شہباز شریف کی سپیڈ کو بریک کیوں لگ گئی؟

وزیر اعلی پنجاب کے طور پر ”شہباز سپیڈ” کا ٹائیٹل حاصل کرنے کے بعد شہباز شریف وزارت عظمی حاصل کرنے میں کامیاب تو ہو گئے مگر اپنی وہ سپیڈ برقرار نہ رکھ سکے جس نے پنجاب کو ایک مثالی صوبہ بنا دیا تھا۔ اگرچہ اب وہ اپنی انتھک محنت سے کمایا ہوا ”شہباز سپیڈ“ کا ٹائٹل بھی نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے حوالے کر چکے ہیں لیکن سچ یہی ہے کہ ماضی میں بطور خادم اعلی پنجاب انہوں نے بیورو کریسی کو جیسے بھگایا اور برسوں کا کام دنوں میں کروایا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ مرکز میں بھی ان سے ایسی ہی توقع کی جا رہی تھی لیکن یہاں جگہ جگہ موجود سپیڈ بریکرز نے ان کی نارمل سپیڈ کو بھی گھٹا دیا۔ اگر ایک طرف پی ڈی ایم نے ٹف ٹائم دیا تو دوسری طرف آئی ایم ایف نے دن میں تارے دکھا دیئے۔ رہی سہی کسر بڑے بھائی صاحب کی وقتاً فوقتاً ڈکٹیشن نے پوری کر دی۔ ایک طرف بیرونی محاذ، جہاں ملکی ساکھ ”ریڈ لائن“ پر اور دوسری طرف اندرونی محاذ، جہاں مہنگائی، بیروزگاری، لاقانونیت اور عمران خان ایک چیلنج کی صورت سر پر مسلط۔۔اور تو اور ایسا لگتا ہے کہ شہباز شریف کے ”سُر“ بھی کہیں کھو گئے ہیں کیونکہ نہ تو وہ پہلے جیسا گنگناتے ہیں اور نہ ہی ان میں پہلے جیسی توانائی نظر آتی ہے۔۔ورنہ سہگل، کشور کمار اور مہدی حسن کے گانوں سے وہ اکثر سماں باندھ دیا کرتے تھے۔ انقلابی شاعر حبیب جالب کے اتنے دیوانے تھے کہ ان کے گانے سے بھلے بارش نہ برسی ہو، جالب کی نظم ”میں نہیں مانتا“ سے مائیک ضرور توڑ دیا کرتے تھے۔۔لیکن حکمرانی کے شوق میں سب خواب و خیال ہوا۔
وزیراعظم بننا، شہباز شریف کا بہت پرانا سپنا تھا جس کی تعبیر کے لئے انھوں نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے مخالف بیانیہ بنانے سے بھی گریز نہیں کیا جبکہ انھیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی اور دونوں بھائیوں کے بیچ ایک ان دیکھی جنگ کا آغاز ہو گیا۔ یعنی بظاہر تو شریف برادران ایک پیج پر نظر آتے ہیں لیکن نہ صرف بھائی بھائی میں، بلکہ چچا بھتیجی کے دلوں میں بھی دراڑ آ چکی ہے اور دیکھا جائے تو سب کے سب ”بغل میں چھری، منہ میں رام رام“ کی عملی تصویر بن چکے ہیں۔ اگر نواز شریف نے مریم نواز کو اپنا جانشین چن لیا ہے تو شہباز شریف بھی حمزہ کے لئے کم پر راضی نہیں۔
کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ شہباز شریف جیسا حاضر دماغ،مشقتی، محنتی اور معاملہ فہم سیاستدان کم از کم شریف فیملی میں شاید صدیوں بعد جنم لے، تاہم یہ کوئی حتمی رائے نہیں۔۔جیسے وہ ترنگ میں ہوں تو کہیں بھی کچھ بھی گنگنانے لگتے ہیں۔۔اور تو اور کب کسی شعر کو تحت الفظ میں بیان کریں گے اور کب راگ الاپ دیں گے، کوئی نہیں جانتا لیکن یہ سب جانتے ہیں کہ شہباز شریف کو گانے کا کتنا شوق ہے؟ بلکہ ان کی تو پوری فیملی ہی انڈین فلمی گانوں کی دیوانی ہے۔ بڑے بھائی نواز شریف کے علاوہ مریم کے بیٹے جنید اور حمزہ کو بھی اکثر لوگوں نے انتہائی سُر میں گاتے سنا ہی ہو گا۔ بہرحال آج کل شہباز شریف کے اقتدار کا سورج ڈھلنے کو ہے اور ان کی خواہش ہے کہ چند دنوں کے لئے سہی وہ اپنی پرانی سپیڈ میں واپس آ جائیں چنانچہ وہ ہر روز ایک نئے پراجیکٹ کو پایہء تکمیل تک پہنچاتے نظر آتے ہیں البتہ کسی بھی فورم پر اپوزیشن کی بینڈ بجانا نہیں بھولتے۔ شہباز شریف عام طور پر بولتے بھی کافی تیز ہیں، کوئی تقریب ہو، اسمبلی کا فلور ہو یا کسی غیر ملکی سربراہ سے ملاقات، اکثر ان کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے یعنی کہنا کچھ اور تھا، کہہ کچھ اور دیا۔۔شاید یہ ان کا سٹائل ہو کیونکہ وہ واحد وزیراعظم ہیں جو اردو، انگریزی، جرمن، عربی، ترکی اور کئی دیگر زبانوں میں مہارت رکھتے ہیں!!
