پرویز الٰہی کو صدر لگا کر عمران نے ماموں بنا دیا

پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ عمران خان نے چوہدری پرویز الہی کو پارٹی کا صدر لگا کر دراصل ماموں بنایا ہے کیونکہ تحریک انصاف کے آئین میں صدر کا عہدہ ہی موجود نہیں۔
خیال رہے کہ 7مارچ کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے دستخطوں کے ساتھ چودھری پرویز الٰہی کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ’رجیم چینج کے بعد سے اب تک چئیرمین عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے والے چوہدری پرویز الہی پاکستان تحریک انصاف کے صدر مقرر، نوٹیفکیشن جاری‘۔بیان میں کہا گیا کہ ’چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی خصوصی ہدایت پر سینئر نائب صدر تحریک انصاف چوہدری فواد حسین نے چوہدری پرویز الہٰی سے ملاقات کی اور ملاقات میں پرویز الہٰی کو تحریک انصاف کا صدر بنائے جانے کا نوٹیفکیشن اور مبارک باد دی۔
جسکے بعد ٹوئٹر پرچوہدری پرویز الٰہی نے عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے جو اعتماد کیا اس کے لیے شکرگزار ہوں اور عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر آئین اور قانون کی سربلندی کی جدوجہد کریں گے‘۔چوہدری پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’عمران خان کا شکریہ اور ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔
تاہم اب انکشاف ہوا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے چوہدری پرویز الٰہی کو پارٹی کا صدر تو مقرر کر دیا ہے تاہم الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے پارٹی کے آئین میں یہ عہدہ موجود ہی نہیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ تقرری ایسے موقع پر کی گئی ہے جب پی ٹی آئی ’’آئین بچاؤ، عدلیہ بچاؤ‘‘ مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔ 7مارچ کوپارٹی چیئرمین کے نوٹیفکیشن میں پرویز الٰہی کو پارٹی کا صدر بنایا گیا ہے۔ پارٹی کے سابق صدر مخدوم جاوید ہاشمی تھے لیکن ان کے بعد یہ عہدہ خالی رہا ہے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے آئین میں اگست 2022ء میں ترمیم کی گئی تھی جس کے بعد صدر کا عہدہ ختم کر دیا گیا تھا۔ اتفاق کی بات ہے کہ پرویز الٰہی کو پارٹی کا صدر بنائے جانے کا اعلان کیے جانے کے وقت فواد چوہدری ان کے ساتھ کھڑے تھے حالانکہ صدر کا عہدہ پارٹی آئین سے ختم ہو چکا ہے۔ شاہ محمود قریشی، اسد عمر، پرویز خٹک، عامر کیانی، اسد قیصر، عمران اسماعیل، علی زیدی، شیرین مزاری، حماد اظہر، سیف اللہ نیازی اور دیگر لوگ بھی اس کمیٹی کا حصہ تھے جس نے پارٹی کے آئین میں ترمیم کی تھی۔
پی ٹی آئی کےپارٹی آئین کے مطابق اگرچہ صوبائی سطح پر عہدے موجود ہیں لیکن پارٹی کے صدر کا عہدہ موجودنہیں ہے۔ عمران خان پارٹی چیئرمین ہیں اور ان کے بعد دوسرا بڑا عہدہ شاہ محمود قریشی یعنی وائس چیئرمین کا ہے۔ اس کے بعد سیکریٹری جنرل کا عہدہ ہے جو اسد عمر کے پاس ہے، پھر ایڈیشنل سیکریٹری جنرل، ڈپٹی سیکریٹریز جنرل، سینئر نائب صدر، نائب صدر، جوائنٹ سیکریٹریز اور مختلف ونگز کے سیکریٹریز کے عہدے ہیں۔
تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پارٹی چیئرمین آئین میں ترمیم کے بغیر کوئی عہدہ تخلیق کر سکتے ہیں؟ کچھ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق پارٹی چیئرمین ایسا کر سکتے ہیں لیکن کچھ کا کہنا ہے کہ انہیں ایسا اختیار حاصل نہیں۔ ایک ماہر قانون کا کہنا تھا کہ عمران خان پارٹی کے آئین کی شق 8؍ کے تحت ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ آئین کے مطابق اسٹریٹجک یا ہنگامی نوعیت کے معاملے میں دیکھیں تو چیئرمین پارٹی کے آئین کی شقوں سے ہٹ کر ایسا کوئی میکنزم تشکیل دے سکتے ہیں جس سے ایسی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
چیئرمین کو اختیار ہے کہ ضرورت کے تحت ایسے فیصلے کر سکتا ہے۔ اس میں مزید لکھا ہے کہ ایسی شقیں اس وقت تک فعال رہیں گی جب تک چیئرمین چاہے اور اس کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس طرح کے اقدامات کی وجہ سے پارٹی کے آئین کی کوئی شق متاثر ہوتی ہے تو متاثر ہونے والے آرٹیکل پر آرٹیکل 4؍ کی روشنی میں عمل کیا جا سکتا ہے اور یہ ترمیم پارٹی کی نیشنل کونسل یا پھر کل رکنیت کے دسویں حصے پر مشتمل افراد پیش کر سکتے ہیں۔
پارٹی آئین کا ترمیم شدہ حصے پر چیئرمین کے دستخط کے ساتھ اس کی نقل الیکشن کمیشن میں جمع کرائی جا سکتی ہے۔ تاہم، پارٹی آئین دیکھیں تو اس میں چیئرمین کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ آئین میں ترمیم کیے بغیر کوئی عہدہ تخلیق کر سکیں۔
تاہم تحریک انصاف کے پارٹی آئین کے مطابق چیئرمین کو تفویض کئے گئے اختیارات کے مطابق عمران خان کو ایسا کوئی اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی عہدہ تخلیق کریں اور اس پر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیں۔ اس طرح سیاسی دربدری کے شکار چودھری پرویز الٰہی کی تحریک انصاف کے صدر کے طور پر تعیناتی سوائے زبانی جمع خرچ کے کوئی معنی نہیں رکھتی۔
