عام انتخابات کی تاریخ سے وزیراعظم اور آرمی چیف بھی لاعلم؟

سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان بلاشبہ ناکامیوں کی خوف ناک کیس اسٹڈی ہے، قدرت نے ہمیں ایک شان دار ملک دیا لیکن ہم سب نے مل کر اسے برباد کر دیا لہٰذا آج ملک میں فرسٹریشن کے سوا کچھ نہیں بچا‘ ہم ملک میں آج تک سیاسی استحکام بھی پیدا نہیں کر سکے‘ آج بھی وزیراعظم‘ صدر اور آرمی چیف کو معلوم نہیں اگلے الیکشن کب ہوں گے. ہم اگر آج بھی عقل کر لیں‘ ہم اگر آج بھی سنبھل جائیں اور ملک کو دوبارہ پٹڑی پر لے آئیں تو ہم دس بیس برسوں میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے ، اپنے ایک کالم میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ اب ہو جانا چاہیۓ کہ ملک میں الیکشن صرف پانچ سال بعد ہوں گے اور وقت پر ہوں گے۔
اس دوران اسمبلیاں نہیں ٹوٹیں گی‘ حکومتیں بے شک روز تبدیل ہوتی رہیں‘ اس سے بھی ملک میں سیاسی استحکام آ جائے گا‘ ہم موجودہ بیوروکریٹک سسٹم کے ساتھ بھی نہیں چل سکتے‘ ہمارا دفتری نظام منفی بھی ہے اور سست بھی‘ آپ نے اگرکسی دفتر سے ایک کاغذ لینا ہو تو آپ کی پوری عمر دفتروں میں خرچ ہو جاتی ہے مگر کاغذ نہیں ملتا‘ ہمیں یہ سسٹم بھی ختم کرنا ہوگا۔ حکومت اسمارٹ آفس بنوائے‘یہ خواہ سرکاری فیسیں بڑھا دے لیکن کام صرف ایک دن میں مکمل ہونا چاہیے‘ سائل کو دوسری باردفتر نہ آنا پڑے۔
جاوید چودھری تجویز دیتے ہیں کہ پاکستان کو گوادر کی ساری ساحلی پٹی کو بین الاقوامی بنا دینا چاہیۓ ۔ ہم یہ علاقہ بیرونی کمپنیوں کو دے دیں‘ کراچی سے لے کر ایران کی سرحد تک بیس نئے شہر بننے دیں اور یہ شہر ہر لحاظ سے بین الاقوامی ہوں. دبئی کی طرح ان میں مسجدیں بھی ہوں اور فائیو اسٹار ہوٹلز اور مالز بھی‘ ان کے قوانین بھی مختلف ہوں اور یہ ویزا فری بھی ہوں‘ دنیا کے کسی بھی کونے سے لوگ آئیں اور یہ پندرہ دن ان شہروں میں رہ سکیں‘ شہروں کی کرنسی ڈالر‘ یورو اور پاؤنڈ ہو‘ آپ اس ضمن میں مصر کے شہر شرم الشیخ کی مثال لے سکتے ہیں۔ مصر ہم سے زیادہ اسلامی ملک ہے لیکن شرم الشیخ مکمل طور پر دبئی ہے‘ ساحل کے ساتھ ساتھ ریزارٹ ہیں اور ان ریزارٹس میں دنیا جہاں کے سیاح بھرے ہوتے ہیں‘ وہاں ایک ماہ میں اتنے سیاح آ جاتے ہیں جتنے ہمارے ملک میں پورا سال نہیں آتے‘ یہ ویزا فری بھی ہے حتیٰ کہ اسرائیلی بھی ویزے کے بغیر شرم الشیخ جا سکتے ہیں‘ ہم اسی طرح اسکردو اور گلگت کو بھی گوادر کی طرح انٹرنیشنل اسٹیٹس دے سکتے ہیں‘ انھیں بھی انٹرنیشنل فلائٹس کے قابل بنا ئیں اور ویزا فری کر دیں‘ آغا خان فاؤنڈیشن نے ہنزہ اور اسکردو کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ آپ گلگت بھی آغا خان فاؤنڈیشن کو دے دیں اور اسے علاقے میں تبدیلیوں کا اختیار دے دیں‘ یہ علاقے کو بدل دے گی۔
