4 اکتوبر سے پہلے اٹک سکیورٹی کا مرکز کیوں بن گیا؟

پاکستان تحریک انصاف کے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے قبل حکومت کی جانب سے سکیورٹی انتظامات کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف نے احتجاج کے حوالے سے حکومت کی مذاکرات کی دعوت قبول کر لی ہے اور لانگ مارچ کے روٹ میں بھی تبدیلی کرتے ہوئے پشاور کے بجائے لکی مروت سے آغاز کا اعلان کیا ہے، تو دوسری جانب اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں ہزاروں پولیس اہلکار پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں۔ احتجاج کی تاریخ میں تبدیلی اور مذاکرات کے امکانات کے باوجود سکیورٹی انتظامات میں فوری کمی نہیں کی گئی، جس کے باعث سرکاری وسائل، پولیس اہلکاروں کی رہائش، خوراک اور عوامی و تعلیمی اداروں کے استعمال سے متعلق سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

بی بی سی اردو کے مطابق پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک اور حسن ابدال سمیت مختلف علاقوں میں ہزاروں اہلکار تعینات ہیں، جبکہ مجموعی طور پر اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں تقریباً 30 ہزار پولیس اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ ان میں 25 ہزار سے زائد پنجاب پولیس کے اہلکار شامل ہیں جبکہ اسلام آباد پولیس کے مطابق سندھ پولیس کے تقریباً 2 ہزار اہلکار بھی وفاقی دارالحکومت میں خصوصی ڈیوٹی پر موجود ہیں۔

اس پورے انتظام میں ضلع اٹک کو خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان زمینی رابطے کا اہم راستہ ہے۔ بی بی سی کے مطابق اٹک میں سکیورٹی کی 4 تہیں قائم کی گئی ہیں اور پنجاب پولیس کے ساتھ رینجرز کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ ایک سینئر پولیس اہلکار کے مطابق اٹک میں تقریباً 20 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن کی نگرانی کے لیے 6 ڈی آئی جی اور تقریباً 200 ایس پی اور ڈی ایس پی رینک کے افسران موجود ہیں۔ یہ اہلکار پنجاب کے 26 اضلاع سے بلائے گئے ہیں اور اٹک میں موجود فورس کی مجموعی کمان راولپنڈی کے ریجنل پولیس افسر کے پاس ہے۔

اٹک میں اتنی بڑی نفری کی تعیناتی نے پولیس اہلکاروں کی رہائش اور بنیادی سہولیات کا مسئلہ بھی نمایاں کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں اہلکار سرکاری سکولوں، صحت مراکز اور دیگر سرکاری عمارتوں میں رہائش پذیر ہیں، جبکہ بعض افسران کے لیے ریسٹ ہاؤسز اور فرنشڈ مکانات کرائے پر لیے گئے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار کے مطابق اٹک کے 60 سے زیادہ تعلیمی اداروں میں پولیس اہلکاروں کو ٹھہرایا گیا ہے اور ان میں تعلیمی سرگرمیاں گزشتہ 10 روز سے متاثر ہیں، اگرچہ سکولوں کی بندش کا کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

پولیس اہلکاروں کی جانب سے رہائش اور خوراک کے انتظامات کے بارے میں مختلف شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرنے والے بعض اہلکاروں نے دعویٰ کیا کہ انہیں سکولوں کے کلاس رومز میں بڑی تعداد میں رہائش دی گئی ہے، بعض مقامات پر ایک کلاس میں تقریباً 50 اہلکار موجود ہیں، جبکہ واش رومز کی تعداد ضرورت کے مقابلے میں کم ہے۔ ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر نے بتایا کہ تقریباً 1 ہزار اہلکار ایک سرکاری گرلز سکول میں رہائش پذیر ہیں اور متعدد اہلکار اپنے گھروں سے چادریں بھی ساتھ لائے ہیں۔ ایک دوسرے افسر نے بجلی کی لوڈشیڈنگ، مچھروں اور بیماریوں کی شکایت کی جبکہ 3 اہلکاروں کے ڈینگی میں مبتلا ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ یہ تمام تفصیلات پولیس اہلکاروں کے بی بی سی سے کیے گئے دعووں پر مبنی ہیں۔

