں وہ مدت پوری کی جو دراصل سابق وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کی تھی جو 10اپریل 2022کو عدم اعتمادکی تحریک منظور ہونے کی وجہ سے ختم ہوئی۔
’’عمرمیری تھی مگر اِس کو بسر اُس نے کیا۔‘‘ اب جنرل باجوہ کو شاید عمران خان سے یہ شکایت رہے کہ ’’ شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا پھر مجھے اس شہر میں نا معتبر اس نے کیا۔‘‘ کل تک ایک دوسرے کے قصیدے پڑھنے والے آمنے سامنے آئے تو اس وقت کی اپوزیشن PDM اور پی پی پی نے ان سارے گروپس کو گلے لگا لیا جو 2018سے 2022 تک کپتان کے گن گاتے تھے یوں ا یک نئی حکومت کی سربراہی مسٹر اسپیڈ کے حوالے کی گئی مگر ان کے دور میں سب سے زیادہ اسپیڈ کامقابلہ ڈالر اور مہنگائی کے درمیان رہا ۔رہی سہی کسر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پوری کر دی۔ اب IMF سے معاہدہ میں گو کہ بڑا کریڈٹ خود وزیر اعظم کو جاتاہے مگر سعودی عرب ،یو اے ای اور دیگر ذرائع سے امداد لانے میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو وہ پورا کریڈٹ دیتے ہیں۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ اب الیکشن کب ہونگے اس بارے میں تو وزیر اعظم نو مبر بتا رہے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ تاریخ کا اعلان الیکشن کمیشن کرے گا ۔اب اللہ خیرکرے وہ اعلان ویسا ہی نا ہو جیسا کہ پنجاب اور کے پی میں ہوا۔ الیکشن کیسےہونگے تو میرے عزیز ہم وطنوآپ اطمینان رکھیں کہ یہ ویسے ہی ہو نگے جیسا کہ ماضی میں ہوتےآئےہیں شاید طریقہ کار میں تھوڑی بہت تبدیلی کرنی پڑے ،ورنہ تو ایک پٹیشن ہی تو فائل کرنے کی ضرورت ہے یا کسی پرانی درخواست کو سماعت کیلئے مقرر کر دیا جائے مثلاً مردم شماری پر نئی اور پرانی کی بحث شروع ہو جاۓ ، تو ’’انتظار فرمایئے‘‘ نئی نگران حکومت کا۔ ابھی تو یہ بھی دیکھنا ہے کہ کپتان اور ان کی ٹیم کا کیا بنے گا. ایسے میں اگر نگران حکومت یا وزیر اعظم موجود حکمران اتحاد کی منشا یا مرضی کا نہ آیا تومعاملات کوئی بھی رخ اختیار کر سکتے ہیں پھر شاید تمام انتخابی اصلاحات، نیب ترامیم وغیرہ وغیرہ دھری رہ جائیں اور ہمیںایک نیا منظر نامہ دیکھنے کوملے۔ کہانی ابھی باقی ہے میرے دوست میں نے کہا نا کہ ابھی نہ سیاسی سیل ختم ہوا ہے نہ ہی
گال ٹیسٹ کا چوتھا دن ختم، پاکستان کو فتح 83 رنز درکار
سیکریٹ فنڈ، رہ گئی بات 1973 کے آئین کی تو وہ 50 سال سے لا پتہ ہے۔
