مریم نواز اپنے وزرا سے بھی ون ٹو ون ملاقات سے انکاری کیوں؟

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے 2 سال سے زائد عرصے پر محیط دور حکومت میں صوبے میں متعدد ترقیاتی منصوبے شروع ہوئے، صوبائی کابینہ کے اجلاس جاری رہے اور مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ارکان پنجاب اسمبلی کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی برقرار رہا، لیکن ایک صوبائی وزیر کے دعوے نے پنجاب حکومت کے اندرونی انتظامی طریقہ کار پر ایک اہم سوال کھڑا کردیا ہے۔ صوبائی کابینہ کے ایک رکن کے مطابق حکومت اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے، مگر اب تک کسی صوبائی وزیر کو وزیر اعلیٰ کے ساتھ باقاعدہ ون ٹو ون ملاقات کا وقت نہیں دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزرا اپنے محکموں کے روزمرہ مسائل، انتظامی رکاوٹوں، فنڈز سے متعلق مشکلات اور دیگر حساس معاملات براہ راست وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان پر فوری فیصلہ ہوسکے، تاہم انفرادی ملاقات کا موقع نہ ملنے کے باعث یہ معاملات زیادہ تر کابینہ کے اجتماعی اجلاسوں یا سرکاری فائلوں کے ذریعے ہی سامنے آتے ہیں۔
مریم نواز فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بنیں۔ حکومت سازی کے ابتدائی مرحلے میں مارچ 2024 میں 17 رکنی صوبائی کابینہ نے حلف اٹھایا، جس میں خزانہ، زراعت، آبپاشی، تعلیم، صحت، بلدیات، خوراک، اطلاعات، صنعت، مواصلات اور ٹرانسپورٹ سمیت اہم محکموں کے وزرا شامل تھے۔ مریم اورنگزیب کو سینیئر وزیر مقرر کیا گیا، جبکہ بعد ازاں اکتوبر 2025 میں سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان اور سابق وزیر منشا اللہ بٹ کو بھی صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا۔
اس عرصے کے دوران صوبائی کابینہ کے متعدد اجلاس ہوئے، مختلف پالیسی فیصلے کیے گئے اور حکومت کی جانب سے 100 سے زائد نئے منصوبے شروع کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز مختلف اضلاع کے ارکان پنجاب اسمبلی سے بھی ملاقاتیں کرتی رہی ہیں، ان کے مسائل اور شکایات سنتی ہیں اور مختلف محکموں کے پروگراموں اور سیمینارز میں بھی شرکت کرتی ہیں جہاں متعلقہ وزرا موجود ہوتے ہیں۔
تاہم صوبائی وزیر کے مطابق ان ملاقاتوں کی نوعیت اجتماعی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے ساتھ کسی وزیر کو انفرادی سطح پر تفصیلی گفتگو کا موقع نہیں مل سکا۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے صوبائی حکومت کے انتظامی ڈھانچے میں رابطے کے طریقہ کار پر سوالات پیدا کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں ہر وزیر کو محدود وقت میں اپنے محکمے سے متعلق ایجنڈا پیش کرنا ہوتا ہے۔ ایسے میں بعض معاملات، خصوصاً عملے کے مسائل، فنڈز کی رکاوٹیں، انتظامی اختلافات اور سیاسی دباؤ جیسے حساس موضوعات پر کھل کر گفتگو کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزرا کی جانب سے ان معاملات پر تفصیلی گفتگو کے لیے ون ٹو ون ملاقاتوں کی درخواست بھی کی جاچکی ہے، تاہم اب تک انہیں اس مقصد کے لیے وقت نہیں مل سکا۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ مریم نواز کا شیڈول ترقیاتی منصوبوں، سرکاری اجلاسوں، مختلف اضلاع کے دوروں اور عوامی پروگراموں سے بھرا رہتا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اسی مصروف شیڈول کے باعث وزرا کے ساتھ ضروری معاملات زیادہ تر کابینہ اجلاسوں یا اجتماعی ملاقاتوں میں ہی زیر بحث آتے ہیں اور متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کردی جاتی ہیں۔
یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کابینہ کا اجتماعی نظام ہی تمام انتظامی مسائل کے حل کے لیے کافی ہے یا وزرا کو براہ راست وزیر اعلیٰ کے سامنے اپنے محکموں کی مشکلات بیان کرنے کے لیے بھی باقاعدہ وقت ملنا چاہیے؟ ایک وزیر کے لیے اپنے محکمے کے پیچیدہ مسائل کو محدود وقت میں کابینہ اجلاس کے ایجنڈے پر رکھنا اور پھر ان پر تفصیلی فیصلہ حاصل کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
ذرائع کا مؤقف ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ اور وزرا کے درمیان باقاعدہ انفرادی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو تو ایسے کئی معاملات سامنے آسکتے ہیں جو فائلوں، سمریوں یا کابینہ اجلاس کے مختصر ایجنڈے میں پوری طرح واضح نہیں ہو پاتے۔ ان ملاقاتوں کے ذریعے وزرا اپنے محکموں کے انتظامی مسائل، بیوروکریسی سے متعلق معاملات اور ترقیاتی منصوبوں میں حائل رکاوٹوں پر براہ راست وضاحت پیش کرسکتے ہیں۔
تاہم دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیر اعلیٰ کا براہ راست رابطہ صرف کابینہ تک محدود نہیں۔ مریم نواز ارکان پنجاب اسمبلی اور مختلف اضلاع کے سیاسی نمائندوں سے ملاقاتیں کرتی رہی ہیں اور سرکاری پروگراموں میں وزرا کے ساتھ بھی موجود رہتی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ رابطہ مکمل طور پر غیر موجود نہیں بلکہ اس کی نوعیت زیادہ تر اجتماعی اور سرکاری اجلاسوں تک محدود ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
ماضی میں پنجاب کے بعض وزرائے اعلیٰ کی جانب سے وزرا کے ساتھ باقاعدہ انفرادی ملاقاتوں کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے دور میں وزرا کے ساتھ ون ٹو ون ملاقاتیں کیے جانے کا ذکر ملتا ہے، جبکہ سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دور میں بھی وزرا سے ہر 2 یا 3 ماہ بعد ملاقاتیں کیے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایسی ملاقاتوں میں وزرا اپنے محکموں کے مسائل براہ راست وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھتے تھے اور بعض انتظامی رکاوٹیں اسی سطح پر حل ہوجاتی تھیں۔
پنجاب حکومت کے موجودہ نظام میں بھی اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وزیر اعلیٰ اور وزرا کے درمیان رابطے کا طریقہ کار کتنا مؤثر ہے۔ اگر کابینہ اجلاسوں، سرکاری فائلوں اور اجتماعی ملاقاتوں کے ذریعے تمام مسائل بروقت حل ہو رہے ہیں تو انفرادی ملاقاتوں کی ضرورت مختلف نوعیت کی ہو سکتی ہے، لیکن اگر محکموں کے ایسے مسائل موجود ہیں جو اجتماعی اجلاسوں میں پوری طرح زیر بحث نہیں آتے تو براہ راست ملاقاتوں کا ایک باقاعدہ نظام انتظامی رابطے کو مزید مؤثر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
یوں مریم نواز کے دور حکومت میں کسی صوبائی وزیر سے ون ٹو ون ملاقات نہ ہونے کا دعویٰ محض ایک ملاقات کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے پنجاب حکومت کے فیصلہ سازی کے انداز، وزیر اعلیٰ اور کابینہ کے درمیان رابطے، بیوروکریسی اور سیاسی قیادت کے باہمی تعلق اور محکموں کے مسائل حل کرنے کے طریقہ کار جیسے اہم سوالات موجود ہیں۔ اس دعوے کی آزادانہ سرکاری تصدیق سامنے آنا بھی ضروری ہے، تاہم اگر واقعی 2 سال سے زائد عرصے میں وزرا کو انفرادی ملاقات کا باقاعدہ موقع نہیں ملا تو یہ پنجاب حکومت کے انتظامی طریقہ کار پر ایک قابل غور سوال ضرور بنتا ہے۔
