کراچی کی کوکین کوئین پنکی کو پولیس سزا سے کیسے بچانے لگی؟

کراچی میں کوکین کوئین کے نام سے مشہور انمول عرف پنکی کے خلاف درج مقدمات میں پولیس کی تفتیش اور عدالتی کارروائی ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے انمول پنکی کے خلاف مجموعی طور پر 21 مقدمات عدالتوں میں پیش کیے جا چکے ہیں، تاہم ان میں سے 4 مقدمات ایسے ہیں جن کی تفتیش مکمل ہونے کے باوجود تاحال چالان عدالتوں میں جمع نہیں کرائے جا سکے۔ ان مقدمات میں بعض 7 سال پرانے ہیں، جبکہ عدالتوں کی جانب سے تفتیشی حکام کو آئندہ سماعتوں پر چالان پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق انمول پنکی کے خلاف مجموعی طور پر 21 مقدمات درج کیے گئے، جن میں 19 مقدمات منشیات سے متعلق دفعات کے تحت ہیں، جبکہ ایک مقدمہ قتل بالسبب اور ایک غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی دفعہ کے تحت درج ہے۔ یہ مقدمات 2019 سے 2026 تک مختلف اوقات میں کراچی کے مختلف تھانوں میں درج کیے گئے۔
انمول پنکی کے خلاف 4 مقدمات کی تفتیش مکمل ہونے کے باوجود ان کے چالان عدالتوں میں پیش نہ کیے جانے کی وجہ منشیات کی کیمیکل رپورٹس اور دیگر شواہد مکمل ہونا بتائی جا رہی ہے۔ ان میں بوٹ بیسن، گزری اور دیگر تھانوں میں درج مقدمات شامل ہیں، جو 2019، 2021 اور 2025 میں درج ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق ان مقدمات میں انمول پنکی اس وقت مفرور تھی، تاہم گرفتاری کے بعد اسے ان کیسز میں بھی باقاعدہ گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری ڈالے جانے کے تقریباً 4 ماہ گزرنے کے باوجود چالان عدالتوں میں پیش نہ ہونے پر عدالتوں نے تفتیشی حکام پر برہمی کا اظہار کیا اور آئندہ سماعتوں پر چالان جمع کرانے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب انمول پنکی کے خلاف 14 مقدمات اب ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان مقدمات کی تفتیش مکمل کرکے چالان عدالتوں میں جمع کرائے گئے، جنہیں عدالتوں نے منظور کرنے کے بعد ٹرائل کے لیے سیشن عدالتوں کو منتقل کر دیا ہے۔ ان مقدمات میں منشیات کے کیسز کے علاوہ قتل بالسبب کا مقدمہ بھی شامل ہے۔
پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے چالان میں انمول پنکی کو قصوروار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران اس کے خلاف اہم شواہد حاصل کیے گئے۔ پولیس کے مطابق انمول پنکی کی نشاندہی پر منشیات برآمد کی گئیں اور تفتیش کے دوران اس کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔ چالان میں پولیس نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ملزمہ نے منشیات تیار کرکے مختلف شہروں میں رائیڈرز کے ذریعے فروخت کرنے اور آن لائن ادائیگیاں وصول کرنے کا اعتراف کیا۔ پولیس کے مطابق اس کے پاس سے 850 صارفین کی فہرست بھی برآمد ہوئی۔
تاہم ان دعوؤں کی حتمی قانونی حیثیت کا فیصلہ ٹرائل کے دوران عدالت کرے گی۔ کسی ملزم کے خلاف پولیس چالان میں قصوروار قرار دیا جانا بذات خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا اور عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد، گواہوں اور دیگر مواد کی بنیاد پر ہی حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے۔
انمول پنکی کے خلاف بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے نے بھی تفتیش کے دوران نئی شکل اختیار کی۔ پولیس کے مطابق ایک شخص کی لاش ملنے کے تقریباً ایک ماہ بعد قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی، تاہم بعد میں کیمیکل رپورٹ کی بنیاد پر قتل کی دفعہ ختم کردی گئی۔ پولیس کے مطابق کیمیکل رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ متوفی کی موت نشہ آور مواد کے استعمال کے باعث ہوئی تھی۔ متوفی کی شناخت بھی نہیں ہوسکی اور پولیس کے مطابق ڈی این اے ٹیسٹ بھی ممکن نہیں تھا۔ اسی بنیاد پر انمول پنکی کے خلاف قتل کے بجائے قتل بالسبب کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
ان مقدمات میں انمول پنکی کے ساتھ اس کے بھائی کامران اور مبینہ سہولت کار سہیل، ذیشان سمیر، ناصر، فہد، عمر اور اویس بیگ بھی نامزد ہیں۔ دوسری جانب پولیس اب بھی 6 مبینہ سہولت کاروں کو گرفتار نہیں کرسکی، جن میں 2 خواتین بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق مفرور ملزمان میں فیاض، حمزہ، اعزاز، زید جبکہ 2 خواتین صابرہ اور اینا شامل ہیں۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ ان افراد کی گرفتاری سے تفتیش میں مزید شواہد سامنے آنے کا امکان ہے۔
اگر یہ مبینہ مفرور ملزمان گرفتار نہیں ہوتے تو پولیس انہیں اشتہاری قرار دینے کے لیے قانونی کارروائی کر سکتی ہے۔ اس کے بعد ان کے خلاف مقدمات کے حوالے سے مزید عدالتی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ تاہم اس معاملے میں بھی حتمی فیصلہ متعلقہ عدالتوں کے قانونی عمل کے بعد ہی ہوگا۔
دوسری طرف انمول پنکی کو 3 منشیات کے مقدمات میں عدم شواہد کی بنیاد پر بری بھی کیا جا چکا ہے۔ ان مقدمات کا تعلق گزری تھانے سے ہے۔ انمول پنکی کی جانب سے بریت کی درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کیسز میں نامزد شریک ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے ہیں جبکہ استغاثہ ان کے خلاف مقدمات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ انمول پنکی کو صرف شریک ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر مقدمات میں نامزد کیا گیا تھا۔
عدالت نے ان تینوں مقدمات میں انمول پنکی کی بریت کی درخواستیں منظور کر لیں۔ تاہم پراسیکیوشن نے ان بریت کے فیصلوں کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان مقدمات کا قانونی معاملہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور اعلیٰ عدالت میں اس پر مزید کارروائی ہو سکتی ہے۔
انمول پنکی کو ابتدائی گرفتاری کے بعد پولیس نے 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر اپنی تحویل میں رکھا، جس کے بعد 2 مئی 2026 کو اسے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ دستیاب معلومات کے مطابق وہ اب بھی جیل میں ہے اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اسے متعلقہ عدالتوں میں براہ راست پیش کرنے کے بجائے جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی میں شامل کیا جاتا ہے۔
یوں انمول پنکی کے خلاف قانونی کارروائی اس وقت کئی مختلف مراحل میں جاری ہے۔ 4 مقدمات کے چالان ابھی عدالتوں میں پیش ہونا باقی ہیں، 14 مقدمات ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ 3 مقدمات میں اسے بری کیا جا چکا ہے اور ان بریت کے فیصلوں کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 6 مبینہ سہولت کار تاحال گرفتار نہیں ہوسکے۔ ان تمام مقدمات کا حتمی انجام عدالتوں میں ہونے والی کارروائی اور پیش کیے جانے والے شواہد پر منحصر ہوگا۔
