7سال بعد پانامہ کیس کی سماعت کا اصل مقصد کیا ہے؟

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک میں جعلی پولیس مقابلوں سے متعلق مقدمہ درخواست گزار کے دنیا سے گزر جانے کے دو سال بعد سماعت کے لیے مقرر کیا اور چند منٹ کی سماعت میں یہ کہہ کر نمٹا دیا کہ درخواست گزار کے وفات پا جانے کے بعد کیس موثر نہیں رہا۔ تاہم یہ پہلا کیس نہیں ہے جو اتنی تاخیر کے بعد سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہوا بلکہ رواں ماہ تین ایسے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کیے گئے جو عوام کی یاداشت سے بھی معدوم ہو چکے تھے۔
ان میں پانامہ میں 436 پاکستانیوں کے ناموں کے حوالے سے جماعت اسلامی کی درخواست سات سال بعد سماعت کے لیے مقرر کی گئی جبکہ عطاءالحق قاسمی کی ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی سے متعلق فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل کی بھی چار سال بعد گزشتہ ہفتے سماعت کی گئی۔ایک ایسے وقت میں جب سپریم کورٹ پنجاب میں انتخابات، سپریم کورٹ سے متعلق قانونی سازی اور دیگر کئی اہم قومی نوعیت کے مقدمات سن رہی ہے، ایسے میں اچانک سے پرانے مقدمات سماعت کے لیے مقرر ہونا کیا معمول کی بات ہے؟
اس حوالے سے وکلاء برادری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں پرانے مقدمات کا سماعت کے مقرر ہونا بعض اوقات تو معمول ہو سکتا ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے اس کے پیچھے کچھ نہ کچھ محرکات لازمی ہوتے ہیں۔ وکلاء کے مطابق عموماً سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد کم کرنے کے لیے بھی پرانے کیسز مقرر کر کے جلدی جلدی نمٹا دیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات جب عدالت میں سیاسی مقدمات زیادہ ہو جائیں تو بیلینسنگ ایکٹ کے طور پر پرانے مقدمات سماعت کے لیے مقرر کر کے یہ تاثر دینے کی بھی کوشش کی جاتی ہے کہ سپریم کورٹ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق مشیر قانون اور سینیئر قانون دان بیرسٹر ظفراللہ کا کہنا ہے کہ ’یہ روٹین کا معاملہ ہے۔ بدقسمتی سے سپریم کورٹ پر کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور اس کا بہت سا وقت غیرضروری مقدمات جن میں خاص طور 184(3) پر صرف ہو جاتا ہے۔ اصولاً تو اس شق کے تحت مقدمات سپریم کورٹ میں ہونے ہی نہیں چاہئیں۔ دس پندرہ سال میں کوئی ایک آدھ کیس آنا چاہیے۔ انڈیا میں یہی قانون ہے اور وہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہاں چیف جسٹس اور سینیئر جج صاحبان کا زیادہ وقت ان مقدمات کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے اور سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد بڑھتی رہتی ہے۔ اس وجہ سے جب کوئی وقت ملتا ہے تو وہ پرانے مقدمات لگاتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’چونکہ چیف جسٹس تین چار ماہ میں ریٹائرڈ ہو رہے ہیں تو ان کی خواہش ہوگی کہ جب وہ ریٹائر ہوں تو وہ بیک لاگ کم کر کے جائیں۔‘
پاکستان تحریک انصاف کی لیگل ٹیم کا حصہ رہنے والے فیصل چوہدری ایڈووکیٹ بھی بیرسٹر ظفراللہ کی بات سے متفق ہیں کہ پرانے مقدمات زیرالتوا مقدمات کی تعداد کم کرنے کے لیے ہی لگائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جیسے پانامہ کا کیس اب لگا ہے تو اس میں تاخیر کی ذمہ داری صرف چیف جسٹس عمر عطا بندیال پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ ان سے پہلے جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار بھی چیف جسٹس رہے تو وہ بھی اتنے ہی قصور وار ہیں۔ یقیناً یہ کیس بہت پہلے سنا جانا چاہیے۔‘
تاہم دوسری طرف نوجوان وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ اس موقف کے حامی نہیں اور ان کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ میں کوئی بھی کیس بغیر کسی محرک کے سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا جاتا، اس کا مقصد فیصلے کے ذریعے ہی سامنے آتا ہے۔
انھوں نے اپنے موقف کے حق میں مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ کیس کو دیکھ لیں کہ اس کیس کو سننا اور پھر تحریری حکم جسٹس طارق مسعود کی جانب سے تحریری حکم میں سوالات اٹھانا پرانے پانچ رکنی بینچ کے خلاف چارج شیٹ ہے۔ میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلاء اور سول سوسائٹی کا ہمیشہ سے مطالبہ رہا ہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے کسی بھی کیس کو اپنی مرضی سے مقرر کرنے کے اختیار کو ریگولیٹ ہونا چاہیے اور ایسا نظام وضع ہونا چاہیے کہ کیسز اپنی باری پر متعلقہ بینچ کے سامنے لگ جائیں۔ ججز کے بینچ ہر ہفتے کے بجائے دو تین ماہ کے لیے ہونے چاہییں۔ لاہور ہائی کورٹ میں ایسا سسٹم پہلے سے موجود ہے۔
سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل چوہدری اشرف گجر کا کہنا ہے کہ عدلیہ کا بنیادی کام شہریوں کے مقدمات کو سننا اور ان کا فیصلہ کرنا ہے لیکن عدلیہ سیاسی مقدمات میں الجھ جاتی ہے جس سے سپریم کورٹ کے بارے میں تاثر خراب ہوتا ہے اور پھر اس تاثر کو دور کرنے کے لیے پرانے مقدمات کو مقرر کرکے توازن دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے حوالے سے نئی قانون سازی بھی عوام کے لیے امید کی ایک کرن ہے جس پر عمل در آمد سے کافی ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عدلیہ بھی سیاسی بکھیڑوں سے نکل کر عوامی مسائل اور
چیئرمین نادرا نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیوں کیا؟
مقدمات پر توجہ دے۔