تاہم پولیس حکام نے ان شکایات کی مکمل تصویر مختلف انداز میں پیش کی ہے۔ ریجنل پولیس افسر راولپنڈی کے ترجمان سردار نثار نے بی بی سی کو بتایا کہ اٹک میں تعینات اہلکاروں کا ’’خصوصی خیال‘‘ رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق کھانے کا انتظام مختلف ٹھیکیداروں کے سپرد ہے، خوراک کے معیار کی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور اہلکاروں کو دن میں 3 مرتبہ کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ اہلکاروں کو بنیادی سہولیات اور مناسب خوراک فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی ڈیوٹی کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔

سکیورٹی انتظامات کا مالی پہلو بھی قابل توجہ ہے۔ اٹک کے ضلعی پولیس دفتر سے وابستہ ایک اہلکار کے مطابق صرف کھانے کی مد میں روزانہ 1 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہو رہے ہیں، جبکہ افسران کے کھانے پینے اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ پولیس کی بڑی نفری کو خیبر پختونخوا سے ملحق اہم شاہراہوں، موٹر ویز، انٹرچینجز اور داخلی راستوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ دیگر ذرائع نے بھی اس سے پہلے لانگ مارچ کے لیے اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں بڑے پیمانے پر نفری تعینات کیے جانے کی اطلاعات دی تھیں۔

اس صورتحال کا ایک دوسرا پہلو ان کنٹینرز سے متعلق ہے جو ابتدائی طور پر 27 ستمبر کے احتجاج کے پیش نظر سڑکوں پر پہنچائے گئے تھے۔ احتجاج کی تاریخ آگے بڑھنے کے باوجود یہ کنٹینرز بدستور موجود ہیں۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اویس کے مطابق ٹرانسپورٹرز نے انتظامیہ سے درخواست کی تھی کہ کم از کم وہ کنٹینرز واپس کیے جائیں جن میں مال برداری کا سامان موجود ہے، لیکن یہ درخواست منظور نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق گزشتہ 2 ہفتوں سے سرکاری استعمال میں موجود کنٹینرز کے کرائے کی ادائیگی کی تجویز بھی دی گئی تھی، تاہم اس پر بھی تاحال پیش رفت نہیں ہوئی۔

یوں 4 اکتوبر کے احتجاج کی تیاری محض سیاسی جماعت اور حکومت کے درمیان ممکنہ تصادم کا معاملہ نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پولیس فورس، سرکاری تعلیمی اداروں، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور سرکاری اخراجات تک پھیل چکے ہیں۔ ایک طرف حکومت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کو ضروری قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف مذاکرات کا راستہ بھی کھول دیا گیا ہے۔ اگر سیاسی رابطے کے ذریعے احتجاج کے معاملے پر کوئی قابل عمل پیش رفت ہوتی ہے تو پہلے سے کیے گئے بعض انتظامات کی ضرورت اور ان پر ہونے والے اخراجات بھی سوال بن سکتے ہیں؛ لیکن جب تک احتجاج کے روٹ، مدت اور اختتامی مرحلے کے بارے میں واضح منصوبہ سامنے نہیں آتا، حکومت کے لیے سکیورٹی انتظامات کو برقرار رکھنا بھی ایک انتظامی ضرورت کے طور پر موجود رہے گا۔

اصل توجہ اب اٹک پر مرکوز دکھائی دیتی ہے، کیونکہ خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلے کے پنجاب میں داخلے کے لیے یہی علاقہ اہم راستوں میں شامل ہے۔ چنانچہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ اگر اپنے اعلان کردہ مرحلہ وار منصوبے کے مطابق آگے بڑھتا ہے تو اٹک میں موجود ہزاروں اہلکار، رینجرز، کنٹینرز، سڑکوں کی بندش اور سکیورٹی کی تہہ در تہہ حکمت عملی اس پورے سیاسی تنازع کے عملی اثرات کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔ دوسری جانب مذاکرات کی میز پر ہونے والی گفتگو اس بات کا تعین کرے گی کہ یہ وسیع انتظامات عملی طور پر کتنے عرصے تک برقرار رہتے ہیں اور سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فریقین کے درمیان کوئی درمیانی راستہ نکلتا ہے یا نہیں۔

Back to top button