پاکستان میں سولر پینلز اب جہیز کا بھی حصہ بننے لگے

پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ، قومی گرڈ کی غیر یقینی فراہمی اور توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے گزشتہ چند برسوں میں شمسی توانائی کو محض متبادل ذریعے سے نکال کر عام پاکستانی گھرانے کی ضرورت بنا دیا ہے۔ سولر پینلز اب گھروں، فیکٹریوں، دکانوں اور زرعی شعبے کی چھتوں تک محدود نہیں رہے بلکہ بعض خاندانوں میں انہیں جہیز کا حصہ بھی بنایا جانے لگا ہے۔ یہ تبدیلی بظاہر ایک گھریلو اور معاشی رجحان دکھائی دیتی ہے، لیکن اس کے اثرات پاکستان کے پورے توانائی کے نظام اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری والے بجلی گھروں تک پہنچ رہے ہیں۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق کراچی سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع پورٹ قاسم کے صنعتی علاقے میں بحیرہ عرب کے کنارے قائم سیکڑوں صنعتی اداروں کی چھتیں بڑے پیمانے پر سولر پینلز سے ڈھک چکی ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسی علاقے میں چین کے تعاون سے قائم کوئلے سے چلنے والا ایک بڑا بجلی گھر بھی موجود ہے۔ ایک ہی علاقے میں ایک طرف کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا بڑا منصوبہ اور دوسری طرف صنعتی اداروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سولر اختیار کرنا پاکستان کے بدلتے ہوئے توانائی کے منظرنامے کی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔
توانائی کے شعبے پر تحقیق کرنے والے ادارے ایمبر کے مطابق 2025 میں پاکستان کی تقریباً 20 فیصد بجلی شمسی توانائی سے پیدا ہوئی، جبکہ دہائی کے آغاز میں یہ شرح تقریباً 3 فیصد تھی۔ اس تیزی کے پیچھے بنیادی عوامل میں بجلی کی بلند قیمت، قومی گرڈ پر انحصار کے بڑھتے اخراجات، بجلی کی فراہمی میں مسائل اور چین سے آنے والے نسبتاً کم قیمت سولر پینلز شامل ہیں۔ پاکستان گزشتہ سال چین سے سولر پینلز درآمد کرنے والی دنیا کی تیسری بڑی منڈی بھی بن گیا، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شمسی توانائی اب ملک کے توانائی کے شعبے میں ایک معمولی متبادل نہیں رہی۔
سولر کے بڑھتے استعمال کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ صارف اب بجلی کے روایتی نظام سے مکمل طور پر یا جزوی طور پر اپنی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گھریلو صارفین کے بعد صنعت اور زراعت بھی اس رجحان کا حصہ بن رہے ہیں۔ سولر پینلز کے ساتھ بیٹریوں کی درآمد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دستیاب کسٹمز اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین سے بیٹریوں کی درآمد تقریباً 150 فیصد بڑھ کر 392 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین صرف دن کے وقت سولر بجلی حاصل کرنے کے بجائے اسے ذخیرہ کرکے رات کے وقت استعمال کرنے کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں۔
یہ تبدیلی صارفین کے لیے بجلی کے اخراجات کم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن دوسری طرف قومی بجلی کے نظام کے لیے ایک پیچیدہ معاشی سوال پیدا کر رہی ہے۔ اگر بڑی تعداد میں صارفین گرڈ سے کم بجلی خریدیں گے تو سرکاری بجلی تقسیم کار اور پیداوار کے اداروں کی آمدن متاثر ہوگی، جبکہ وہی ادارے اپنے انفراسٹرکچر، ملازمین، قرضوں اور دیگر مقررہ اخراجات کو برقرار رکھنے کے پابند رہیں گے۔ یوں بجلی کی طلب میں کمی کا اثر صرف بجلی کے بل تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے توانائی کے کاروباری ماڈل پر پڑتا ہے۔
یہ صورتحال چین کے تعاون سے قائم کوئلے کے بجلی گھروں کے لیے بھی اہم بن گئی ہے۔ 2017 کے بعد چین کے تعاون سے پاکستان میں 7 کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر قائم کیے گئے جن پر تقریباً 9.6 ارب ڈالر لاگت آئی۔ پورٹ قاسم کا بجلی گھر بھی انہی منصوبوں میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق جون میں پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کے واجبات تقریباً 300 ملین ڈالر تک پہنچ چکے تھے، جبکہ اگست تک چین کے تعاون سے قائم بجلی گھروں کے مجموعی واجبات 1.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے تھے۔
