مریم نواز کا بسنت منانے کا منصوبہ چوپٹ کیسے ہوا؟

لاہور میں پتنگ بازی میں دھاتی ڈور کے استعمال سے گردن کٹنے کے دو واقعات کے بعد پنجاب میں بسنت منانے کی محدود اجازت دینے کا حکومتی منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔
خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر میں بسنت منانے کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں، تاہم لاہور میں ڈور پھرنے سے دو افراد کی ہلاکت کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی۔ ابتدائی طور پر پولیس نے معاملے کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرین کی گردن پر پتھر لگنے سے اموات واقع ہوئیں، مگر حقائق زیادہ دیر چھپ نہ سکے اور سامنے آیا کہ دونوں افراد گردن پر دھاتی ڈور پھرنے سے موت کا شکار ہوئے ہیں۔ واقعے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد بسنت کی اجازت دینے والی وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہی نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے بلکہ بسنت کی تمام تیاریاں بھی عارضی طور پر روک دی ہیں۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت 28 سال بعد بسنت کے تہوار کو مشروط طور پر بحال کرنے پر غور کر رہی تھی۔ جس کے تحت مخصوص علاقوں میں سخت پابندیوں کے ساتھ پتنگ بازی کی اجازت دینے کی تجاویز پر مشاورت جاری تھی۔ جس کے تحت مخصوص مقامات جیسے کھلے میدانوں اور ہوٹلوں کی چھتوں پر سخت شرائط کے ساتھ جشن منانے کی اجازت دینے بارے تجاویز زیر غور تھیں۔ اس حوالے سے سامنے آنے والے مجوزہ مسودے میں کہا گیا تھا کہ رہائشی علاقوں میں پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی، جبکہ بسنت کے حوالے سے فروری 2026 میں ہونے والی محدود تقریبات کے تحت بسنت نائٹ 12 فروری اور بسنت ڈے 13 فروری کو ہو گا۔
مسودے میں بتایا گیا تھا کہ پتنگ بنانے والوں کو رجسٹریشن حاصل کرنا ہو گی، جس کی فیس 25,000 روپے اور سالانہ تجدیدی فیس 2,500 روپے ہو گی۔ پتنگ فروشوں کے لیے رجسٹریشن فیس 15,000 روپے اور تجدیدی فیس 1,500 روپے مقرر کی گئی تھی۔ پتنگ بازی کی تنظیموں کو رجسٹریشن کے لیے 50,000 روپے اور تجدید کے لیے 5,000 روپے ادا کرنے کا پابند بنایا گیا تھا۔
تمام شرکاء کیلئے حفاظتی ضوابط کی سختی سے پابندی لازمی قرار دی گئی تھی جبکہ بڑی پتنگوں، دھات یا شیشے کی کوٹنگ والی ڈور کا استعمال سختی سے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دو لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک جرمانہ اور 6 ماہ تک قید کی سزا کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم پنجاب میں محدود پیمانے پر بسنت منانے کی اجازت دینے کیلئے ابتدائی انتظامی تیاریوں کے دوران ہی لاہور اور اس کے نواح میں گردن پر ڈور پھرنے کے دو واقعات کے بعد بسنت منانے کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔پولیس کے مطابق، مقتول نعمان یوسف کام سے واپس گھر جا رہا تھا جب ایک پتنگ کی تیز ڈور اس کے گلے میں الجھ گئی۔ تیز دھاگے نے شدید زخم پہنچائے، اور اسپتال لے جانے کے باوجود نعمان راستے میں دم توڑ گیا۔
ڈور پھرنے کے واقعات سامنے آنے کے بعد پولیس کی جانب سے ایک بار پھر پتنگ بازوں کے خلاف سخت کارروائیوں بارے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق صرف لاہور ہی نہیں پورے صوبے کے آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کو پتنگ بازوں، پتنگ فروشوں، مینوفیکچررز کے خلاف کریک ڈاون میں تیزی لانے کی ہدایت کی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ پتنگ بازی کی ممانعت کے قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ دھاتی ڈور اور پتنگوں کے آن لائن کاروبار میں ملوث عناصر کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ تاہم پولیس حکام کے دعوؤں کے برعکس حکومتی پابندی کے باوجود مزنگ، اچھرہ، نویں کوٹ، سمن آباد، کینال روڈ، سودھیوال، اور فیروزپور روڈ سمیت کئی علاقوں میں پتنگ بازی جاری ہے حالانکہ حکام کا دعویٰ ہے پتنگ بازی پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں بسنت کا تہوار پہلی بار 2007 میں اس وقت ممنوع قرار دیا گیا جب پتنگ کی ڈور سے سینکڑوں افراد، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2018 میں پتنگ بازی پر سے پابندی مختصر طور پر اٹھائی گئی تھی، لیکن درجنوں ہلاکتوں کے بعد فوری طور پر دوبارہ پابندی نافذ کر دی گئی تھی۔
