سہیل آفریدی کی پھرعمران خان سے ملاقات نہ ہوسکی ،عدالت جانےکااعلان

وزیراعلیٰ خیبرپختوانخوا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے پھر ملاقات نہ ہوسکی، توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کردیا۔
داہگل ناکے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم توہینِ عدالت کی درخواست اس لیے دے رہے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ کے تین جج صاحبان کے احکامات کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہمارے قائد عمران خان کے مقدمات کی سماعت سپریم کورٹ میں نہیں ہو رہی، جبکہ ہم عدالتِ عظمیٰ سے یہ درخواست کر رہے ہیں کہ آئین کی بالادستی کے لیے اقدام اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام وکلا سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں، اور ہمیں انصاف پر یقین ہے۔
سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ ملک میں عدالتی فیصلے آزادانہ نہیں ہو رہے بلکہ کسی کے اشارے پر دیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق جس دن انصاف اپنی اصل روح کے مطابق ہوگا، عمران خان جیل سے باہر ہوں گے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ خود ججز نے خط کے ذریعے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ان کے فیصلوں میں مداخلت ہو رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم ججز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان عناصر کے نام بتائیں جو عدالتی فیصلوں میں اثرانداز ہو رہے ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ ملاقات نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں عمران خان سے پیغامات موصول نہیں ہو رہے۔
صحافی کے ایک سوال پر کہ اگر پیغامات آ رہے ہیں تو کابینہ کیوں نہیں بنائی جا رہی؟ وزیراعلیٰ نے جواب دیا کہ اصل سوال یہ ہے کہ مجھے اپنے لیڈر سے ملنے سے کیوں روکا جا رہا ہے، جبکہ میں عوام کے مینڈیٹ سے اس منصب پر پہنچا ہوں۔