یہاں پاکستان کے توانائی بحران کی ایک بنیادی پیچیدگی سامنے آتی ہے۔ ایک طرف ملک نے بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت قائم کی، دوسری طرف بجلی کی بلند قیمتوں نے صارفین کو متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کیا۔ نتیجتاً اب سولر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت ان منصوبوں کی مالی پائیداری پر سوال اٹھا رہی ہے جو چند سال پہلے ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم سمجھے جاتے تھے۔
لاہور کی صاف توانائی درآمد کرنے والی کمپنی انوو کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد مجاہد کے مطابق قومی گرڈ سے صارفین کے نکلنے کا عمل یوٹیلیٹی کمپنیوں کے لیے ایک مسلسل مالی دباؤ پیدا کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ رجحان تیز ہوتا رہا تو روایتی بجلی کے نظام کو اپنی لاگت اور آمدن کے پورے ڈھانچے پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔
صنعتی شعبے میں بھی سولر کے بڑھتے ہوئے استعمال کی مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔ پیکجنگ انڈسٹریز کے چیف ایگزیکٹو میاں محمد احمد کے مطابق ان کی کمپنی اپنی بجلی کی ضرورت کا تقریباً 40 فیصد سولر سے پورا کر رہی ہے۔ اس طرح سولر اب صرف متوسط طبقے کے گھروں کی چھتوں تک محدود نہیں بلکہ بڑے صنعتی صارفین کے لیے بھی بجلی کی لاگت کم کرنے کی ایک اہم حکمت عملی بن رہا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب یہ نہیں کہ سولر کا پھیلاؤ روکا جائے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس تبدیلی کو قومی توانائی پالیسی کا حصہ کیسے بنایا جائے۔ اگر حکومت ایک طرف سولر کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور دوسری طرف ایسے بجلی گھروں میں طویل مدتی سرمایہ کاری جاری رکھتی ہے جن کی بجلی صارفین پہلے کے مقابلے میں کم خرید رہے ہیں تو مستقبل میں طلب، پیداوار، قرضوں اور بجلی کی قیمت کے درمیان توازن مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔
یہ تبدیلی چین کے ساتھ پاکستان کے توانائی تعاون کے لیے بھی اہم ہے۔ چین کے تعاون سے قائم منصوبوں کی مالی ذمہ داریاں اپنی جگہ موجود ہیں، جبکہ صارفین کی سولر کی طرف منتقلی ایک الگ معاشی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ اس لیے پاکستان کو ایک ایسے توانائی ماڈل کی ضرورت ہوگی جس میں کوئلہ، گیس، پانی، شمسی توانائی، بیٹری اسٹوریج اور قومی گرڈ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک مربوط نظام کے طور پر کام کریں۔
سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس سولر انقلاب کو کبھی صرف ماحول دوست توانائی یا بجلی کے متبادل ذریعے کے طور پر دیکھا جاتا تھا، وہ اب پاکستانی گھرانے کی معاشی منصوبہ بندی کا حصہ بن چکا ہے۔ اگر سولر پینل واقعی جہیز کا حصہ بننے لگے ہیں تو یہ محض ایک دلچسپ سماجی تبدیلی نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ عوام نے اپنی توانائی کی ترجیحات خود تبدیل کرنا شروع کردی ہیں۔
اب حکومت کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اس عوامی تبدیلی کو اپنی توانائی پالیسی کے ساتھ کس طرح ہم آہنگ کرتی ہے۔ اگر سولر کا پھیلاؤ اسی رفتار سے جاری رہا تو آنے والے برسوں میں پاکستان کا توانائی کا نقشہ آج سے بالکل مختلف ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں اصل مقابلہ سولر اور کوئلے کے درمیان نہیں بلکہ ایک پرانے مرکزی بجلی نظام اور ایک نئے، زیادہ تقسیم شدہ اور صارف پر مبنی توانائی ماڈل کے درمیان ہوگا۔ پاکستان کے لیے کامیابی اسی میں ہوگی کہ اس تبدیلی کو بحران کے بجائے ایک منظم توانائی منتقلی میں تبدیل کیا جائے۔