جاوید چودھری کے مطابق چترال دنیا کا خوب صورت ترین علاقہ ہے‘ آپ اسے بھی انٹرنیشنل اسٹیٹس دے دیں‘ سڑکیں مکمل کریں اور ہوٹلز کی انٹرنیشنل چینز کو فری زمینیں دے دیں‘ یہ علاقہ بھی بدل جائے گا‘ K 2 کے بیس کیمپ تک پہنچنے کے لیے اسکولی سے پیدل آٹھ دن لگتے ہیں‘ آپ بیس کیمپ تک جیپ ٹریکس بنوا دیں اور K 2 سمٹ کو ویزا فری اور مفت کر دیں‘ پورا علاقہ بدل جائے گا۔مجھے آج تک یہ نقطہ بھی سمجھ نہیں آیا ہم نے آزاد کشمیر کو عالمی سیاحوں کے لیے کیوں بند کر رکھا ہے اگر گورے جموں اور سری نگر جا سکتے ہیں تو ہم آزاد کشمیر کو سیاحوں کے لیے کیوں نہیں کھولتے؟ آپ اسے بھی کھول دیں اس سے بھی سرمایہ آئے گا‘ ہم ملک کو بودھ‘ سکھ اور ہندو یاتریوں کے لیے بھی آسان کیوں نہیں بناتے؟ آپ یاتریوں کو بھی ویزا فری انٹری دیں‘ ہزار ڈالر فیس رکھ دیں‘ یاتری ایئرپورٹ یا بارڈر پر ہزار ڈالر جمع کرائیں اور ایک ماہ کے لیے ویزا لے لیں‘ یہ اگر اسرائیل کی طرح پاسپورٹ پر مہر لگوانا چاہیں تو ٹھیک ورنہ آپ انھیں پیپر ویزا دے دیں‘حکومت انھیں ٹریک کرنے کے لیے اپنی سم بھی دے سکتی ہے‘ یہ ملک میں صرف یہ سم استعمال کر سکیں چناں چہ یہ ہر وقت حکومت کی نظر میں رہیں گے۔
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ میں آج تک حیران ہوں ہماری کروڑوں ایکڑ زمینیں کیوں بنجر پڑی ہیں؟ ہم یہ زمینیں زرعی یونیورسٹی کے طالب علموں میں تقسیم کیوں نہیں کر دیتے؟ طالب علم گریجوایشن کریں اور پچاس ایکڑ زمین لے لیں تاہم حکومت امریکا اور یورپ کی طرح مختلف علاقوں کو مختلف فصلوں کے لیے مخصوص کر دے‘ کسی علاقے میں صرف کماد کاشت کیا جائے‘ کسی میں گندم‘ کسی میں کپاس اور کسی میں چاول اور دالیں اور کسی میں گلاب‘ سرسوں اور پھل‘ زرعی گریجویٹس ان علاقوں میں صرف یہی فصلیں اگا سکیں اور ان کی پراڈکٹس بنا سکیں۔ ہم ملک کو پراڈکٹ کے لحاظ سے مختلف ضلعوں میں تقسیم کر دیں‘ اس ضلع میں صرف اسی پراڈکٹ کے ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ہوں‘ وہیں فیکٹریاں اور آؤٹ لیٹس ہوں اور وہیں ٹیکس جمع ہو‘اس پالیسی سے بھی ہنر مند اور پیداوار دونوں بہتر ہو جائیں گے. ہم آج تک عوام سے سڑکوں کا احترام بھی نہیں کرا سکے‘ قرآن مجید کی توہین سویڈن میں ہوتی ہے لیکن سڑکیں ہم اپنی بند کر کے بیٹھ جاتے ہیں‘ کیوں؟ ہم ایک ہی بار یہ فیصلہ کیوں نہیں کرتے ملک میں کسی قیمت پر سڑک بند نہیں ہو گی‘ ایشو خواہ الیکشن کا ہو یا مذہبی تمام سڑکیں کھلی رہیں گی اور اگر کسی نے سڑک بند کرنے کی کوشش کی تو وہ پوری زندگی جیل میں بند رہے گا۔ یہ ملک پھر چلے سکے گا ورنہ ہم اسی طرح ٹھڈے کھاتے کھاتے راستے ہی میں مارے جائیں گے اور مرتے مرتے یہ بھی نہیں کہہ سکیں گے ہم افغانستان سے بہتر تھے کیوں کہ افغانستان بھی اب ہم سے
بہتر ہوتا چلا جا رہا ہے، یہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو رہا ہے۔
