نواز شریف کی 15ستمبر سے پہلے واپسی ناممکن کیوں؟

پاکستان میں جہاں ایک طرف نون لیگی قائد میاں نواز شریف کی وطن واپسی پر استقبال کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں وہیں دوسری طرف نون لیگی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ تک نواز شریف کی وطن واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ آصف بھی اس رائے کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔ نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف کا اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران عدلیہ کا جو رویہ سامنے آیا ہے اور جس طرح ’عمران خان کو‘ دھڑادھڑ ضمانتیں دی گئی ہیں اس کے پیش نظر مجھ سمیت نون لیگ کا ہر کارکن اپنے رہنما نواز شریف کو فوری پاکستان بلوا کر ان کی آزادی کے لیے خطرات پیدا کرنا نہیں چاہے گا۔
جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے علاوہ دیگر کارکنان اتنے برسوں سے نواز شریف کا انتظار کر رہے ہیں لیکن اس موقع پر کم از کم وہ تو نہیں چاہیں گے کہ نواز شریف کو اس وقت وطن واپس آکر کسی خطرے کا سامنا کرنا پڑے۔اینکر نے سوال کیا کہ کیا نواز شریف واپسی کے لیے 15 ستمبر کا انتظار کر رہے ہیں جب چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ ہوگی؟ جس پر خواجہ آصف نے گو براہ راست کوئی جواب نہیں دیا تاہم انہوں نے یہ کہا کہ ’آپ نے جس طرف اشارہ کیا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے عدلیہ کا جو رویہ ہے اور جس طرح کھل کر معاملات سامنے آئے ہیں تو وہ تو اس بات کے لیے بے تاب ہیں کہ جاتے جاتے نواز شریف کو کوئی نقصان پہنچا دیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں کہ اگر نواز شریف وسط ستمبر میں آتے ہیں اور نومبر میں انتخابات ہوں تو پھر تو ان کے پاس انتخابی مہم کا وقت بہت کم رہ جائے گا، اس پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے پاس انتخابی مہم کے لیے ایک ڈیڑھ مہینہ ہی کافی ہوگا اور دنیا دیکھے گی کہ وہ کس طرح پر اثر ثابت ہوتے ہیں۔سینیئر رہنما ن لیگ نے کہا کہ اسمبلیاں اپنے وقت سے ایک دو روز قبل تحلیل کر دی جائیں گی، نگران وزیراعظم کے لیے ریٹائر بیوروکریٹ یا سیاستدان کے نام پر غور ہو سکتا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ فی الحال ایسا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا کہ الیکشن میں تاخیر ہو، ہمیں عدلیہ کے گڈ ٹو سی یو والے رویے سے خدشہ ہے۔ سوچ رہے ہیں کہ یہ رویہ کسی اور طرف نہ چلا جائے۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک نگران وزیراعظم کے لیے نام فائنل نہیں ہوا، اِس وقت سول اور عسکری قیادت کے درمیان ایک اعتماد کا رشتہ موجود ہے۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو نومبر 2019 میں لندن روانگی سے قبل نیب عدالت کی جانب سے العزیزیہ ریفرنس کیس میں سات سال کی سنائی گئی سزا میں کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔ انھیں نیب نے دوسرے کیس میں تفتیش کے لیے اپنی تحویل میں لے رکھا تھا جہاں ان کی طبیعت ناساز ہوئی اور سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔عدالت میں نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے جمع کرائی گئی یقین دہانی کے باوجود جب وہ واپس نہیں آئے تو عدالت نے انھیں ایک سال بعد دسمبر 2020 میں اشتہاری قرار دے دیا تھا۔سپریم کورٹ کے وکیل حافظ احسان کھوکھر کے مطابق ’اس وقت نواز شریف نہ صرف ایک سزا یافتہ قیدی ہیں بلکہ قانون کی نظر میں اشتہاری بھی ہیں۔‘ان کے مطابق ’نواز شریف کو کسی بھی عدالت سے کوئی ریلیف لینے کے لیے سب سے پہلے خود کو سرنڈر کرنا ہو گا۔‘
نواز شریف کی عدم واپسی کے باعث مسلم لیگ ن بھی نواز شریف کے قانونی سٹیٹس کے بارے میں جانتی ہے۔ اسی وجہ سے سابق وزیراعظم کی وطن واپسی کے لیے جہاں سیاسی محاذ پر تیاریاں شروع کر دی ہیں اور اپنے امیدواران اور کارکنان کو متحرک کرنا شروع کر دیا ہے وہیں قانونی محاذ پر بھی قانونی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ کمیٹی نواز شریف کی واپسی کی صورت میں انھیں قانونی ریلیف دلوانے کے لیے متعدد آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اس قانونی ٹیم کے سربراہ ہیں۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ ’یہ تو طے ہے کہ نواز شریف نے انتخابی مہم شروع کرنے کے لیے پاکستان آنا ہے اور اگر وہ انتخابی مہم نہیں چلاتے تو ن لیگ کے لیے الیکشن لڑنا ناممکن ہے۔ اب ان کی واپسی کے لیے جو قانونی تقاضے ہیں ان کو دیکھ رہے ہیں اور کوشش ہو گی کہ اس حوالے سے تمام رکاوٹوں کو قانونی طریقے سے دور کیا جائے۔حکومتی ٹیم کے مطابق اگر الیکشن کے لیے 90 روز کا وقت ہوا تو نواز شریف کی واپسی سے پہلے شروع کی گئی قانونی کارروائی کے ذریعے انتخابی شیڈول آنے سے پہلے نواز شریف کی نہ صرف سزا معطلی بلکہ نااہلی بھی ختم کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ جس کے بعد نواز شریف انتخابی
میدان میں ہوں گے۔
